امریکی جیل میں قید ڈاکٹرعافیہ صدیقی زندہ اور خیروعافیت سے ہے۔ قونصل جنرل

0
30

امریکی جیل میں قید ڈاکٹرعافیہ صدیقی زندہ اور خیریت سے ہے۔ قونصل جنرل

امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان کے قونصل جنرل نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے جیل میں ملاقات کے بعد ان کی خیریت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کوڈاکٹر عافیہ صدیقی کے انتقال کرجانے کی افواہیں گردش کرنے کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے رابطہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی ہدایت کے بعد پاکستانی قونصل جنرل نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کی،امریکی فوجی پر قاتلانہ حملے کے جرم میں 86 سال کی سزا بھگتنے والی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی فیڈرل میڈیکل سینٹر، کارسویل، فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ساڑھے چار سال سے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہیں، عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے آج تک ٹیلیفونک رابطے کا سلسلہ منقطع ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ کپتان بابر اعظم کا جنم دن؛ 28 برس کا ہونے پر آئی سی سی کی مبارک باد
حکومت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے پرعزم. اسحاق ڈار
اعظم سواتی کیخلاف سائبر کرائم کا مقدمہ،جج نے بابر اعوان کو بیٹھنے کا حکم دے دیا

پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی کہانی ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ سے جڑی کہانیوں میں سب سے اہم ہے، جو مارچ 2003 میں اُس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ کے نمبر تین اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر 2003 میں ہی عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔

عافیہ صدیقی کو لاپتہ ہونے کے 5 سال بعد امریکا کی جانب سے 2008 میں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائینائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں، جن سے عندیہ ملتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں’۔

جب عافیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی عہدیداران نے سوالات کیے تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں، جس کے بعد انہیں امریکا منتقل کر دیا گیا جہاں 2010 میں انہیں اقدام قتل کا مجرم قرار دے کر 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Leave a reply