عملی زندگی میں کامیابی کے لیے صرف نمبرات کافی نہیں! تحریر: سید اعتزاز گیلانی

0
34

نمبرات کی دوڑ ہمیں جس طرف لے جا رہی ہے وہاں سامنے اندھا کنواں ہے اور سسٹم اس قابل نہیں کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سامنے لا سکے۔ اور یہ چیز آنے والی عملی زندگی میں طلباء کو محسوس ہوگی جب انکو عملی طور پر کام کرنا ہوگا مگر وہ اپنی صلاحیت کی پہچان نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں پھنس جائیں گے۔ اور اسکے نتائج نظر آنا شروع بھی ہوگئے ہیں کیوں کہ حالیہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں بہت سے نمبروں کے سلطان ڈھیر ہوگئے کیوں کہ انکے پاس ایک محدود حد تک رٹہ تھا جو صرف نمبر لا سکا مگر عملی طور پر وہ کچھ بھی نہ سیکھ سکے اور جب ٹیسٹ میں تصوراتی بنا پر سوال کیے گئے تو جواب دینے سے قاصر رہے، اور یہی چیز پھر آگے چل کے اُنکو عملی زندگی میں مشکل میں ڈال دیتی ہے اور پھر طلباء ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ بطور یونیورسٹی اسٹوڈنٹ میں اس چیز کو محسوس کر رہا ہوں  کیوں کہ نمبر میرے بھی اپنے وقت میں بہت اچھے تھے میں بھی بہت خوش تھا اور ہر طرف نمبروں کا ہی چرچا تھا اور یہی چیز اب بھی ہے نمبر ہم پر نفسیاتی طور پر اس قدر حاوی ہیں کہ ہم انہی کی خاطر دوڑ میں لگے ہیں اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں کیوں والدین ، اساتذہ اور رشتے دار یہ بچوں کی ذہن سازی ہی ایسی کر رہے ہیں کہ وہ پھر سب چیزیں بھول کر صرف اچھا اسکور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس اسکور میں رٹہ ہوتا ہے جو صرف مخصوص وقت تک رہتا ہے۔ میں خود سائنس کا طالب علم ہوں اور ابھی یونیورسٹی سطح پر ہوں اور با خوبی سمجھ چکا ہوں کہ میں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے پایا تو خیر کچھ نہیں مگر اب کوشش میں لگے ہیں کہ کچھ حاصل ہو جائے۔ میری عزیز طلباء سے یہی گزارش ہے کہ بس کوشش کریں کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کریں اپنے تصوارت اور مشاہدات کو وسیع کرتے جائیں اگر ابھی سے آپ ایسا کریں گے تو جب آگے جائیں گے تو خود کو جلد کامیابی کی طرف لے جا سکتے ہیں اور جب آپ یونیورسٹی میں آئیں گے تو آپکو آسانی ہوگی۔ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور لوگ ڈیجیٹل زون کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پیسہ بھی اسی طریقے سے کمانے کی کوشش میں ہیں۔ اب تو حکومتی سطح پر بھی ایسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جہاں انٹرنیٹ کے ذریعے آنلائن پیسے کمانے کی طرف رجحان کو بڑھایا جا سکے۔ یونیورسٹی سطح پر پہنچ کر کم سے کم ایک طالب علم کو یہ احساس ضرور ہونا ضروری ہے کہ وہ اب عملی زندگی میں داخل ہو چکا ہے اور آنے والے وقت میں اس نے بہت سے زمہ داریاں اٹھانی ہیں اور ایسے ایک طالب علم کو اپنی سکلز کو کو بڑھانے کے بہت ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ خود کو مالی طور پر خود کفیل بھی بناتا جائے۔ کیوں کہ یونیورسٹی سے آپکی عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ اور یہاں آپکو صرف گائیڈ کیا جائے گا آپ پر اسکول اور کالج کی طرح سختی نہیں ہوتی یہاں وہی چل سکتا ہے جس کو سیکھنے کا شوق ہوگا۔ وہ طالب علم جو یونیورسٹی کی سطح پر خود کو تیار کرنا شروع کر دیتا ہے اور حالت کے تقاضے سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو ترتیب دیتا ہے وہ جب اپنی تعلیم سے فراغت حاصل کرتا ہے تو پھر معاشرہ اسے خوش آمدید کہتا ہے اس کے پاس حالت سے نپٹنے کی سکت زیادہ ہوتی ہے ، اور دوسری اہم چیز اُسکے تصورات اور مشاہدات اس قدر وسیع ہو چُکے ہوتے ہیں کہ موجودہ صورت حال کے مطابق تمام مسائل کے حل نکال کر لے آتا ہے۔ اسلئے بطور یونیورسٹی طالب علم میں اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر آپ سے یہ سب کہہ رہا ہوں اس پر غور لازمی کیجئے گا میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جب آپ یونیورسٹی میں جائیں گے تو آپ ان سب چیزوں کو ہوتا دیکھیں گے۔ اسلیے میں اسے اپنا فرض سمجھتا تھا کہ آپ کو ایک اچھا مشورہ دوں اور آپکو اپنے مستقبل کے حوالے سے کچھ آگاہی بھی ہو جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آپکی دعاؤں کا طالب

TA: @AhtzazGillani

Leave a reply