fbpx

یورپ میں کورونا سے مزید7 لاکھ اموات کا خدشہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے وارننگ جاری کردی

پیرس :یورپ میں کورونا سے مزید7 لاکھ اموات کا خدشہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے وارننگ جاری کردی،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مارچ 2022 تک یورپ میں کورونا وائرس سے مزید 7لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے حالیہ عرصے میں یورپ میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر یہی صورت حال رہی تو مارچ 2022 تک وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ کر 22 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافے کے باعث اسپتالوں کے خصوصی نگہداشت کے شعبوں پر دباؤ میں اضافےکا بھی خدشہ ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں یورپ میں کورونا کیسز میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ اور آسٹریا میں متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد حکومتوں کی جانب سے نئی پابندیاں بھی لگائی جارہی ہیں۔

ادھر ذرائع کے مطابق آسٹریا ، آسٹریلیا،بلجئیم اور دیگریورپین ملکوں میں کورونا کیسز میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے

اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے نئی کووڈ پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ، سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ادھر آسٹریلیا میں بھی مظاہرے جاری ہیں‌

تفصیلات کے مطابق ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں نئی کوویڈ پابندیوں کے خلاف مظاہروں کے دوران فسادات پر پولیس کی جانب سے انتباہی گولیاں چلائی گئی جس کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پولیس افسران بھی شامل ہیں، ملک بھر سے یونٹس کو کو روانہ کردیا گیا ہے۔

پرتشدد اور بدامنی کا آغاز کچھ ڈچ شہریوں کی جانب سے کیا گیا جو کووڈ کی ویکسین نہ لگوانے والے افراد کے خلاف پابندیوں پر باہر نکلے تھے۔

فسادات کے آغاز میں پولیس نے واٹر کینن کی مدد سے سینکڑوں مظاہرین کو منتقل کرنے کی کوشش کی جبکہ پولیس افسران نے روٹرڈیم میں ہنگامی صورت حال کا آرڈینس جاری کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا اور لوگوں کو گھر جانے کا حکم دیا۔

روٹرڈیم پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے اور امن بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امن عامہ کی بحالی کے لیے پولیس کی زیادہ سے زیادہ تعیناتی ضروری ہے۔ ایمرجنسی آرڈر ابھی بھی نافذ ہے۔

پولیس کی ترجمان پیٹریشیا ویسلز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ “ہم نے انتباہی گولیاں چلائیں اور براہ راست گولیاں بھی چلائی گئیں کیونکہ صورتحال جان لیوا ہوگئی تھی۔

ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ انتباہی گولیوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن ہمیں اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

حکومت کے مطابق وہ ایک ایسا قانون متعارف کروانا چاہتے ہیں جس سے کاروباروں کو ملک کے کورونا وائرس پاس سسٹم کو صرف ان لوگوں تک محدود رکھنے کی اجازت ملے گی جو مکمل طور پر ویکسین لگوا چکے ہوں اور کوویڈ 19 سے صحت یاب ہو چکے ہیں یا پھر ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کا ٹیسٹ منفی آیا ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان پراللہ کا خصوصی کرم ہوا ہے اوربہت زیادہ آبادی بہت کم وسائل کے باوجود پاکستان اس بیماری سے باہرنکلنے میں‌ کامیاب ہوگیا ہے