fbpx

آرمی چیف کا کوہ پیما علی رضا سدپارہ کےانتقال پراظہار افسوس

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوہ پیما علی رضا سدپارہ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوہ پیما علی رضا سدپارہ کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے۔

 

 

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ علی رضا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔کوہ پیما علی رضا سدپارہ انتقال کر گئے

 

تفصیلات کے مطابق 66 سالہ کوہ پیما علی رضا پہاڑ سے گر کر زخمی ہونے کے باعث گزشتہ کچھ دنوں سے ریجنل اسپتال میں زیرعلاج تھے۔کوہ پیما علی رضا سدپارہ 1986 سے کوہ پیمائی کے شعبے سے وابستہ رہے اور انہیں رواں سال کے ٹو کی مہم جوئی پر جانا تھا۔علی رضا سدپارہ نے 8 ہزار میٹر سے بلند چار چوٹیوں کو 16 بار سر کیا تھا۔

 

 

 

 

 

 

پاکستان کے نامور کوہ پیما علی رضا سدپارہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 56 برس کی عمر میں اسکردو میں انتقال کرگئے۔

علی رضا سدپارہ 17 مئی کو پہاڑ سے پھسل کر کھائی میں گرنے کے بعد شدید زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد انہیں اسکردو کے ضلعی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ کئی روز سے زیر علاج تھے۔

گرنے کے سبب علی رضا سدپارہ کی ریڑھ کی ہڈی اور پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں اور گہرے زخم آئے تھے جن کے سبب وہ جمعہ (آج) کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

علی رضا سدپارہ اس موسم گرما میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘ سر کرنے کا ارداہ رکھتے تھے، ان کی نماز جنازہ اسکردو کے گاؤں اولڈنگ میں ادا کی جائے گی۔

 

کوہ پیما علی رضا نے اپنے کیریئر کا آغاز 1986 سے کیا، انہیں پاکستان کی 8 ہزار میٹر سے زائد بلند چوٹیوں کو 17 بار سر کرنے کا اعزاز حاصل تھا، جن میں 8 ہزار 47 میٹر اونچی چوٹی براڈ پیک، 8 ہزار 35 میٹر اونچی چوٹی گاشبرم ٹو، 8 ہزار 68 میٹر اونچی چوٹی گاشبرم ون اور 8 ہزار 125 میٹر اونچی نانگا پربت شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے سیا کنگری، بلتورو کنگری اور اسپانٹک چوٹیوں کو بھی سر کیا، علی رضا سدپارہ نے نامور کوہ پیما مرحوم علی سدپارہ، حسن سدپارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کو تربیت بھی دی تھی۔

علی رضا سدپارہ کے انتقال پر کوہ پیماؤں، سیاست دانوں، صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین نے سوگوار خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور کوہ پیمائی کے میدان میں ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے، انہوں نے ایڈوینچر سیاحت کے فروغ کے لیے علی رضا سدپارہ کی کاوشوں کو بھی سراہا۔