fbpx

آزاد کشمیر انتخابات تحریر : محمد حماد


آزاد کشمیر کی عوام ۲۵ جولائی بروز اتوار آزاد کشمیر کی گیارہویں قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا انتخاب کرے گی۔ ان انتخابات میں ۳.۲ ملین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں ۱.۷۵ ملین مرد ووٹرز جبکہ ۱.۴۶ ملین خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ۳۲ سے زائد سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں جن کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

وزیراعظم عمران خان، بلاول بھٹو، مریم نواز سمیت تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین نے انتخابات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے خود انتخابی مہم چلائی اور جلسوں سے دھواں دار خطابات کئے۔ ان جوشیلی تقریروں نے نہ صرف انتخابی ماحول کو مزید گرمایا بلکہ انتخابی وعدوں نے عوام میں ایک نئی امید کو بھی جنم دیا کہ شاید توقعات کے برعکس اس بار یہ وعدے عملی شکل بھی اختیار کریں۔

انتخابی وعدوں کے ساتھ ساتھ تقاریر میں ایک افسوسناک چیز بھی دیکھنے میں آئی۔ ایک بار پھر مودی کے یار اور غداری کے نعرے انتخابی جلسوں کی زینت بنے۔ سرحد پار کشمیریوں کی آواز بننے اور انھیں اتحاد و اتفاق کا پیغام دینے کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے کشمیر کا سودا کرنے اور کشمیر بیچنے کے الزامات لگائے گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ سیاسی قیادت کو چاہئے کہ زاتی و سیاسی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دے کیونکہ خدانخواستہ ملک کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ سیاست بھی نہیں رہے گی۔

بہرحال اب فیصلہ عوام کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ کن امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہمیں دعاگو رہنا چاہئے کہ آزاد کشمیر کے لوگ بہترین نمائندوں کا انتخاب کریں اور انتخابی جلسوں میں کئے گئے وعصے حقیقت کا روپ دھاڑیں۔


Muhammad Hammad

Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer ,Find out more about his work on  Twitter  account