عمران خان کی جگہ کن ناموں پر غور ہو رہا ہے؟ ہارون الرشید کے اہم انکشافات ،مبشر لقمان کے ہمراہ

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا نام آج میرے ساتھ ہے، صحافی برادری میں بڑی قدر سے انکو دیکھا جاتا ہے، سینئر تجزیہ کار اور قلم کار ہیں، انکے پاس اندر کی خبریں ہوتی ہیں، آج ہمارے ساتھ ہارون الرشید موجود ہیں

مبشر لقمان نے سینئر صحافی ہارون الرشید سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جگہ وزیراعظم کے ناموں پر غور ہو رہا ہے، کون کون نام ہیں شاہ محمود کے علاوہ، سوال کے جواب میں ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ شاہ محمود کے علاوہ میاں محمد سومرو اور اسد عمر ،مگر غور ہو رہا ہے فیصلہ نہیں ہو رہا،مبشر لقمان نے سوال کیا کہ فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا اگر غور کی نوبت آ گئی ہے

جس کے جواب میں ہارون الرشید نے کہا کہ عوامل ہیں ، ایک کرونا ہے، دریا میں گھوڑے نہیں بدلے جا سکتے، دوسرا یہ کہ اس کی جگہ لائیں کس کو ،تحریک انصاف کا کارکن تو نہیں مانے گا،پیپلز پارٹی کے لوگ بھی ناراض ہوں گے، کہتے ہیں فوج ہماری حفاظت کرتی ہے اور وہ جو بھی کرے، ناگوار بھی ہو تو بعض اوقات برداشت کر لیتی ہے،دہشت گردی سے ہمارا ملک فوج نے بچایا، فلسطین،لیبیا، شام نہیں بنا تو گوارہ تو کر لیتی ہے، لیکن ناخوش تو لوگ ہوں گے، پہلے بھی کئی لوگ ناخوش ہیں،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بزدار جیل جائے گا کہیں اور نہیں جائے گا؟ اسکا کیا مطلب ہے؟ جس کے جواب میں ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ مشہور آدمی ہے،اس طرح تو مشہور نہیں کہ وہ کوئی جرنلسٹ، یا سیاسی ورکر کے طور پر ہو، لیکن لاہور کے سب صحافی اسے جانتے ہیں، زمین پر قبضہ کروانے کی کوشش کرتے ہیں، ایک بیرسٹر کی زمین پر قبضے کی کوشش کی گئی، وہاں کا جو ڈی پی او ہے وہ ذمہ دار ہے اوربزدار صاحب کا بھائی اسکی سپورٹ ہے شبی ٹھیکیدار ہے، وہ بھی اپنی من مانی کر رہا ہے، ایسی صورتحال ہے جس میں پولیس افسر ملوث ہو اور اسکو سپورٹ وزیراعلیٰ کی ہو تو ظاہر ہو کہ آئی بی والے نہ اندھے ہیں ہماری اور آپکی دو دو آنکھیں ہیں انکی دو سے زیادہ ہوتی ہین، اور بھی ایجنسیاں ہیں، تونسہ کے اخبار نویسوں کو تو یہ دھمکا سکتے ہیں لیکن یہاں تو ایس انہیں کر سکتے.

مبشر لقمان نے ہارون الرشید سے مزید سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف چینج کی بات ہو رہی ہے دوسری طرف آصف زرداری کے وارنٹ،نواز شریف کا انٹرپول میں نام جا رہا ہے تو چینج میں ساتھ کون دے گا، جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ چینج میں ساتھ دینا بہت ہی بڑا سوالیہ نشان ہے، آپ نے بڑا زبردست سوال کیا، دوسرے عوامل بھی حق میں نہیں، اسکی قبولیت بھی مشکل ہے، مارشل لا کا بھی کوئی خطرہ نہیں، آدمی کا تجزیہ ہوتا ہے، ہم اندازے لگاتے ہیں، غیب کا علم تو صرف دو تین صحافیوں کو ہوتا ہے ہم اس میں شامل نہیں، حالات چینج کے لئے سازگار نہیں ہیں، ہم نے نکال لیا، حکمرانوں کو برطرف کیا تو کیا ملا؟ بے نظیر، نواز شریف ، پھر بے نظیر پھر نواز شریف کو نکالا، کیا ملا، جو چیز حالات میں خرابی پیدا کرتی ہے وہ اور عوامل ہیں، ایک ملک میں پولیس، عدالت ٹھیک نہیں، ایف بی آر لٹیروں کا گروہ ہے تو جتنے مرضی آپ بدل لیں حالات ٹھیک نہیں ہوں گے جب تک سول ادارے ٹھیک نہیں ہوتے

مبشر لقمان نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ابھی پتہ چل رہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں سندھ حکومت نے شاید 6 صفحات غائب کر دیئے ہیں ان میں کیا تھا ، جس کے جواب میں ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ ستر ہزار بوریاں گندم کی غایب کر سکتے ہیں، 6 صفحات انکے لئے کیا معنی رکھتے ہیں، دنیا جانتی ہے کہ پی پی کے لوگوں کا وہ آدمی تھا اسنے زرداری کے لئے کام کیا، شرمیلا فاروقی کی بھی ملاقات ہوئی اور بہت سی لوگوں کی ملاقات کی تصویریں، ویڈیو موجود ہیں، اس میں کیا تھا مجھے نہیں معلوم،اسکے بیانات موجود ہیں، اسکو رکھا اسلئے ہوا ہے کہ اسکی ضرورت ہے، کیا ضرورت ہے،یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے ، وہ ایران آتا جاتا رہا ہے،اور اس نے اور بہت ساری چیزیں ہیں کس وقت اس کو سر عام لانا چاہتے ہیں یہ اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے ہم نہیں جانتے

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگ بہت دکھی ہیں گورننس سے بھی اور اکانومی سے بھی، جب اکانومی اور گورننس بہتر نہ ہوتو تبدیلی تو عنقریب آتی ہی ہے کہ چھ مہینے لے یا سال لے،آپ اس سے متفق ہیں کہ اس حکومت نے ڈس اپوائنٹ بہت کیا سپورٹر کو جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ اس حکومت نے سپورٹر کو ڈس اپاؤنٹ کیا اور تبدیلی بھی آ سکتی ہے، چھ مہینے، سال بعد کیا ہو گا یہ غیب کا علم ہے، اللہ کے پاس غیب کا علم ہے، اہل اخبار میں اہل کشف دو تین ہی ہیں، پریشانی ہے جو لوگ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے میں جاتا رہتا ہوں لوگوں کے پاس جن پر غیر معمولی بھروسہ کیا جا سکتا ہے جن کی سوجھ بوجھ ، دیانت، حب وطن پر بات نہیں کی جاسکتی، پاکستان ہمارا ملک نہیں ،اللہ ااور اسکے رسول کا ملک ہے، اسکا بگڑنے والا کچھ نہیں،یہ طوفانوں میں گھرا رہے گا کیونکہ ہم سول ادارے نہیں بنا رہے، نظام عدل نہیں قائم کر رہے، نظام عدل کے بغیر نظام مستحکم نہیں ہو سکتا، تھانے میں، کچہری میں ظلم ہے، ہر کہیں ظلم ہے،یہ نہیں ہے کہ عمران خان اسکا خاتمہ کرین گے،عمران خان نے خیبر پی کے میں پٹواری کا مسئلہ حل کیا تھا ، بلدیاتی نظام بہتر کیا تھا تبھی تو سیٹیں 33 سے 65 ہو گئی تھیں

بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی

بڑے گھر سے خبر آ گئی، کوئی مائنس ون نہیں ہونے والا، سنیے اہم انکشافات مبشر لقمان اور کاشف عباسی کی زبانی

ڈارک ویب کی پراسرار دنیا، اہم انکشافات ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

قاتل گاڑیاں سڑکوں پر، مبشر لقمان نے‌ آواز اٹھائی تو شہریوں نے دعائیں دیں

مڈٹرم الیکشن اور مائنس ون، اصل حقیقت کیا؟ قمر الزمان کائرہ نے سب بتا دیا

مبشر لقمان کے ناکارہ گاڑیوں کے خلاف کئے گئے پروگرامز نتیجہ خیز ثابت ہوئے، گاڑیوں کا معیار کچھ بہتر ہوا ہے، قمر الزماں کائرہ

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑی اچھی بات ہے لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ بی آر ٹی ابھی تک بن رہی ہے پشاور میں، جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ وہ نااہلی کی وجہ سے، نیت ٹھیک تھی،وہاں نیت ٹھیک راستہ ٹھیک تھا، آدمی بھٹک جاتا ہے آندھی بارش میں، لیکن بحرحال وزیراعلی ایک ایسا شخص تھا جو خامیوں کے باوجود کام میں لگا رہتا تھا، اگر کوئی اچھے کام کرتے ہیں تو اسکا نتیجہ تو نکلے گا

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ نے کہا کہ اہل علم، اہل دانش کے پاس آتے جاتے رہتے ہین تو ہندوستان کے بارے میں کیا خبریں ہیں کہ چین کے ساتھ کشیدگی بڑھے گی یا ختم ہو جائے گی ، جس پر ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ وہ تو اس موضوع پر ایک صاحب سے بات ہوئی جو پاک آرمی سے ریٹائرڈ ہیں اور انکو پاک آرمی کا برین کہا جاتا ہے،اوروہ نہیں چاہتے کہ انکا نام لیا جائے،اور بھی کچھ لوگ ہیں جو غور خوض سے انٹرنیشنل میڈیا دیکھتے ہیں، کشیدگی تو ختم ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ چین نے ایک جگہ پر موو نہین کیا، چین نے نیپال،ہانگ کانگ اور یہاں بھی موو کیا،جب انہوں نے یہ کہا کہ اکسائے چین بھی ہم لے لیں گے جو 65 میں چین نے لے لیا تھا اور گلگت پر بھی بات کی تو اسکا یہ مطلب ہے کہ سی پیک نہیں چلنے دیں گے، یہ بڑی بات ہے، جتنی بساط آدمی کی نہ ہوتو بات نہیں کرنی چاہئے، ایکآدمی چھ فٹ اور ایک بارہ فٹ سے چھلانگ لگا سکتا ہے،

بھارت پاکستان پر کب حملہ کر یگا؟ مودی جلد چین کے پیر پکڑ لے گا،جنرل ر نعیم خالد لودھی کے مبشر لقمان کے ہمراہ اہم انکشافات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.