fbpx

کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی طیارہ حادثہ، دہشت گردی کا واقعہ تو نہیں اس پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں

سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر جہاں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کوتاہیوں کو سامنے لایا ہے وہیں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں ایک آزادنہ ایجنسی نے تحقیق شروع کر دی ہے کہ کیا یہ دہشت گردی کا واقعہ تو نہیں تھا. ٹی وی پر جو انٹرویوز آ رہے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں، فرسٹ افسر کا بھائی انٹرویو دے دیتا ہے کہ میرے بھائی کو تو شہادت کا شوق تھا اور وہ شہید ہونا چاہتا تھا اور وہ روزے کی حالت میں تھے، ذمہ داری اپنی پوری کردی،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پائلٹ کے والد عجیب سی باتیں بتا رہے ہیں کہ پائلٹ فلائٹ سے قبل آئے اور بیوی کو اور سب کو 5 ، 5 ہزار عیدی دی ، پھر وہ واپس آئے اور اپنی بیوی کو زیادہ عیدی دی،اور وہ نماز ،روزے کے پابند تھے، وہ آدمی عیدیاں دے رہا ہے حالانکہ اس نے عید تک لاہور واپس آ جانا تھا،،یہ جمعہ کا واقعہ ہے اور عید اتوار کو متوقع تھی، ان بھائی صاحب نے اسی فلائٹ کو کراچی سے لاہور روزے سے پہلے واپس لے کر آنا تھا،افطاری سے پہلے اس نے لینڈ کرنا تھا ،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں کیا ایک اس تحقیق کو کیا جا سکتا ہے کہ پائلٹ کے جو ملنے والے ہیں انکے فون ریکارڈ اور انکے گھر میں لیپ ٹاپ کمپیوٹر کو تحویل میں لیا جاتا اور اس پر تحقیق ہوتی، کیونکہ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے اور سو افراد کی موت ہوتی ہے، آپ زیرو انٹیلی جنس پر چلتے ہیں، تحقیق کرنے لگیں تو کچھ نہیں پتہ، ہر ایک سائیڈ سے اور جو شواہد مل رہے ہوتے ہیں اس کو شامل کر لیتے ہیں، جہاز فضا میں پھٹ گیا، اس میں ایئر ٹریفک و دیگر کیا کہتے ہین، کیا جہاز کا انجن گر گیا؟ ساری بات کو دیکھتے ہیں کہ کیا کیا ہو سکتا ہے لیکن یہاں پر ایک واٹس ایپ گروپس میں اے ٹی سی کی بات چیت پائلٹ کے ساتھ شیئر ہوتی ہے،ڈی جی سول ایوی ایشن کس قسم کی ایکٹوٹیز میں ملوث ہیں؟ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے کئی ڈائریکٹر کے کردار پر یا انکے ایس او پیز توڑنے پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوالیہ نشان یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے اسے کیوں نہیں کہا کہ تم کلیئر نہیں ہو، اور پھر اس کو ٹاور کے حوالے کیوں نہیں کیا،جب وہ نیچے آ گیا تھا، کیا اسکو اپنا کام نہیں آتا تھا، کیا وہ اسوقت کچھ اور کر رہا تھا ، کیا اس کو بھی روزہ لگ رہا تھا،تحقیقات جب ہوتی ہیں تو یہ بڑی دردناک بات ہے کہ کسی کو بھی نہیں چھوڑنا چاہئے، کسی کا بھی نام آ رہا ہے، جس کا بھی لنک بنتا ہو اس سے تحقیق ہونی چاہئے،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعہ سے جس کا بھی لنک بنتا ہے اس حوالہ سے ہرچیز ڈاکیومنٹ ہوتی ہے اور چارج شیٹ بننا شروع ہو جاتی ہے، کیا پائلٹ پر چارج شیٹ کی گئی،اس نے اے ٹی سی کے احکامات کو نظر انداز کی، کیا اے ٹی سی پر چارج شیٹ بن گی اس نے وائس ریکارڈنگ کو لیک کیا، کیا سول ایوی ایشن کے تمام ڈائریکٹرز اور ڈی جی پر کرمنل چارج ہو گئے کہ انہوں نے اس چیز کا نوٹس نہیں لیا کہ یہ چیز کیسے باہر گئی، یہ کسی اور کے اختیار میں نہیں تھا

واضح رہے کہ 22 مئی کو قومی ائیر لائن کی لاہور سے کراچی جانے والی پرواز ائیرپورٹ سے ملحقہ آبادی پر گر کر تباہی کا شکار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں عملے کے 8 ارکان سمیت 97 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ 2 مسافر زندہ بچ گئے تھے

وزیراعلیٰ پنجاب کا طیارہ حادثے میں بچ جانیوالے ظفر مسعود سے رابطہ

طیارہ حادثہ، امریکی شہری بھی تھا طیارے میں‌ سوار، امریکی محکمہ خارجہ کی تصدیق

طیارہ حادثہ،سول ایوی ایشن نے رن وے کی انسپکشن رپورٹ تیار کرلی

طیارہ حادثے میں سیکرٹری ایم پی ڈی ڈی خالد شیر دل کی وفات پرصوبائی وزیر حسین جہانیاں کا اظہار افسوس

طیارہ حادثہ، جناح میں 66 میتوں کا پوسٹ مارٹم مکمل،فرانزک ڈی این اے لیب کو کتنے نمونے ہوئے موصول؟

طیارہ حادثہ، وزیراعظم کی ہدایت پر لواحقین کیلئے رقم بڑھا دی گئی

کیا اس کرنل کا بھی کرنل کی بیوی جتنا چرچا ہوگا ؟

طیارہ حادثہ، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری، کتنے گھر ہوئے تباہ،اعدادوشمار جاری

طیارہ حادثہ،پی آئی اے کی 7 رکنی تحقیقاتی ٹیم کا جائے وقوعہ کا دورہ

طیارہ حادثہ ،چئیرمین قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے انکوائری کیلئے اضافی نکات بھیج دیئے

تمام طیارہ حادثات کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم ، حکومت انصاف کے تمام تقاضے پورے کرے گی،وزیراعظم

واضح رہے کہ لاہور سے کراچی جانیوالی خصوصی پرواز پی کے 8303 منزل پر پہنچنے سے ایک منٹ قبل حادثے کا شکار ہو گئی،، پی آئی اے کا طیارہ ائیر بس اے 320 کراچی ائیر پورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا۔

طیارے میں عملے سمیت 99 افراد سوار تھے جاں بحق ہونے والے 97 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے ہیں، پی آئی اے کے طیارے ائیر بس اے 320 نے دوپہر ایک بج کر 10 منٹ پر لاہور ائیر پورٹ سے اڑان بھری، اس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے، 2 بج کر 37 منٹ پر کراچی ائیر پورٹ کے رن وے سے متصل آبادی ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں طیارہ گر کر تباہ ہوگیا،

طیارہ گرنے کے واقعہ پر تحقیقات جاری ہیں، وزیراعظم عمران خان نے شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے، فرانس کی 11 رکنی ٹیم بھی پاکستان میں ہے، جو تحقیقات کر رہی ہے.