عمران خان کی حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان اور مرتضی علی شاہ کی زبانی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی خبریں آ رہی ہیں ہر قسم کی،کوئی اسمبلی میں بات کرتا ہے تبدیلی کی،کوئی آٹے کی،کوئی شوگر کی، کوئی فیول کرائسز کی بات کرتا ہے، اب تو فیول کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں،یوکے سے آج مرتضیٰ علی شاہ ہمارے ساتھ ہیں جو جیو کے وہاں‌ نمائندہ خصوصی ہیں

مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ آپ کو یاد ہو گا کچھ عرصے پہلے سینیٹ کے الیکشن تھے اور اسوقت بات تھی کہ شاید کوئی انقلاب آئے گا لیکن جس طرح سینیٹ کے الیکشن ہوئے اور ڈسپلن دیکھا گیا وہی ڈسپلن بجٹ میں بھی سامنے آئے، 2018 کے الیکشن کے بعد سیٹ اپ کو اداروں کی سپورٹ حاصل ہے اور آنے والے دنوں میں بھی سپورٹ حاصل رہے گی، بجٹ پاس ہوا کسی کے ذہن میں تھا کہ بجٹ پاس نہیں ہو گا یا وزیراعظم کے لئے کوئی مشکل ہو گی تو یہ تو خام خیالی تھی،اپوزیشن نے جتنا بھی شور مچایا وہ ٹھیک تھی انکویہی کام کرنا ہے ،بجٹ کے پاس ہونے میں کچھ مشکلات ہونی تھیں لیکن جو ڈسپلن پہلے نظر آیا تھا وہی نظر آیا، ایک ماحول بنا ہوا تھا کہ شاید کچھ ہونے جا رہا ہے،

مرتضیٰ علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ بجٹ میں لوگوں کے لئے مشکلات آنے والی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، اگر خطرہ ہے تو سب سے بڑی پوزیشن اسکی کارکردگی ہے، حکومت اپوزیشن ،میڈیا کی وجہ سے نہیں بلکہ کارکردگی کی وجہ سے پریشان ہے، کچھ ڈلیوری نہیں ہو سکی، حکومت کے لئے وہ سٹیج پہنچ چکی ہے، ریڈ لائن کراس ہو چکی ہے،کہا جاتا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے یہ کیا، اب پی ٹی آئی کی حکومت کے اپنے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ٹھیک ہے ماضی کے حکمرانوں نے جو کیا، آپ بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں، بجٹ پاس ہو گیا، لگتا ہے اگلے سال کا بجٹ بھی پاس ہو جائے گا، حکومت کے و وعدے تھے، ایم این اے اور وزیر بھی بات کر رہے ہیں فواد چودھری، غلام سرور کہہ چکے ہیں کہ ہم نے زیادہ وعدے کر لئے تھے، اب لوگ سوال پوچھ رہے ہیں انکو اسوقت وعدے کرتے وقت دیکھنا چاہئے تھا،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مسئلہ ایک اور ہے،میں پی ٹی آئی کا سپورٹر رہا ہوں، برملا کھلے عام کہہ رہا ہوں کہ کل بھی میرے پاس تحریک انصاف کے دو وزرا ذاتی حیثیت میں آئے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ دو سال میں ہم ایک بھی پروجیکٹ نہیں لا سکے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ صرف قرضہ اتارنا کافی نہیں، ایک بھی پروجیکٹ شروع نہیں ہوا،ایک چیز سامنے نہیں ہے، یہ لوگوں کے پاس کیا کہیں گے؟

مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ دو سال ہو گئے ہیں اور لوگوں نے شائد حکومت نے جتنا ٹائم دیا اسکی تاریخ نہیں ملتی، انکو اور بھی ٹائم ملے گا اور ملنا چاہئے ،مینڈیٹ پورا ہونا چاہئے، دو سال میں رپورٹ کارڈ کیا ہے، کرونا کی وجہ سے پروازیں رکی ہوئی ہیں اس سے پہلے پی ٹی آئی کی بزنس کمیونٹی کے لوگ یوکے کا وزٹ کرتے تھے، میں چار پانچ لوگوں سے ملا جنہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہاں بزنس سیو ہے، ہم نے ووٹ دے دیئے لیکن وہاں انویسٹ نہیں کر سکتے، اگر اکانومی بہتر چلتی ہے، گورننس بہتر چلتی ہے تو عمران خان کو اگلے بیس سال تک کوئی مسئلہ نہیں ہو گا

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپ پر سخت الزام لگانے لگا ہوں، جیو، جنگ بلکہ تمام میڈیا پر، مجھے یہ ایڈوانٹج ہے کہ جاب میرے پاس نہیں، کسی کے ساتھ منسلک نہیں، میں سوال پوچھ سکتا ہوں، جو بی آر ٹی پراجیکٹ کے پی میں سات سال پہلے شروع ہوا تھا اسکا پتہ نہیں چلتا کہ ختم ہونا ہے یا نہیں،اسکا بجٹ ختم ہونا یا نہیں لیکن سونے پہ سہاگہ، جیو، نوائے وقت،ڈان سب میڈیا کو لے لیں بی آر ٹی اگر پیپلز پارٹی کا پروجیکٹ ہوتا تو اس پر کتنے پروگرام، اور کالم آ گئے ہوتے ،آپ لوگ چپ کیوں ہیں کیا حکومت نے آپ کو لفافہ دے دیا ہے

اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

وزیراعظم کا عزم ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ری سٹکچرنگ کرنی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی

860 پائلٹ میں سے 262 ایسے جنہوں نے خود امتحان ہی نہیں دیا،اب کہتے ہیں معاف کرو، وفاقی وزیر ہوا بازی

کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ بڑا اچھا سوال پوچھا ہے،مجھے سب سے زیادہ خوشی یہ ہے کہ یہ سوال آپ پوچھ رہے ہیں، آپ بتائیں کہ 105 دن سے زائد ہو گئے ہیں جنگ اور جیو کے ایڈیٹرانچیف کو حکومت اور نیب نے ایسے کیس میں پکڑ کر اندر کیا ہوا ہے جو چالیس سال پرانا ہے جس کے کوئی سر پیر نہیں حکومتی لوگ کہتے ہیں کہ اس میں سوائے انتقام کے کچھ نہیں اسکا مقصد کیا ہے،

مرتضیٰ علی شاہ نے مبشر لقمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بھی پچھلے دنوں بات کی تھی کہ اس میں زیادتی ہو رہی ہے، صرف اور صرف میڈیا کو ڈرانا مقصد ہے،اور یہ کہ میڈیا سوالات نہ پوچھے، کچھ شو ہوئے جو احتساب پر ہوئے، بی آر ٹی پر دیگر منصوبوں پر پروگرام ہونے چاہئے، بی آر ٹی پر شاہزیب خانزادہ نے پروگرام کئے، سلیم صافی نے کالم لکھے،جو بنیاد بنے پوری اس حکومت کے اس منصوبے کے کہ جنگ اور جیو کو فکس کرنا ہے ، اور پھر میر شکیل الرحمان کو بند کر دیا ، کہ وہ اب چوبیس گھنٹے حکومت کی پی آرز چلائیں،

مرتضیٰ علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 70 سال ایک بندے کی عمر ہے اور جس طرح حکومت کر رہی ہے،اگر میر شکیل کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے تو کسی بھی میڈیا ادارے کے ساتھ ہوتا ہے،اسطرح کی حرکتیں کر کے میڈیا کو متاثر کر کے بڑے پروجیکٹس پر بات ہی نہیں ہو سکتی، سندھ حکومت کو جتنی گالیاں دے سکتے ہیں دے دیں، میڈیا بالکل ذمہ دار ہے، میڈیا پر چیزیں ڈسکس نہیں ہوتی، یہ بھی فیکٹ ہے کہ میڈیا کے لوگوں کی اکثریت اس پروجیکٹ کا حصہ رہی ہے، میڈیا کے لوگوں نے سیاسی پوزیشن لی ہے، پہلے جو پروگرام ہوتے تھے وہ اب نہیں ہو رہے، اب مایوسی کی صورتحال ہے ، لوگ سمجھ رہے ہیں کہ فائدہ ہی نہیں، اگر کسی نے پروگرام کیا تو پھر گرفتاری یا مقدمہ ہو گا ٹی وی بند ہو گا، پیمرا کا استعمال ہو گا، ریگولرائز میڈیا اسی وجہ سے حکومت کے ساتھ ہم آہنگ ہے، سوشل میڈیا پر لوگ بات کر رہے ہیں، سوال پوچھ رہے ہیں

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کوئی سوال کریں تو دونوں طرف سے گالیاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اتنے زبان چھٹ کیوں ہیں، ود پاکستان ہونا چاہئے ،میں عمران یا کسی اور کے ساتھ کیوں؟ میں پاکستان کے ساتھ پہلے کیوں نہیں

مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایسے ہی ہونا چاہئے، سوشل میڈیا پر زہریلی کیفیت ہے ہر سائڈ پر، اس کو تیار کیا گیا ہے، اس ساری چیز کا آغاز پاکستانی ٹی وی چینل سے ہوا، سارے لوگوں نے کردار ادا کیا، پھر عام لوگ جو سوشل میڈیا کو دیکھتے ہیں وہاں اب یہ بات طے ہو گئی ہے کہ نقطہ نظر کو سپورٹ کرنا ہے تو ٹھیک ہے، نہیں تو گالیاں ملیں گی،

مبشر لقمان کا کہنا تھا میں آپ کو خبر دیتا ہون دیکھتا ہوں جیو جنگ اس کے اوپر کیا کرتا ہے، وہ کمپنی جو سات سال سے بی آر ٹی پروجیکٹ بنا رہی ہے، جو ابھی تک مکمل نہیں ہوا، اب لاہور میں جو انڈر پاس بننے جا رہا ہے،فردوس مارکیٹ اور گلبرگ کے اندر ہے اسی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا جس کو بی آر ٹی کا دیا گیا، اب دیکھیں لاہور کتنی دیر کھدا رہتا ہے

مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں بی آر ٹی اگر کوئی اور حکومت ہوتی تو یہ گلے کا پھندہ ہے، یہ پروجیکٹ سپورٹ اور فنڈنگ کے باوجود مکمل نہیں ہوا

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی میں کرپشن سامنے آئی ہے،کل میرے پاس جو منسٹر آئے تھے میں نے انہیں کہا کہ نیب سے بات کرتے ہیں احد چیمہ وغیرہ کو پے رول پر ایک سال کے لئے لئے جاؤ کم از کم اپنا پروجیکٹ تو پورا کر لو،

مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ فواد حسن فواد بھی ہیں انکو بھی لے جائیں، آپکو یاد ہے چینلز لائیو ٹرانسمیشن کیا کرتے تھے،پروگرام ہوتے تھے، وزٹ کیا کرتے تھے سب ختم ہو گیا ہے،کوئی بات نہیں ہو گی، نیب چئرمین 40 سالہ پرانے کیس میں میر شکیل الرحمان کو گرفتار کر لیتے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ انکی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ ہسپتال میں ہیں جس پر مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ بالکل انکی طبیعت ٹھیک نہیں، بہت عرصے سے بیمار ہیں، یہاں پر جب لندن میں ہوتے تھے وہ علاج کی وجہ سے ہوتے تھے، لیکن اس کے باوجود جس طرح وہاں پر انکو ٹارچر سے گزارا گیا، نیب چیئرمین سارے لوگوں کو سب کے اوپر گرفتاریاں بھی ہوں اور اسکے نتائج بھی آئیں ،تو یہ سب ہونا چاہئے احتساب سب کا ہونا چاہئے، لیکن پرابلم اسوقت ہوتا ہے جب سیلکٹو احتساب ہو،

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سلیکٹو بھی نہیں ہے،دو سال پہلے جن کو اٹھایا گیا تھا چاہئے سعد رفیق، سلمان رفیق کوئی بھی ہوں انکے اوپر ثابت تو کچھ نہ کر سکے

مرتضیٰ علی شاہ کا کہنا تھا کہ آپ ان کی مثال دے رہے ہیں، راجہ پرویز اشرف کو ہی دیکھ لیں میڈیا میں انکو راجہ رینٹل کے نام سے پکارا گیا، دنیا میں کئی سالوں تک بدنامی ہوئی، عام آدمی بھی راجہ رینٹل کہتا تھا، اب جا کر راجپ پرویز اشرف پر کرپشن ثابت نہیں ہوئی

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگلی بار جب ہم آپ سے بات کریں گے تو لندن کے باسیوں کا حال بھی پوچھیں گے کہ نواز شریف کے پلیٹ لٹس پورے ہوگئے ہیں ؟ جہانگیر ترین وہان‌ ہین کیا وہ ملاقاتیں کر رہے ہیں، لندن میں کیا کیا ہو رہا ہے،اگلی بار اس پر بات ہو گی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.