fbpx

پینڈورا پیپرزاور پانامہ لیکس معاملہ: آزادانہ انکوائری کیلئے سراج الحق کا سپریم کورٹ سے رجوع

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پینڈورا پیپرز اور پانامہ لیکس میں شامل تمام افراد کے خلاف آزادانہ انکوائری کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

باغی ٹی وی: اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر نائب امرا لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغرودیگر قائدین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہماری درخواست چار سال سے عملدرآمد کی منتظر تھی کہ پینڈورا پیپرز سکینڈل بھی منظرعام پر آگیا-

امیر جماعت کی جانب سے ایڈووکیٹ اشتیاق احمد راجہ کے ذریعے دائر کی گئی آئینی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ دونوں سکینڈلز میں جتنے بھی پاکستانیوں کے نام آئے ہیں ان کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے اور حکمران اشرافیہ جس نے غریب پاکستانی قوم کے اربوں روپے لوٹ کر آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

پاکستان افغان معاملے پرعالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے عسکری حکام کی بریفنگ

راج الحق نے کہا کہجماعت اسلامی نےایک دفعہ پھراس یقین کےساتھ عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کہ پاکستانی قوم کو اب انصاف ملے گا،جماعت اسلامی کو وزیراعظم کی جانب سے بنائے گئے انکوائری سیل پر رتی برابر اعتماد نہیں، پینڈورا پیپرز سکینڈل کو منظر عام پر آئے ہوئے 50 دن سے زیادہ گزر چکے ہیں، جن لوگوں کے نام سکینڈل میں آئے وہ یاتو پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ممبرز ہیں یا سابق جنرلز، ججز، بزنس مین اور بیورو کریٹس ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ طاقتور اشرافیہ قانون سے بالاتر، ملک کے اربوں ڈالر قرضہ اور غریب پاکستانیوں کے مصائب اور مشکلات کی ذمہ دار ہے جماعت اسلامی نے ہمیشہ کرپشن کے خلاف بات کی ہے، اگر آج عوام چوکوں چوراہوں میں کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کی بات کرتے ہیں تو یہ جماعت اسلامی کی دہائیوں پر مشتمل کرپشن فری پاکستان مہم کی محنت کا نتیجہ ہے،سابق امیرجماعت اسلامی مرحوم قاضی حسین احمد نے 1996ء میں کرپشن کے خلاف اسلام آباد میں عظیم الشان دھرنا دیا تھا،جماعت اسلامی نے 2016ءمیں کرپشن کے خلاف پورے ملک میں ٹرین مارچ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلاتفریق، بے لاگ احتساب چاہتی ہے،ہم چاہتے ہیں سپریم کورٹ اس کےلئے کردار ادا کرے اور قوم کو انصاف دلائے، اسی مقصد کے لیے ہم آج پھر عدالت عظمیٰ آئے ہیں، موجودہ حکومت نے نیب کو بے پر کر دیا ہے،پی ٹی آئی نے آرڈینینسز کے ذریعے ادارہ کو کمزور کردیا اور اسے طاقتور اشرافیہ کے خلاف ایکشن لینے سے روک دیا ہے، ملک میں احتساب کا کوئی ادارہ موجود نہیں،یہی وجہ ہے کہ مافیاز نے حکومت کو گرفت میں لیا ہوا ہے، شوگر سکینڈل، آٹا بحران، پٹرول شارٹیج کرائسز میں سینکڑوں ارب مافیاز کی جیبوں میں گئے، انکوائری رپورٹس موجود ہیں، مگر کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔

امیرجماعت اسلامی کاکہناتھا کہ موجودہ حکمران پارلیمنٹ، عدالت،میڈیا سمیت تمام اداروں پر کنٹرول چاہتے ہیں،نااہلی اور بیڈ گورننس انتہاکو پہنچ چکی ہے،معیشت کا بیڑہ غرق اور ملک قرضوں کی دلدل میں مکمل طور پر دھنس چکا ہے،جماعت اسلامی قوم کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور انشاءاللہ عوام کے ساتھ سے جدوجہد جاری رہے گی ،ہم پاکستان کو عظیم فلاحی اسلامی ریاست بنائیں گے،جماعت اسلامی یوتھ کے زیر اہتمام 28نومبر کو اسلام آبادکے ڈی چوک میں بے روزگار نوجوانوں کابھرپور احتجاج ہو گا۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!