fbpx

بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

ڈنمارک: ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ب جو بچے پریشان کن یا تکلیف دہ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ان میں جوانی میں دل کا دورہ پڑنے یا خون کی شریانوں کی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے-

باغی ٹی وی : یورپی جرنل آف ہارٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق جو بچے ابتدائی عمر میں کسی نامناسب حالات سے گزرتے ہیں جوانی میں وہ رگوں کی تنگی اور امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں یا ان امراض کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

ان مسائل میں خاندان میں بیماری یا موت، غربت وتنگدستی، ناچاقی اور گھریلو لڑائی، نظراندازکرنے اور خاندان میں تناؤ وغیرہ شامل ہیں۔ اس ماحول میں رہنے والے بچے فوری طور پر تو متاثر ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ عین جوانی میں بھی امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں۔

سروے میں جنوری 1980 سے دسمبر 2001 کےدرمیان 13 لاکھ بچوں کو جائزہ لیا گیا تھا۔ اس دوران 4118 بچے قلبی رگوں کی بیماری (سی وی ڈی) کےشکار ہوچکے تھے جو ان کی سولہویں سالگرہ سے 2018 کے اختتام کے دوران ہوا جبکہ بعض افراد کی عمر 38 برس تک تھی۔

مطالعہ کے سینئر مصنف، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ صحت عامہ میں وبائی امراض کی سربراہ پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہہم نے پایا کہ بچپن میں بہت کم مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے مقابلے میں، بچپن میں نامساعد حالات سے جوانی میں امراضِ قلب کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے-

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرنوعمری میں بھی یہ مسائل جان نہ چھوڑیں تب بھی اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم جو اس طویل مطالعے سےعیاں ہے۔ اگر اوسطاً 30برس کے ایک لاکھ افراد موجود ہوں تو 50 افراد میں امراضِ قلب کا اندیشہ ہوسکتا ہے لیکن گھریلو مسائل سے مزید 10 سے 18 کیس بڑھ سکتے ہیں جو ایک بہت تشویشناک امر ہے۔

کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

بالخصوص بچپن میں گھرمیں اموات، شدید دیرینہ امراض کےمنفی اثرات بہت سخت ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ڈنمارک کے کل 1,263,013 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جو اپنی سولہویں سالگرہ تک زندہ تھے اور کسی امراضِ قلب کے شکار نہ تھے۔

مطالعے میں صفر سے 15 برس کےبچے شامل تھے جنہیں 5 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں بہت کم گھریلو مسائل والے بچے، مادی ضرویات سےمحروم (بیروزگاری اور غربت)، مستقل محرومی، بہن بھائی یا والدین کو کھودینے والے یا کھونے کے خطرے کے شکار بچے، اور پانچویں قسم ان بچوں کی تھی جو تمام اقسام کے شدید مسائل میں گھرے تھے۔

ان میں سے جن بچوں نے بھوک اور بیماری دیکھی ان میں امراضِ قلب کی شرح بھی بلند دیکھی گئی ہے-

محققین نے ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تجزیوں کو ایڈجسٹ کیا جو سی وی ڈی کے خطرے کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جیسے کہ عمر، پیدائش کے وقت زچگی کی عمر، والدین کی اصل، اور دل، خون کی شریانوں یا میٹابولزم کی کوئی بھی والدین کی بیماریاں۔ ضمنی تجزیوں میں، انھوں نے حمل کی عمر اور والدین کی تعلیم کے لیے بھی ایڈجسٹ کیا۔ انہوں نے ان لوگوں کو خارج کر دیا جن کے والدین کو دل یا میٹابولزم سے متعلق کوئی بیماری تھی، جیسے کہ ذیابیطس یا دل کی بیماری، جو ان کے بچوں کو ان حالات میں مبتلا کر سکتی ہے۔

گوشت کا کم استعمال موسمیاتی بحران سے بچا سکتا ہے ،تحقیق

محققین نے پایا کہ مطالعہ میں 2,195 مردوں اور 1,923 خواتین کے درمیان سی وی ڈی کی نشوونما کے خطرے میں بہت کم فرق تھا۔ خطرہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ تھا جنہوں نے خاندان میں شدید بیماری یا موت کا سامنا کیا اور ان لوگوں میں جنہوں نے بچپن اور جوانی کے دوران مشکلات کی بلند اور بڑھتی ہوئی شرح کا تجربہ کیا۔

ہیڈ آف ایپیڈیمولوجی، ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہ ابتدائی جوانی میں بچپن کی مشکلات اور سی وی‌ڈی کے درمیان جو تعلق ہم نے دیکھا اس کی جزوی طور پر ان رویوں سے وضاحت کی جا سکتی ہے جو صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، جیسے شراب پینا، سگریٹ نوشی اور جسمانی بے عملی۔ بچپن ایک حساس دور ہے جس کی خصوصیت تیز رفتار علمی اور جسمانی نشوونما سے ہوتی ہے۔ بچپن میں مشکلات کا بار بار اور دائمی نمائش جسمانی تناؤ کے ردعمل کی نشوونما پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور یہ ان نتائج پر مبنی میکانزم کے لیے ایک اہم وضاحت فراہم کر سکتا ہے۔

بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق