بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے مسلسل کرفیو کے باعث کشمیری نوجوان بھارت سرکار کے خلاف نکل آئے، کشمیری نوجوانوں نے ون سلوشن گن سلوشن کا نعرہ اپنا لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل میڈیا کے ادارے الجزیزہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو، تعلیمی اداروں، موبائل، انٹرنیٹ کی بندش، سرچ آپریشن، پیلٹ گن کی فائرنگ، کشمیریوں پر ظالمانہ تشدد کے باعث کشمیر کے نوجوان مسلح مزاحمت کی جانب راغب ہو رہے ہیں، کشمیری نوجوان بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کے دوران ون سلوشن ،گن سلوشن کے نعرے لگانے پر مجبور ہو گئے ہین جس کی وجہ سے مودی سرکار بھی پریشان ہو گئی ہے.

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر آنسو گیس کے شیلز اور پیلٹ گنز کے استعمال سے سینکڑوں کشمیری زخمی ہوئے ہیں، بھارتی فوج کی جانب سے جاسوسی کی آفر کو نہ ماننے پر رشید نامی کشمیری جوان کو ہراساں کیا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا،24 سالہ کشمیری شہری رشید جو تعلیم یافتہ اور اونتی پورہ کے رہائشی ہیں نے انٹرنیشنل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دو بھارتی فوجی میرے گھر آئے اور کہا کہ اگر میں جاسوسی کی آفر قبول نہیں کروں گا تو میرے خلاف مقدمہ قائم ہو گا، کشمیری نوجوان رشید کا کہنا تھا کہ اگر مجھے ایسے ہی ہراساں کیا گیا تو میں اپنے تحفظ کے لیے بندوق اٹھا لوں گا۔ روزانہ بار بار مرنے سے ایک دفعہ مرنا ہی بہتر ہے۔

کشمیری نوجوان رشید نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال میں بھارتی فوج نے 12 سال کے بچے کو بھی گرفتار کر لیا ہے،رشید کا کہنا تھا کہ اگر ہم شہید برہان وانی کے راستے کا انتخاب کریں گے تو کم از اکم اپنی توہین کا بدلہ تو لے سکیں گے۔

ترال کے رہائشی طارق ڈار نے انٹرنیشنل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بھارتی فوج سرچ آپریشن کے نام پر نوجوانوں پر تشدد کرتی ہے اور انہیں گرفتار کر لیتی ہے، دوران حراست بھی ان پر بدترین تشدد کیا جاتا ہے ،ایسی حرکتیں کشمیری نوجوانوں کو مزاحمت کی جانب لے جا رہی ہیں اور اپنے دفاع کے لئے گن اٹھانے پر مجبور کر رہی ہیں.

تین برس قبل 2016ء میں شہید ہونے والے کشمیری مجاہد برہان مظفر وانی کے والد مظفر وانی نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کے تشدد کے باعث کشمیری نوجوان ہتھیار اُٹھا سکتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بہت خاموشی ہے جو یہ طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کرفیو ختم ہونے کے بعد آتش فشاں پھٹ سکتا ہے۔

کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے بہانے بارہمولا کے علاقے سوپور میں کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا، سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے چادر و چاردیوای کے تقدس کو بھی پامال کیا، اس دوران کشمیریوں نے احتجاج کیا تو ان پر پیلٹ برسائے گئے جس سے متعدد کشمیری زخمی ہو گئے،

مقبوضہ کشمیر میں 25 ویں روز بھی کرفیو کو برقرار ہے، بھارتی قابض فوج نے کشمیریوں کی نسل کشی کے نئے انتظامات کرلئے۔ سرینگر میں دو درجن سے زائد نئے بنکرز اور مورچے قائم کر کے مزید شارپ شوٹرز تعینات کر دئیے گئے۔پوری وادی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے، ہر گلی، سڑک، شاہراہ پرقابض فوجیوں کی موجودگی باوجود کشمیری شہریوں نے زبردست احتجاج کیا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارت مخالف نعرے لگائے۔

بھارتی فوج کی بربریت، کشمیری نوجوان شہید،25 روز سے کرفیو،کشمیری گھروں میں محصور

کیبل، ٹی وی، موبائل فون، لینڈ لائن سمیت دیگر سروسز تاحال بند ہیں۔ اخبارات 5 اگست سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئے، تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، مریضوں کو ادویات نہیں مل رہی، میڈیکل سٹورز پر ادویات کا سٹاک ختم ہو گیا ہے، غذائی بحران بھی سر اٹھا رہا ہے جس کے بعد کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

ایک کشمیری شہری کا کہنا تھا کہ میں نماز پڑھ کر آ رہا تھا کہ بھارتی فوجی نے مجھ پر تین بار پیلٹ گنز چلائی، جس کی وجہ میں شدید زخمی ہو گیا اور لوگ مجھے ہسپتال لے کر گئے۔ زخمی ہونے کے باوجود ہسپتال جانے کے لیے مجھے دس بار روکا گیا۔

کرفیو توڑ کر باہر نکلنے والے کشمیریوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چھ سالہ بچی والد کے ساتھ بائیک پر گئی تو اسے بھی پیلٹ گن سے نشانہ بنایاگیا۔ گزشتہ کئی دنوں سے گھروں میں قید کشمیری محنت کش بھی بے بسی کی تصویر بن گئے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.