fbpx

بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے

پروونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید تین اموات ہوئی ہیں جاں بحق افراد میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے، تینوں ہی اموات ضلع قلعہ سیف اللہ سے سامنے آئیں –

باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 133 مرد 64 خواتین اور 84 بچے شامل ہیں سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ جبکہ ژوب سے 22 اور لسبیلہ سے 21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

سیلابی ریلوں اور بارشوں سے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 65 ہزار 197 مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے مجموعی طور پر دو لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، جعفر آباد میں خمیہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے بخار اور گسیٹرو اور ملیریا جیسے امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھر افراد خیموں سے بھی محروم ہیں۔

ڈیرہ مراد جمالی میں خمیہ بستی میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے معصوم بچے شدید بخاراور گسیڑو میں مبتلا ہونے لگے،،مائیں پانی کے قطرے ڈال کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوششیں کرتی نظرآتی ہیں جبکہ شدید گرمی میں متاثرین اپنے بچوں کو چار پائی کی مدد سے سایہ دینے کی کوشش کررہے ہیں-

بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی

امدادی سامان میں مبینہ طور پر غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف متاثرین نے ڈیرہ اللہ یار صحبت پور شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھرافراد خیموں سے بھی محروم ہیں، متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں سڑکیں بحال نہ ہونے کے باعث مسافروں کو بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ 18 ستمبر سے پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اوران کے ملحقہ نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 14 سے 20 ستمبر تک موسم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے، ہوا کا یہ کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہوا کے اس کم دباؤ کے زیر اثر 18 ستمبر سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کابہاؤ بڑھ سکتا ہے-

سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی