اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

0
214
dr faryad

اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

ڈاکٹر فریاد آذر

وفات : 12؍اپریل 2024

معروف شاعر ڈاکٹر فریاد آذر کا اصل نام سید فریاد علی ہت10؍جولائی 1956ء کو اترپردیش کے بنارس شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی تھی اور ان کے شعری آہنگ سے بہت متاثر تھے۔
انھوں نے دہلی کے کئی اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے دو شعری مجموعے "خزاں میرا موسم” (اشاعت 1994ء) اور قسطوں میں گزرتی زندگی” (اشاعت 2005ء) شائع ہوئے۔آج بروز جمعہ 12؍اپریل 2024ء کو لمبی بیماری کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

ڈاکٹر فریاد آذرؔ کے منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو
بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا

معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر
مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی
وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا

بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں
پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا

مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر
کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں
سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے

ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت
اور کس شہر محبت میں اماں باقی ہے

میں کبھی سود کا قائل بھی نہیں تھا لیکن
زندگی اور بتا کتنا زیاں باقی ہے

مار کر بھی مرے قاتل کو تسلی نہ ہوئی
میں ہوا ختم تو کیوں نام و نشاں باقی ہے

ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

لاکھ آذرؔ رہیں تجدید غزل سے لپٹے
آج بھی میرؔ کا انداز بیاں باقی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے
یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بلا کے مجھے

میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر
وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا
قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

میں اپنی قبر میں محو عذاب تھا لیکن
زمانہ خوش ہوا دیواروں پر سجا کے مجھے

یہاں کسی کو کوئی پوچھتا نہیں آزرؔ
کہاں پہ لائی ہے اندھی ہوا اڑا کے مجھے

Leave a reply