بھارتی حکومت کا 170 پاکستانی سیاحوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار

0
29
پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں غائب

بھارتی حکومت نےآخری وقت پر 170 پاکستانی سیاحوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے مابین فیتھ ٹوورازم پروگرام کے تحت 29 جنوری کو 170 پاکستانی سیاحوں کو پی آئی اے کی خصوصی پرواز کے ذریعے بھارت پہنچنا تھا پاکستان سے 170 سیاحوں کے پہلے گروپ نے بھارت جانے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی تھیں تاہم بھارتی حکومت نے آخری وقت پر پاکستانی سیاحوں کوویزے دینے سے معذرت کرلی ہے۔

بھارتی فوج کا جدید جنگی طیارہ کھیتوں میں گرکراپنی موت آپ ہی جل کرراکھ ہوگیا

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے بتایا کہ بھارتی حکام نے کورونا کی تشویش ناک صورتحال کی وجہ سے ویزے جاری نہیں کیے اور دورے کو چند روز کے لیے مؤخر کرنے کا مشورہ دیا ہے سیاحوں کے وفد کو 29 جنوری کوپی آئی اے کی چارٹرڈ فلائیٹ سے اجمیر شریف، نئی دہلی، متھرہ،ہری دوار اور جے پورجانا پہنچنا تھا جس کے بعد وہ یکم فروری کو واپس پاکستان پہنچ سکتے۔

قبل ازیں پاکستان اور بھارت کے مابین مذہبی سیاحت کے سلسلے کی شروعات میں اہم کردار ادا کرنے والے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مذہبی سیاحت کے لیے پی آئی اے اور ائیر انڈیا کے مابین معاہدہ ہوا ہے –

75 برس میں پہلی بار پی آئی اے کی خصوصی پرواز پاکستانی سیاحوں کو لیکربھارت روانہ ہوگی

پاکستان ہندو کونسل کی درخواست پر پاکستان اور بھارت ہندو یاتریوں کو ایک دوسرے کے ملکوں میں مقدس مقامات کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، اورپی آئی اے نے کل 29 جنوری کو کراچی سے جے پور کے لیے خصوصی پرواز شیڈول کی تھی، جس کے ذریعے 170 سیاحوں کو پاکستان سے بھارتی شہر جے پور کے لیے روانہ ہونا تھا، تاہم بھارتی حکومت نے پی آئی اے کی پرواز کو جے پور کی اجازت دینے سے انکار کیا جس پر پی آئی اے حکام نے پرواز منسوخ ہونے کی تصدیق بھی کی۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے نے خصوصی پرواز پی کے 6270 پلان کی گئی تھی، خصوصی پرواز کو کراچی سے بھارتی شہر جے پور کے لیے کل صبح 7 بجے روانہ ہونا تھا، اور جے پور کے ایئرپورٹ پر دوپہر 12 بجے لینڈ کرنا تھا۔

اسلام آباد ائیرپورٹ سےبیرون ملک منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے شہریوں کو سیاحتی ویزے جاری نہیں کرتے تاہم دونوں ممالک کے مابین مذہبی یاترا کا 1974 کا معاہدہ موجود ہے جس کے تحت بھارت سے سکھ اور ہندویاتری پاکستان میں اپنے مذہبی مقامات پر حاضری اور اہم مذہبی تہواروں میں شرکت کے لیے آسکتے ہیں جن میں بابا گورو نانک کا جنم دن، ان کی برسی، وساکھی، گوروارجن دیو جی کا شہیدی دن، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی، شری کٹاس راج مندر اور میرپور ماتھیلومیں ہندؤوں کے مذہبی مقامات کی یاتراشامل ہیں اسی طرح پاکستان سے زائرین حضرت نظام الدین اولیاؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، صابر پیاؒ کلیئر شریف، اور چندا یک دیگر بزرگان کے سالانہ عرس کی تقریب میں شریک ہوتے ہیں-

فوجی قیادت کا فیصلہ ہے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی ،شیخ رشید

یاتریوں اورز ائرین کی آمد و رفت کو متروکہ وقف املاک بورڈ اور وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی دیکھتی ہے اور انتظامات کرتی ہے 1974ء کے معاہدے کے تحت دونوں ملکوں سے مذہبی تہواروں پر آنے جانے کے لیے سمجھوتہ ایکسپریس استعمال کی جاتی ہے یا پھر یہ وفود پیدل آتے جاتے ہیں تاہم یہ پہلی بار ہے کہ دونوں ملکوں کی سرکاری ہوائی کمپنیاں سیاحوں کو سفری سہولت فراہم کریں گی-

دورہ پاکستان:آسٹریلوی کرکٹرزنےسیکیورٹی کےحوالےسےپھرتشویش ظاہرکردی

Leave a reply