fbpx

بھارتی کسان نے اپنے شادی کارڈ میں حق کامطالبہ کردیا

بھارت میں ایک کسان کا شادی کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کسان فیملی سے تعلق رکھنے والے لڑکا لڑکی نے شادی کارڈ چھپوایا تاہم یہ مختلف ہونے اور حکومت سے ایک مطالبے کے سبب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

ہریانہ کے ضلع بھوانی سے تعلق رکھنے والے پردیپ کلیرا مانا نے اپنے شادی کے کارڈ پر جہاں عزیز و اقارب کے لیے دعوتی الفاظ چھپوائے وہیں حکومت سے فصل کے لیے کم سے کم سپورٹ پرائس کی گارنٹی دینے کا بھی مطالبہ کردیا اور اس مطالبے کے لیے جو تحریری نعرہ استعمال کیا گیا وہ کچھ یوں تھا، ’’جنگ ابھی جاری ہے، ایم ایس پی کی باری ہے”-

اس نعرے کی وجہ سے جوڑے کا شادی کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور کسان حمایتی تحریک کے حامیوں نے اس کارڈ کو جگہ جگہ شیئر کیا جس کے بعد شادی کارڈ لاکھوں افراد تک پہنچ گیا۔

اماراتی شہزادی کا بھارتی انتہا پسندوں پرشکنجہ کسنےکا فیصلہ،متعدد شکایتوں پردبئی کی…

جوڑے کا ماننا ہے کہ اگرچہ کسانوں کا بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرہ ختم ہوچکا ہے اور اسے کسانوں کی فتح کے طور پر دیکھا جارہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہےکسانوں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے جوڑے نے بتایا کہ اب بھی ہمارے کئی مسائل حل طلب ہیں۔

تاہم پردیپ کا کہنا تھا کہ اُسے ہرگز اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اُس کی شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ بھارتی کسانوں اور مودی سرکار میں کھنچاؤ س وقت سامنے آیا جب انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تین زرعی قوانین متعارف کرائے جس پر کسانوں نے کئی مہینوں تک احتجاج کیا کسانوں کا موقف تھا کہ انڈیا کی حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات کے نام پر متعارف کروائے جانے والے ان قوانین کی منظوری کے بعد زراعت کے شعبے میں نجی سیکٹر کے افراد اور کمپنیوں کے داخلے کا راستہ کھل جائے گا جس سے ان کی آمدن متاثر ہو گی تاہم مودی حکومت نے سرنڈر کرتے ہوئے اپنے قوانین واپس لے لئے-

مودی سرکار نے جو تین قوانین لگ بھگ متعارف کروائے تھے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:

پہلے تو دی فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیلیسیٹیشن) 2020 کے قانون کے مطابق کسان اے پی ایم سی یعنی ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی کے ذریعہ مطلع شدہ منڈیوں کے باہر اپنی پیداوار دوسری ریاستوں کو ٹیکس ادا کیے بغیر فروخت کر سکتے تھے۔

دوسرا قانون تھا فارمرز اگریمنٹ آن پرائز انشورنس اینڈ فارم سروس ایکٹ 2020 (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن)۔ اس کے مطابق کسان کانٹرکٹ فارمنگ یعنی معاہدہ کاشتکاری کر سکتے ہیں اور براہ راست اس کی مارکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں۔

تیسرا قانون تھا سسینشیل کموڈیٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020۔ اس میں پیداوار، ذخیرہ کرنا، اناج، دال، کھانے کے تیل اور پیاز کو غیر معمولی حالات میں فروخت کے علاوہ کنٹرول سے باہر کر دیا گیا ہے۔

کورونا وبا:حکومتی اقدامات نہ ہونےکی وجہ سے متھن چکرورتی مودی سرکار پر برس پڑے

مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمت کا تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں تھیں جو ملک میں طویل عرصے سے رائج ہیں اور جن کا مقصد کسانوں کو آزاد منڈیوں سے تحفظ فراہم کرنا تھاواپس لیے جانے والے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہونی تھی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔

پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان قوانین میں ‘کانٹریٹک فارمنگ’ کے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کو وہی اجناس اگانا تھیں جو کسی ایک مخصوصی خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی۔

ان قوانین کے ذریعے سب سے بڑی تبدیلی یہ آنی تھی کہ کسانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی پیداوار کو منڈی کی قیمت پر نجی خریداروں کو بیچ سکیں۔ ان میں زرعی اجناس فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹیں اور آئن لائن پرچون فروش شامل ہیں اس وقت انڈیا میں کسانوں کی اکثریت اپنی پیداوار حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

یکسین لگانے کی کوشش، ایک شخص نے ہیلتھ ورکرکی پٹائی کردی،تودوسرا درخت پرچڑھ…

یہ منڈیاں کسانوں، بڑے زمینداروں، آڑھتوں اور تاجروں کی کمیٹیاں چلاتی ہیں جو کسانوں اور عام شہریوں کے درمیان زرعی اجناس کی ترسیل، ان کو ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو فصلوں کے لیے پیسہ فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے کچھ قواعد اور اصول ہیں اور جس میں ذاتی اور کارروباری تعلقات کا بھی بہت عمل دخل ہے۔

نئی اصلاحات کہنے کی حد تک تو کسانوں کو یہ سہولت فراہم کرتی ہیں کہ وہ روایتی منڈیوں سے ہٹ کر بھی اپنی پیداوار فروخت کر سکتے ہیں حکومت کا کہنا تھا کہ نئے قانون کی مدد سے کسانوں کو مزید آپشن ملیں گے اور ان کو قیمت بھی اچھی ملے گی اس کے علاوہ زرعی منڈیوں، پروسیسنگ اور بنیادی ڈھانچے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاہم کسانوں کا موقف تھا کہ نئے قانون سے ان کا موجودہ تحفظ بھی ختم ہو جائے گا۔

مودی یہ نہ کہہ دے کہ نہ کوئی آیا نہ کسی کو اٹھایا،چین کی جانب سے لڑکے کے اغوا پر…

تاہم کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر تھی کہ نئے قوانین کے تحت آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے نمائندہ کسان تنظیموں کے مطابق آڑھت منڈیاں کے خاتمے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے کا راستہ نہیں ہو گا اور ان کے پاس سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

انڈیا کی ریاست پنجاب کے ایک کسان ملتان سنگھ رانا نے بی بی سی پنجابی سروس کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انھیں خدشہ یہ ہے کہ ابتدا میں کسانوں کو اپنی اجناس نجی خریداروں کو فروخت کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور چند برس میں منڈی ختم ہو جائیں گی جس کے بعد کسان ان نجی خریداروں اور کاروباری اداروں کے رحم و کرم پر ہوں گے اور وہ جو چاہیں گے وہ قیمتیں لگائیں گے۔

ایک کسان سکھ دیو سنگھ کوکری نے بی بی سی پنجابی سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ چھوٹے اور درمیانی سطح کے کسانوں کے لیے موت کا پروانہ ہے اس کا مقصد بڑی کارپوریشن کو زراعت اور منڈیاں حوالے کرنا ہے جس سے کسان ختم ہو جائیں گے۔ وہ ہماری زمین چھیننا چاہتا ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو،عالمی ادارہ صحت