بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا

0
53

بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے.

جنوری بروز پیر نیشنل گرڈ میں ہونے والی ایک تباہ کن خرابی نے پورے پاکستان کو بجلی سے محروم کردیا، جس سے امور زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے، کاروبار ٹھپ ہوگئے اور اربوں کا نقصان ہوا ۔ اس ملگ گیر پاور بریک ڈاؤن نے توانائی کے پرانے بنیادی ڈھانچے کی قلعی کھول دی۔ اب اس حوالے سے نیشنل ٹرانسمیشنز اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بلیک آؤٹ ہوا کیسے تھا۔ چوبیس جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ میں اس بدترین بلیک آؤٹ کی وضاحت کے بارے میں وضاحت پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کمپنی نے تسلیم کیا کہ سسٹم پروٹیکشن مکینزم (نظام کے تحفظ کے طریقہ کار) پے در پے پونے والی ٹرپنگ کو روکنے میں ناکام رہا۔ حالانکہ حکام نے اسی رات بجلی بحالی کا عمل شروع کردیا تھا، اس کے باوجود زیادہ تر علاقوں میں بلیک آؤٹ 12 گھنٹے، جب کہ کچھ علاقوں میں اس سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہا۔ سارے معاملے سے نمٹنے کے بعد بلیک آؤٹ کی بندش کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

جب آپ کسی ڈیوائس جیسے استری یا لیپ ٹاپ چارجر آن کرتے ہیں تو یہ الٹرنیٹ کرنٹ کا استعمال کرتے ہیں، یعنی بجلی مثبت اور منفی وولٹیج کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ بجلی کی اس بدلتیی حرکت کو الیکٹریکل فریکوئنسی (برقی تعدد) کہا جاتا ہے۔ ہرٹز (Hz) میں ماپی جانے والی ”گرڈ فریکوئنسی“ ایک تکنیکی اصطلاح ہے جو ہر سیکنڈ میں الٹرنیشن سائیکل ہونے کی تعداد بتاتی ہے۔ فی الحال، 50 ہرٹز سب سے زیادہ مروجہ فریکوئنسی ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر پاور سسٹمز میں استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ آپ کے گھر، فیکٹری یا دفتر میں موجود آلات کو 50 ہرٹز کے اندر چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے ہماری بجلی فراہمی کی فریکوئنسی کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وولٹیج یا فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو ہم اپنے آلات بند کردیتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان آلات کے خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر بجلی کی ضرورت، پیداوار سے میل نہ کھائے تو گرڈ پر بجلی کی فریکوئنسی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس دن ہوا کیا تھا؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، “سسٹم فریکوئنسی 50 کے بجائے 50.75 ہرٹز (Hz) تک پہنچ گئی تھی جس سے شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا، اور اس کی وجہ سے ٹرانسمیشن لائنوں پر لوڈ اور وولٹیج میں فرق آیا۔ نتیجے میں ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں، اور شمالی اور جنوبی نظام کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) سسٹم بلاک ہو گیا۔ وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزارت کے ابتدائی بیانات کے مطابق، سسٹم کو ”فریکوئنسی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ایک بڑا بریک ڈاؤن ہوا“۔ جو کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فریکوئنسی بڑھی تھی۔ ایک انٹرویو میں وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ ”موسم سرما میں، ملک بھر میں بجلی کی طلب کم ہو جاتی ہے، اس لیے، معاشی اقدام کے طور پر، ہم رات کے وقت اپنے بجلی پیدا کرنے کے نظام کو عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں۔“ لیکن جب 23 جنوری کی صبح پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کیا گیا تو جنوبی پاکستان دادو اور جامشورو کے درمیان کہیں ”فریکوئنسی میں تغیر اور وولٹیج کا اتار چڑھاؤ“ پیدا ہوا۔ نتیجتاً، ”بجلی پیدا کرنے والے یونٹ ایک ایک کر کے بند ہو گئے۔“

وزارت توانائی کا یہ بیان این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، بنیادی طور پر اگر بجلی کی طلب سپلائی سے زیادہ ہو تو فریکوئنسی کم ہو جائے گی۔ لیکن جب اضافی سپلائی ہوتی ہے تو فریکوئنسی بڑھ جاتی ہے۔ اب اگر ہم اس سمجھ بوجھ پر چلیں تو سسٹم اس لئے ٹرپ کر گیا کیونکہ وہاں بجلی کی زیادہ سپلائی تھی، اور وزیر توانائی کے یہ دعوے کہ فریکوئنسی میں کمی کی وجہ سے سسٹم ٹرپ ہو گیا، غلط ہے۔ رپورٹ نے بلیک آؤٹ کے لیے مقرر پیمانے کو بھی نکار دیا، واقعے سے قبل کل پیداوار 11,356 میگاواٹ اور فریکوئنسی 50.31 ہرٹز تھی۔ واقعہ کے وقت 23 جنوری کو ٹھیک 7:34 بجے فریکوئنسی 50.57 ہرٹز تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ سے ایک سلسلہ وار رد عمل ہوا جس میں 500 کلو واٹ سپلائی کی بڑی لائنیں ٹرپ کر گئیں۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ بلیک آؤٹ کی صبح بڑھتی ہوئی بجلی بندش سے پہلے فریکوئنسی اعلیٰ سطح پر کام کر رہی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ ریگولیٹرز کے لیے ایک انتباہ ہونا چاہئیے کہ سپلائی ڈیمانڈ سے تجاوز کرگئی جس کی وجہ سے فریکوئنسی میں اضافہ ہوا۔ فریکوئنسی میں اس اضافے کی صحیح وجہ ابھی تک معلوم نہیں۔ تاہم یہ شدید موسم، انسانی غلطی، آلات کی خرابی، یا جانوروں کی مداخلت کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ فریکوئنسی کے اس سپائیک نے پاور پلانٹس کے سیفٹی مکینزم کو متحرک کر دیا، جس نے گرڈ کو بجلی فراہم کرنے والے تمام 23 پاور پلانٹس بند کر دئے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو پورا گرڈ، سرکٹ بریکرز کے بنیادی اصول پر کام کرتا ہے۔ الیکٹریکل سرکٹ بریکر ایک سوئچنگ مکینزم ہے جو الیکٹریکل پاور سسٹم اور اس سے منسلک برقی آلات کو کنٹرول اور حفاظت کے لیے مینوئلی یا آٹو میٹکلی چلایا جا سکتا ہے۔ جب سرکٹ بریکر سے بہت زیادہ بجلی بہتی ہے یا اضافی بجلی کو لوڈ سنبھال نہیں سکتا تو یہ ٹرپ ہو جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے سرکٹس کو زیادہ گرمی یا مزید نقصان سے بچنے کے لیے بجلی کے بہاؤ میں خلل پڑجاتا ہے۔

پاور پلانٹس ایک مخصوص فریکوئنسی رینج کے اندر چلنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسا کہ ایک سرکٹ بریکر ہے۔ اگر سسٹم میں زیادہ فریکوئنسی ہے، تو ایک خاص وقت کے بعد یا اچانک خرابی سے ان کے گرڈ سے منقطع ہونے کا خطرہ ہے۔
بجلی کی بحالی کیسے ممکن ہوئی؟ اگر پورے نیشنل ہائی وولٹیج بجلی کے نیٹ ورک (گرڈ) سے بجلی ختم ہو جاتی ہے، تو ملک کو دوبارہ بجلی فراہم کرنے سے پہلے انفرادی پاور سٹیشنز کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ پاور پلانٹس کو دوبارہ چلانے کے لیے اکثر الیکٹریکل سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ گاڑی کو اگنیشن پاور کرنے کے لیے بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، بجلی کی مکمل بندش کی وجہ سے سسٹم کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مرکزی طور پر منسلک بجلی دستیاب نہیں ہے۔ جس سے اسے دوبارہ شروع کیا جاسکے۔ اس عمل کو ”بلیک اسٹارٹ“ کہا جاتا ہے۔

بلیک اسٹارٹ کا آپریشن دراصل کافی سیدھا ہے۔ بجلی کے چھوٹے ذرائع بڑے ذرائع کو شروع کرتے ہیں، اور یہ عمل پورے ملک میں دوبارہ پاور اپ ہونے تک جاری رہتا ہے۔ تاہم، کچھ پاور پلانٹس اس پیچیدہ ری بوٹ کا نقطہ آغاز بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن کچھ جدید گیس پاور پلانٹس طلب کے مطابق تیزی سے دوبارہ شروع ہونے کے قابل ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں جنوبی علاقے کی بحالی بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ”UCH-I“ پاور پلانٹ سے شروع ہوئی۔ گیس سے چلنے والا یہ پلانٹ اوچ پاور لمیٹڈ کمپنی کی ملکیت ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت 586 میگاواٹ ہے۔ اس پلانٹ کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق اس میں 220 کلو واٹ تک بلیک سٹارٹ کی سہولت ہے۔ اس پاور پلانٹ کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس کے ساتھ ہی شمالی علاقہ جات کے لیے تربیلا، ورسک اور منگلا سے بحالی کا عمل شروع ہوا، کیونکہ ہائیڈرو پاور میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو اسے بلیک اسٹارٹ کے لیے بہترین بناتی ہیں۔بلیک سٹارٹ آپریشن کے دوران کسی خاص تیاری کے بغیر ٹربائن کو پاور کرنے کے لیے ان ذخائر میں کافی پانی موجود ہے۔ اوک رج نیشنل لیبارٹری کے ایک مطالعے کے مطابق ہائیڈرو فیسیلٹیز کو کم سے کم اسٹیشن پاور کے ساتھ تیزی سے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ، ”تربیلا اور منگلا میں پیداواری یونٹس استحکام برقرار نہ رکھ سکے اور بحالی کے عمل کے دوران کئی بار ٹرپ ہوئے“۔ اس کے نتیجے میں، ورسک سے پیدا ہونے والی پیداوار کو دوسرے ڈیموں تک بڑھا دیا گیا جو ری بوٹ شروع کر رہے تھے۔ اس سے بنیادی طور پر بحالی کا آغاز ہوا، کیونکہ ان پاور پلانٹس سے بجلی دوسرے پلانٹس کو بھیجی گئی تھی تاکہ وہ ری بوٹ کرکے دوبارہ کام شروع کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق بحالی کا عمل پیر کی صبح 9 بج کر 39 منٹ پر بلوچستان میں اُچ پاور پلانٹ سے شروع ہوا، گرڈ کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا تھا اور آخری پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر دوبارہ شروع کیا گیا۔
دلچسپ مشاہدات اگرچہ این ٹی ڈی سی یا حکومت نے ابھی تک بجلی بند ہونے کی صحیح وجہ کا تعین نہیں کیا ہے اور اس وقت اس کا تعین کرنا ناممکن ہے۔

تاہم، کچھ مبصرین کے مطابق، پہلا ڈومینو جس نے بلیک آؤٹ شروع کیا وہ 747 میگاواٹ کا گیس پاور پلانٹ تھا جو گدو، سندھ میں واقع تھا۔ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں ابتدائی مسائل زیر بحث پاور پلانٹ سے منسلک تین 500کلو واٹ ہیوی پاور لائنوں میں دیکھے گئے۔ یہی پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر بحال ہونے والا آخری تھا۔

Leave a reply