سموں کی غیر قانونی ایکٹیویشن کیخلاف پی ٹی اے کا چھاپہ

0
44
sims

سموں کی غیر قانونی ایکٹیویشن کے خلاف پی ٹی اے نے چھاپہ مارا

پی ٹی اے اور ایف آئی اے کی مشترکہ کاروائی روات میں موبائل کمپنی کی دو فرنچائزز پر کی گئی ۔بی وی ایس ڈیوائسز، سلیکون، اصلی شناختی کارڈ اور سم کارڈز قبضے میں لے لئے گئے۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق کاروائی کے دوران چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔اس ضمن میں ایف آئی اے کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہے۔سموں کی فروخت کے غیر معمولی رجحان کے مشاہدے کے بعد ایف آئی اے کو شکایت درج کرائی تھی۔کاروائی ملٹی فنگر بائیو میٹرک ویریفیکیشن سسٹم (ایم بی وی ایس) کے ضمن میں جاری کاوشوں کا حصہ ہے۔اقدام سموں کے غیر قانونی اجراء کی روک تھام کے حوالے سے ہے۔

شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

ہماری بیگمات کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے،دو بھائیوں نے سگے بھائی کا گلا کاٹ دیا

قبل ازیں ایف آئی اے سائبر کرائم کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کہا کہ جعلی سموں کے خلاف گزشتہ ہفتے سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے پی ٹی اے کو عام شہریوں نے شکایات کی تھیں کراچی کی مختلف فرنچائز کو سیل کردیا ہے، اندرون سندھ کے علاوہ پنجاب سے بھی انگوٹھے کے نشانات پر سم کھلوائی گئی ہیں، اوکاڑہ اور لاہور کے لوگوں کی بھی شناخت ہوئی ہے، کمپنیوں کے نام سے جعلی سے فروخت ہو رہی تھی، 15 سے 20 ہزار جعلی سمیں برآمد ہوئی ہے، واٹس ایپ نمبر فروخت کیے جارہے ہیں، غیر قانونی سموں کا استعمال جرائم کی وارداتوں میں ہوتا ہے، تمام کمپنیوں کے نمائندے غیر قانونی سمز کھولنے میں ملوث تھے۔ سیلی کون کے ذریعے سم کھلوائی جاتی ہیں، کسی اور کے نام پر کھلنے والی سم بھتے اور اغوا کی وارداتوں میں بھی ملوث پائی گئی ہیں، کسی کے کاروبار کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، مگر ملک کو نقصان پہنچا کر کوئی کاروبار نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی اے کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے، ایف آئی اے اس دھندے میں ملوث افراد کو کسی صورت نہیں چھوڑے گی

Leave a reply