کیس میں عدالت نے ابھی تک تحمل کیا،وزیراعظم نے اس معاملے پر کیا کیا؟ عدالت

0
24

کیس میں عدالت نے ابھی تک تحمل کیا،وزیراعظم نے اس معاملے پر کیا کیا؟ عدالت

سزا یافتہ ہونے کے باوجود حنیف عباسی کی بطور معاون خصوصی تقرری کیس کی سماعت ہوئی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حنیف عباسی کو کام سے روکنے کے حکم میں 2 جون تک توسیع کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق جب تک سزا ہیں تب تک عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے اس کیس میں عدالت نے ابھی تک تحمل کیا ہے ،وزیراعظم نے اس معاملے پر کیا کیا ہے ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزیراعظم کو نظرثانی کے لیے سمری بھجوائی گئی تھی،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایگزیکٹو کے معاملے میں نہیں پڑتی یہ تو ان کو خود ہی دیکھنا چاہیے ،وکیل نے کہا کہ میری طرف سے لکھ لیں حنیف عباسی بطور معاون خصوصی کام نہیں کر رہے،عدالت نے کہا کہ عدالت پہلے حنیف عباسی کو کام سے روک چکی ہے،

سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے حنیف عباسی کے خلاف درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ حنیف عباسی کے خلاف 2012 میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے مقدمہ درج کیا، حنیف عباسی ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سزا یافتہ ہیں، حنیف عباسی کےخلاف ٹرائل کورٹ نے 21 جولائی 2018 کو سزا سنائی،لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزا معطل کر رکھی ہے،مجرم ہونے کا فیصلہ ختم نہیں ہوا، سیکرٹری کابینہ بتائیں کس قانون کے تحت حنیف عباسی کواس عہدے پر تعینات کیا گیا، حنیف عباسی کو 27 اپریل 2022 کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکرٹری کابینہ اور حنیف عباسی کو فریق بنایا گیا ہے

واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں، شہباز شریف نے اپنی کابینہ تشکیل دی ہے جس میں پیپلز پارٹی سمیت اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، شہباز شریف نے حنیف عباسی کو معاون خصوصی مقرر کیا تھا

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف درخواست نمٹا دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ درخواست غیر موثر نہیں ہو گئی ؟ وکیل بابر اعوان نے کہا کہ غیر موثر ہو گئی ہے لیکن بہت سارے لوگوں پر تشدد کیا گیا عمر ایوب کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ڈی چوک پر تھا کوئی غیر قانونی کام کر رہا تھا تو یہ ایگزیکٹو کا کام ہے،اگر کسی کا قانونی حق ہے تو اس کو اس سے محروم نہیں رکھا جا سکتا

آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

Leave a reply