کراچی بحریہ ٹاون فائرنگ سے جانبحق ہونے والے جزلان کے قتل کا مقدمہ درج

0
34

کراچی :شہر قائد میں فائرنگ کرکے لوگوں کو جان سے مارنے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہوگیاہے ،اس حوالے سے اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عارف صابر کی طرف سے یہ درخواست دائرکی گئی ہےکہ وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے اور اس کو فون پر یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ شمیر اور جزلان دونوں ہسپتال میں آغا خان ہسپتال میں زخمی پڑے ہیں

عارف صابر کہتے ہیں کہ میرا بھتیجا جزلان اور شمیر دو دوست ہیں اور ان کو جان سے مارنے کی کوشش کی گئی ہے ، عارف صابر کہتےہیں کہ زرگام ، جزلان اور شمیر ایک کار پربحریہ ٹاون کی طرف سفر کررہے تھے کہ راستے میں ایک موٹرسائکل سوار سے ٹکر ہوگئی ، اس دوران موٹرسائیکل سواروں کو کہا گیاکہ آپ کواحتیاط سے موٹرسائیکل چلانی چاہیے تھی اس طرح کا یہ انداز لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہوتا ہے

 

عارف صابر کہتے ہیں شمیر نے یہ واقع سنتے ہوئے کہاکہ اس کے بعد وہ موٹرسائیکل سوار غصے کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہے تھے اور انہوں نے اس دوران اپنے دوست احباب یا عزیزوں کو فون کیا ، شمیر کا کہنا تھا کہ جب ہم آئفل ٹاور بحریہ ٹاون کے قریب پہنچے تو ہماری کار پر فائرنگ کی گئی جس کی وجہ سے میں شمیر اور جزلان شدید زخمی ہوئگئے اس دوران لوگ بھی وہاں جمع ہوگئے تو ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ فائرنگ کرنےوالے محمد احسان عرف احسن ولد فیض ، محمد عرفان ولد محمد فیض اور محمد حسنین ولد فیض کے ساتھ کچھ نامعلوم بھی تھے فائرنگ کرکے فرار ہوگئے

محمد عارف صابر نے پولیس اسٹیشن میں‌درخواست جمع کرواتے ہوئےکہا کہ اس کا بھتیجا جزلان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گیا ہے جبکہ شعمیر ابھی بھی بستر مرکپر ہسپتال میں زیرعلاج ہے ، لٰہذا ان مجرموں کے خلاف کارروائی کے ان کو قرارواقعی سزا دی جائے

Leave a reply