fbpx

چودہ سالہ بچہ بدفعلی کے بعد قتل، ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا

سندھ کے ضلع سکھر کی تحصیل پنو عاقل میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والے بچے کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

پنو عاقل میں چودہ سالہ بچے کو 4 ماہ بدفعلی کے بعد قتل کیا گیا، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا ور تیس سے زائد ملزمان کو حراست میں لے کر تفتیش کی۔

تفتیشی ٹیم نے گرفتار ملزم سمیت 30 ملزمان کے نمونے حاصل کر کے انہیں تصدیق کے لیے لیبارٹری بھیجا، جس میں سے ایک گرفتار شخص شفیق جتوئی کا ڈی این اے میچ ہوگیا۔

شفیق جتوئی نے تفتیش کے دوران اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اُس نے بچے کو بہانے سے بلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر بتانے کے خوف پر اُسے قتل کردیا۔

پولیس حکام نے اس کو بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب ملزم کے خلاف زیادتی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے اُسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چار ماہ قبل سکھر کی تحصیل پنو عاقل کے رہائشی بچے کی لاش برآمد ہوئی تھی، جس پر اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا اور زیادتی کے بعد قتل کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس نے مقتول کی لاش کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیا تو میڈیکل میں بھی زیادتی ثابت ہوئی