"آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی
جس ملک میں سگریٹ سستا اور روٹی مہنگی ہو۔ اس ملک میں آپ تمباکو نوشی کے خلاف جتنی مہمیں چلا لیں۔ کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ جہاں ایک روٹی 12 روپے کی جبکہ ایک سگریٹ 02 روپے میں بھی مل جاتا ہو، وہاں اس لت سے کون رکے گا۔۔ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں اگر کامیاب ہونا ہے تو ایک ہی ہتھیار ہے، "ہیلتھ لیوی”۔ ہیلتھ لیوی بڑھا کر نا صرف تمباکو نوشی میں کمی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ سالانہ 40 ارب سے زائد کا ریونیو بھی بچایا جا سکے گا۔ 2018 میں تمباکو نوشی کے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق تمباکو میں 7 ہزار سے زائد کیمیکلز ہوتے ہیں۔جن میں سے 70 کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں۔تمباکو نوشی سے جہاں دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں، وہیں سر کے بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بالوں کی جڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ جس سے گنج پن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کم مقدار میں سگریٹ نوشی، صحت کے لیے نقصان دے نہیں ہے۔مگر روازنہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی جان لیوا امراض کے جنم لینے کے لیے کافی ہے۔ لندن کالج یونیورسٹی نے ایک تحقیق کی۔ جس کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ بھی جان لیوا امراض مرتب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایک سگریٹ کچھ عرصہ تک امراض قلب اور فالج جیسے امراض کا خدشہ بڑھا دیتا ہے۔
نوجوان نشہ شروع کیوں کرتے ہیں؟:
؎ پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
سمجھنا مت اس کو میری عادت
یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
میں تیری یادیں جلا رہا ہو
آج کل کی نوجوان نسل محبت میں ناکامی پر سگریٹ نوشی کو اولین فریضہ تصور کیے بیٹھی ہے۔ ادھر محبوب نے بے رخی دیکھائی اور ادھر مجنوں نے ریلوے کے انجن کی طرح فضا میں دھواں بکھیرنا شروع کردیا۔ جبکہ بعض نوجوان گھریلو ناچاکی اور سماجی دباؤ کے سبب بھی سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔
؎ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ
ہم سگریٹ کو نہیں پی رہے ہوتے دراصل سگریٹ ہمیں پی رہا ہوتا ہے۔ وقتی غم اگرچہ کم کر بھی دیتا ہو۔مگر اس سے جو امراض لاحق ہوتے ہیں۔۔ان کا کیا؟
تمباکو نوشی اور اسلام:
اسلام بلاشبہ دین کامل ہے۔ اور دنیا کے تمام شعبوں میں بہترین رہنما بھی۔ عبادات و معاملات سے لے کر کھانے پینے تک، ہر پہلو زندگی پر کامل اصول و ضوابط بتانے والا یہ دین ہمیں تمباکو نوشی سے پرہیز کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛
"(نبی مکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم) ان (اہلِ ایمان) کے لیے پاکیزہ صاف ستھری چیزیں حلال بتاتے ہيں اورخبائث کو حرام کرتے ہيں”۔
الأعراف: 157
تمباکو نوشی مال کے ساتھ ساتھ جان کی بھی دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے فرمایا ہے؛
"وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ”
(اپنے آپ کوقتل نہ کرو)۔
النساء: 29
جبک نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛
"ہر نشہ آور چیز ‘خمر’ (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا”۔
تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے طریقے:
1. تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مراقبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق تمباکو نوشی کے عادی افراد کو اس سے چھٹکارا پانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
2. ورزش بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنا میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ کیونکہ ورزش سے جسم میں نیکوٹین کی طلب میں کمی ہوجاتی ہے۔
3. بفیلو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے زیادہ استعمال سے بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مدد ملتی ہے۔
4. فارغ اوقات میں نئے نئے مشاغل بھی اس بری لت سے نکلنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
5. آکو پینکچر تھراپی
6. یونیورسٹی آف میامی کے سکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق کان میں چند سیکنڈز کجھلی کرنے سے بھی سگریٹ نوشی کی خواہش دم توڑ سکتی ہے۔
تمباکو نوشی کے خلاف واحد ہتھیار "ہیلتھ لیوی”:
دنیا میں کئی ممالک تمباکو نوشی جیسی بری لت پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مگر آج بھی پاکستان بدقسمتی سے اس لت میں مبتلا ہے۔ یہاں 20 فی صد آبادی تمباکو نوشی کی لت کا شکار ہے۔ کیونکہ یہاں سگریٹ روٹی سے زیادہ سستا ہے۔ یہاں لوکل کمپنی کا ایک سگریٹ 2سے 3 روپے میں جبکہ کسی برائنڈ کا ایک سگریٹ 8 سے 10 روپے میں بآسانی مل جاتا ہے۔ جبکہ ایک روٹی کی قیمت آج کل 12 سے 15 روپے ہے۔
تمباکو نوشی کے باعث امراض کے سبب صحت کی لاگت تقریباً 615 ارب روپے ہے۔ اور یہ لاگت پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فی صد بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک بلین تمباکو کا استعمال کرنے والے افراد میں سے تقریبا 6 ملین افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ شہری اس بری لت کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر حکومت ہیلتھ لیوی میں اضافے کر کے اس لت پر قابو پا سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے معاشی اور جانی نقصان کو کم کرنے کا واحد حل "ہیلتھ لیوی” میں اضافہ ہے۔ ہیلتھ لیوی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پبلک مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہونی چاہیے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی اور سزائیں ہونی چاہئیں۔ پبلک مقامات ، ٹرانسپورٹ، پارکس اور سکول و کالجز میں تمباکو نوشی پہ عائد پابندی پر عملدرآمد تو آج تک نہ ہوسکا۔ اگر ہو بھی جائے اس سے نجات کے لیے قانون سازی اور یہ معمولی سزائیں ناکافی ہیں۔اس کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں اعجاز الحق عثمانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے
باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم
آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل
بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی
”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی
:وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط
ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان