پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پرقابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،آرمی چیف

0
82

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ روجھان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ آج ڈیرہ اسماعیل خان اور روجھان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ آرمی چیف نے سیلاب ریلیف کیمپ کا دورہ کیا ،متاثرین سے ملاقات کی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پر قابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،سیلاب سے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کا بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، آرمی چیف نے جوانوں کو ہدایت کی کہ اس ذمہ داری کو نیک مقصد کے طور پر لیں،

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈی آئی خان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا بھی دورہ کیا آرمی چیف نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی جنرل قمر جاوید باوجوہ نے متاثرین کے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ایف سی ساوتھ خیبرپختونخواکے جوان متاثرین سیلاب کی فوری مدد کریں

دوسری جانب ملک میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں مزید ستائیس افراد جاں بحق او ستاسی زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق: آرمی فلڈ کنٹرول ہیلپ لائن 1125 کے پی کے لیے اور 1135 باقی پاکستان کے لیے کام کر رہی ہے۔ لوگ مدد کے لیے ان ہنگامی نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ جبکہ آرمی ایوی ایشن پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے فوج کے 157 ہیلی کاپٹروں کی پروازیں اور راشن کی نقل و حمل کیلے کوششاں ہے.

علاوہ ازیں: آفت زدہ علاقوں سے 50,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ مختلف میڈیکل کیمپوں میں 51,000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا اور مریضوں کو 3-5 دن کی مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق: ملک بھر میں 221 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ 1231 ٹن امدادی اشیاء کے ساتھ دیگر غذائی اشیاء بشمول ادویات کی اشیاء جمع کی گئیں اور سیلاب زدگان کے لیے روانہ کی جا رہی ہیں.

نیشنل ڈیزائسٹر مینجمنٹ ( این ڈی ایم اے ) نے سیلاب سے نقصانات کے تازہ اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سندھ میں مزید پندرہ افراد ،خیبرپختونخوا میں سات، بلوچستان میں چار اور پنجاب میں ایک شخص جان سے گیا۔ ملک میں سیلاب اور بارشوں سے مجموعی ہلاکتیں گیارہ سو اکیانوے ہوگئی ہیں، جب کہ تین ہزار چھ سو اکتالیس افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ سو بائیس مرد، دو سو چھیالیس خواتين اور تین سو ننانوے بچے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں اب تک سیلاب اور بارشوں سے تین لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو تئیس گھر تباہ ہوئے، جب کہ سات لاکھ تینتیس ہزار پانچ سو چھتیس گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ اس دوران دو سو تینتالیس پل تباہ اور پانچ ہزار تریسٹھ کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، جب کہ سات لاکھ اکتیس ہزار سے زائد مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے۔

پاکستان آرمی ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ مصیبت زدہ ہم وطنوں کی بحالی تک ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاکستان آرمی ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ کے ہمراہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہے۔ پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان کے جوان بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول کوئٹہ،جعفرآباد، نصیر آباد ، سبی ، جھل مگسی ، خضدار، آواران، نوشکی ، قلعہ عبداللہ، چاغی، مستونگ ، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل، بولان اور صحبت پور میں امدادی کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان آرمی کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف سیلاب زدہ علاقوں منجی شوریٰ، ربی اور بیدرپل ، بھاگ، پیر چتھل ، کچھی سے353 افراد کو ریسکیو کر کے ریلیف کیمپس میں منتقل کیا گیا ہے ۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کے لیے28 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب زدہ علاقوں 7080افراد کو پکا ہوا کھانا ، 2368 افرادکو راشن کے پیکٹس جن میں آٹا ، دالیں ، چاول ، چینی اور کوکنگ آئل شامل ہے مستحق لوگوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہے جہاں مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں ۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5،142مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی گئیں ۔ ذرائع آمدورفت کی جلد بحالی میں پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان سول انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہے چتھر سے ڈیرہ مراد جمالی اور لنڈا پل شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ۔ جبکہ دیگر شاہراوں اور پلوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہیں ۔پاک افواج ، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ اپنے تمام تر وسائل کوبروئے کار لاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں

Leave a reply