کورونا جیسے خطرناک وائرس سے نمٹنے کیلئے کراچی سمیت سندھ بھرمیں تیسرے روز بھی سخت لاک ڈائون رہا

0
33

کورونا جیسے خطرناک وائرس سے نمٹنے کیلئے کراچی سمیت سندھ بھرمیں تیسرے روز بھی سخت لاک ڈائون رہا،شاپنگ مالز، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس بند رہے، حکومتی فیصلے کے مطابق انٹرسٹی بس سروس بھی بند ہے لیکن بعض ٹرانپسورٹرز کی طرف سے فیصلے کی خلاف ورزی پرانتظامیہ متحرک ہوکرکارروائی کرتی ہے ،کورنگی،محمودآباد،پاپوش نگر،نیوکراچی،کیماڑی،صدر،آرام باغ،گلشن اقبال،فیڈرل بی ایریا سمیت مختلف علاقوں میں ہاف شٹرکے ساتھ کاروبار کرنے کی اطلاع پرضلعی انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے ضلع ساتھ میں درجنوں دکانوں کوسیل کردیا۔
کورنگی دونمبرکے علاقے میں تجارتی مراکز کھولنے پرانتظامیہ نے پوری مارکیٹ سیل کردی۔
کراچی میں تجارتی مراکز تو مکمل بند ہیں مگر راستوں پر ٹریفک معمول کے مطابق ہے۔افطاری کی خریداری کے لیے شام کے اوقات میں غیر معمولی رش ہوتا ہے۔کراچی میں سحری اور افطاری کے لئے خریداری کے دوران کہیں سماجی فاصلوں کا خیال رکھا جارہا ہے تو کہیں شہریوں کی لاپرواہی جاری ہے۔

تاجروں کی جانب سے اپنے گھروں اورمقامی مارکیٹوں کے باہر سامان بیچنے کے علاوہ ہاف شٹرکے ساتھ کاروبارکیا جارہا ہے جس کے خلاف بولٹن مارکیٹ اورصدرکے علاقوں میں کارروائی کی گئی جبکہ افطارکے بعد کراچی کے مختلف علاقوں محمودآباد،کورنگی،کلفٹن،رنچھوڑلائن،پاپوشنگر،حسین آباد،نیوکراچی سمیت مختلف علاقوں میں بعض دکانیں اچانک کھل جاتی ہیں جہاں لوگوں کا رش لگ جاتا ہے۔
کراچی کے مختلف بازاروں میں ٹھیلے اورپتھاروں پرمختلف آشیائے ضرورت فروخت کرنے والے افراد کاروباربند ہونے کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکارہوگئے ہیں اورانہوں نے اپنی روزی روٹی کے لیے پھیری لگا کرعید الفطرکی مناسبت سے آشیاء فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے بعض فٹ پاتھوں پربھی کپڑا بچھا کرعید کی مناسبت سے کپڑے ، جوتے دیگرآشیاء فروخت کی جارہی ہیں جہاں انتظامیہ کی آمد کے ساتھ ہی فوری سامان سمیٹ لیا جاتا ہے اورسامان بیچنے والے انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں اسی طرح ہاف شٹرکے ساتھ کام کرنے والے دکاندارفوری شٹرگرادیتے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں گلی محلوں میں پتھاروں پر عیدالفطرکی مناسبت سے گارمنٹس دیگر سامان فروخت کرنے کا محدود سلسلہ جاری ہے اوربعض علاقے جہاں افطارکے بعد محدود وقت کے لیے کاروبارکھول دیا جاتا ہے اس پرمختلف حلقوں میں تحفظات کا اظہارکیا جارہا ہے۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈان میں سب بند ہونا چاہیے، ایسا نہیں ہونا نہیں چاہیے کہ ایک مارکیٹ سے پیسے لے کر وہاں کے دکان داروں کو کاروبارکھولنے کی اجازت دے دی جائے، عیدی کے نام پر تاجروں سے رشوت وصول کی جارہی ہے اور جو دکان دار پیسے نہیں دے رہے ان کے کاروبار بند کیے جارہے ہیں۔

Leave a reply