fbpx

لوگوں کو کورونا ویکسین سے متعلق آگاہی فراہم کرنیوالے آٹو رکشے کے چرچے

بھارت کی ریاست چنئی سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ گوتم نے کوویڈ 19 کی ویکسین سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لئے ویکسین لگانے کے بعد ایک آٹو رکشہ کا ماڈل بنایا ہے-

باغی ٹی وی :انڈین ایکسپریس کے مطابق تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکشے کو کس منفرد طرز سے ڈیزائن کیا گیا ہے رکشے پر نیلے رنگ کا پینٹ کیا گیا ہے اس کے چاروں اطراف سرنجیں نکلی ہوئی ہیں جبکہ چھت پر کورونا ویکسین کی بڑی سی شیشی بھی بنائی گئی۔

اس رکشے میں ساؤنڈ سسٹم بھی نصب ہے جو اونچی آواز میں لوگوں کو کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

“میں ویکسینیشن کے بارے میں شعور پیدا کرنے پر کام کر رہا تھا اور میں نے گریٹر چنئی کارپوریشن سے رجوع کیا جو بھی کچھ ایسا ہی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ چنانچہ ہم مل کر ’ویکسین آٹو‘ لے کر آئے۔ یہ منصوبہ دو ماہ قبل تیار کیا جانا تھا لیکن بدقسمتی سے اس میں تاخیر ہوگئی کیونکہ میں کوویڈ ۔19 سے متاثر ہوا تھا ، ”گوتم نے انڈین ایکسپرس کو بتایا۔

آٹو منی کندن نامی ایک شخص چلاتا ہے جو کارپوریشن کے ہر زون کو روزانہ کی بنیاد پر محیط کرتا ہے۔ گوھم کا کہنا ہے کہ زونل میڈیکل آفیسر انہیں ان علاقوں کی ایک فہرست فراہم کریں گے جہاں ویکسین لگانے کے بارے میں شعور کی کمی ہے۔ اس مہم کے دوران جی سی سی زون کے سپروائزر بھی موجود رہیں گے۔ گوتم اور دیگر رضاکار ویکسین سے متعلق پرچے دیتے ہیں اور لوگوں کوویکسین سے متعلق ان کے سوالات پوچھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

“جی سی سی کی طرف سے بہت کوشش کرنے کے باوجود ، شہر میں بہت سے لوگ اب بھی ویکسین سے آگاہ نہیں ہے۔ خوف کا عنصر بھی ہے۔ ہم ان کو سمجھاتے ہیں کہ ماضی میں ویکسین نے بیماریوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہا کہ اسے ویکسین کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ ٹیکہ لگانے کے لئےمطلوبہ دستاویزات رکھنے والے قریبی پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر میں جاؤ۔ بہت سے لوگ کوویشیلڈ اور کوویکسین کے فرق سے بخوبی واقف نہیں ہیں اور ہم ان سب چیزوں کو آسان زبان میں سمجھا رہے ہیں-

گوتم نے بتایا کہ آٹو کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر بارش ہو بھی تو اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا اور یہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔