داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی تحریر: سفیر اقبال

0
18

داستانِ الم، بھارتی ڈرامہ اور حقوق انسانی
تحریر سفیر اقبال

یہ ہے نصف صدی پر محیط ظلم و جبر کی وہ ساری داستاں جو صرف چار تصاویر تصاویر میں نظر آ رہی ہے.

حملہ کیسے شروع ہوا کہاں سے شروع ہوا نہیں معلوم. بے بنیاد الزام آتنک وادیوں پر لگ گیا بہرحال تصاویر کے مطابق ایک بیگناہ کشمیری شہید ہو گیا جس کا تین چار سال کا پوتا چلتی گولیوں کے درمیان اس کے سینے پر بیٹھا رہا کہ دادا جان ابھی شاید نیند سے بیدار ہو جائے اور مجھے واپس گھر لے جائے.

اگلی تصویر میں بے یار و مددگار دادا کی لاش پڑی ہے اور اس کے ساتھ فوجی اس انداز میں کھڑے ہیں جیسے یہ انسان کی نہیں کسی جانور کی لاش ہو…. (کچھ انسانی رمق باقی ہو تو جانور کی لاش کے پاس بھی اس انداز میں بے فکری سے کھڑے ہونا مشکل ترین کام ہوتا ہے )

اس سے اگلی تصویر میں بچے کو اٹھا کر پیار کیا جا رہا ہے اور اس سے اگلی تصویر میں اس کو ٹافیاں عنایت کر دی گئیں.


یہ ہے کہانی ہر اس کاشمیری نوجوان کی جو بچپن میں اپنے باپ دادا، چاچو، ماموں کو بے قصور مرتا دیکھتا ہے اور اپنے دل میں انتقام پالنا شروع کر لیتا ہے. یہ مناظر بھولنے والے نہیں. یہ زخم کسی مرہم سے ٹھیک ہونے والے نہیں.

برہمن آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے نہ تو سارے مسلمانوں کو قتل کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں ان کی زمین سے نکال سکتا ہے. صرف ایک ہی طریقہ پے اس کے پاس کہ کسی طرح ان کا دل جیتا جائے لیکن دل جیتنے کا طریقہ بے قصور باپ کو قتل کرنے کے بعد بیٹے کو ٹافیاں دینا کبھی نہیں ہو سکتا. جس زمین پر آگ بوئی جائے وہ پھول پیدا نہیں کر سکتی.

نوجوان وقتی طور پر خاموش ہو بھی جائیں لیکن باپ یا دادا کے قاتل کبھی نہیں بھلائے جا سکتے…..! ظالم بنیا اپنی تدبیریں کرتا ہے مگر کچھ تدبیریں اللہ رب العزت کرتا ہے اور اسی کی تدبیر سب سے کارگر ہے.

آرمی کے غنڈے لاکھ دنیا کو دکھاتے رہیں کہ ہم کشمیری بچوں سے محبت کرتے ہیں مگر کشمیری شہداء کے چھینٹوں سے تر اپنے سرخ دامن نہیں چھپا سکتے. انتقام کی آگ بہت اذیت ناک ہوتی ہے جو دلوں میں اگر ایک بار بھڑک اٹھے تو چند ٹافیاں اس آگ کو کبھی نہیں بجھا سکتیں.

Leave a reply