fbpx

درد کی داستان تحریر: محمداحمد

زندگی کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جیسے ہم جنت نظیر وادی کہتے ہیں آج وہ صدی دو سالوں سے خون سے دُھلی پڑی ہے اُس وادی کو جنت نظیر کہتے ہیں یہ وہ وادی ہے جہاں لوگ سیر و تفریح کرنا بڑی خواہش سمجھتے تھے جو آج خاموش ہے کشمیر میں ظلم اور بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے گے ہیں جس کی مثال کہیں نہیں ملے گی اور جن نام نہاد مسلم امہ کا اتحاد بنا ہوا ہے نام کا رہ گیا ہے انسانیت کا درس دینے والوں کو ظلم نظر نہیں آتا سب اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں مسلم امہ انڈیا میں انتہا پسند تنظمیں نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح مسلمانوں کو شہید کر رہے ہیں کسی کو بھی شوشل میڈیا پہ شئیر کی گئی تصویریں نظر نہیں آئیں سب مسلم ممالک اپنے مفادات کی خاطر بیان بازی کر کے تھکتے نہیں ہیں لیکن جو جبر اور ظلم کی داستان سے کشمیر میں جو بچے یتیم ہوگے کتنے لوگ لاوارث ہوگے کتنوں کے گھر برباد ہوگے سب کِن کے منتظر ہے سب لوگ مسلم امہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب یہ بے حس لوگ ہمارے لئے ہمارے حق کے ساتھ لڑیں گے

اللہ تعالیٰ کو ظلم و ستم بالکل پسند نہیں جس طرح کشمیر اور فلسطین میں ظلم کے پہاڑ توڑے گے ہیں پوری دنیا جانتی ہے ۔ اُن بہنوں ، بیٹیوں، بچوں ، بزرگوں کی آہ لگی ہے جو آج پوری دنیا کرونا کی وباء میں مبتلا ہے اب کرونا کی وجہ سے پوری دنیا پر عذاب آیا ہوا ہے اسی وجہ سے اب کفار کو انڈیا میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسسز کی وجہ سے انسانیت یاد آگئی اس وقت سوشل میڈیا پر کشمیر اور فلسطین میں ظلم کی داستان نظر نہیں آئی بچوں کے سامنے والدین کو گولیاں ماری گئیں بزرگوں کو شہید کیا گیا پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح پاکستان کو بدنام کیا جاۓ لیکن کشمیریوں کی داد رسی کیا ہے وہ اپنا حق مانگتے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کسی بھی دوسرے ملک میں حق ارادیت کا قانون ہے وہاں ان کے مزہب کیلئے کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی ان کو پورا حق دیا جاتا ہے وہ جیسے مرضی اپنی عبادت کریں لیکن انڈیا میں کہیں مسلمان ملے اس کو زندھ جلا دیا جاتا ہے یا اس پر تب تک ظلم کیا جاتا ہے جب تک وہ اپنی جان سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھتا جہاں داڑھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت رسول کو زبردستی کاٹ دیتے ہیں کہیں بھی جبر سے کچھ بھی نہیں منایا جاتا

اس جبر کے نظام کی وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ دنیا نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو قراردادوں کے ذریعے سے اُن کو اُن کا حق دلانا ہے کشمیریوں کےلئے ریفرنڈم سے فیصلہ کرنا چاہیے کہ کشمیری آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں یہاں حالات ایسے ہیں اگر کوئی ملک کشمیر ، فلسطین کیلئے آواز بلند کرتا ہے ہا حمایت کرتا ہے تو اس کو زور دیا جاتا ہے اس پر معافی مانگے کیا مسلمانوں کے خون اتنے سستے ہوگے ہیں کہ 65 ممالک نے انکھوں پہ پٹی باندی ہوئی ہے جن میں انسانیت ختم ہوگئی ہے انصاف کے تقاضے ختم ہو گے ہیں عمران خان صاحب نے جب پہلی دفعہ کشمیر کے حق میں آواز بلند کی تھی اور تقریر کرکے دنیا کو واضع پیغام دیا تھا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے اور کرفیو ہٹانے کی آواز بلند کی ۔ بہت سے لوگوں نے مزاق اڑانا شروع کر دیا کہ آدھے گھنٹے کی تقریر سے کیا ہوگا بہت زیادہ مزاق اڑایا حالانکہ عزت اور زلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے پوری دنیا میں کہرام مچ گیا تھا کہ پاکستان اس حد تک بھی جا سکتا ہے پاکستان نے کھلا پیغام دیا ہے پاکستان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ہم کسی بھی صورت کمپرومائز نہیں کریں گے اللہ نے کشمیروں کو ان کا حق ضرور دلانا ہے ایک دن آۓ گا کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہے ظلم جب حد سے بڑھ جاتا یے مٹ جاتا ہے
تمام دوستوں عزیزوں سے گزارش ہے جتنا ممکن ہوسکے اپنے کشمیری بہن بھائیوں کیلئے آواز بلند کریں ہمیشہ یہ سوچ کر آواز بلند کریں کہ شاید آپ ایک میسج سے کسی کا ضمیر جاگ جاۓ
@JingoAlpha