fbpx

فیمنزم تحریر : اقصٰی صدیق

ویسے تو فیمنزم کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر صحیح معنوں میں فیمنزم ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق مرد اور عورت دونوں یکساں انسانی حقوق، بنیادی سہولیات، معاشی اور سماجی حقوق کے حق دار ہیں۔فیمنزم اصل میں مغربی خواتین کی اپنے حقوق کے لیے کئیے جانے والی جدوجہد کی ہی ایک شکل ہے۔
فیمنزم کا آغاز اس وقت ہوا، جب 1911 میں برطانوی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔

دیکھا جا سکتا ہے، کہ مغربی خواتین نے اپنے حقوق کیلئے کوششیں کی جو ابھی تک جاری ہیں ۔
مغربی خواتین نے پہلے خود کو مرد کے تسلط سے آزاد کیا، تعلیم، ملازمت، بزنس، غرض کہ ہر جگہ یکساں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں جس کے پیش نظر انہیں حقوق کی جدوجہد میں بہت آسانیاں رہیں۔
حال ہی میں پاکستان میں بھی فیمنزم کا نام سنا جانے لگا ہے گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں بہت تیزی بھی آئی ہے۔ پاکستان میں فیمنزم کے حوالے سے خواتین کا کردار ہر گز مغربی خواتین والا نہیں ہے یہاں خواتین کو حقوق مغربی خواتین والے چاھئیں مگر ذمہ داریوں کے لحاظ سے پاکستان کی خواتین اتنی زمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔
معاشرہ مرد و عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے۔دیکھا جائے تو خواتین کے استحصال میں مردوں کا حصہ زیادہ گناجاتا ہے، یہ بات بھی قابل قبول ہے لیکن خواتین اس معاشرہ کا حصہ ہیں۔ خواتین پر ظلم نہیں کیا جاسکتا، یہ ترقی یافتہ قوموں کا دستور نہیں۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گالی کی طرح بنا دیا گیایہ لفظ عورتوں کے اپنےحقوق کی کتنی لمبی لڑائی اور جدوجہد کے کے بعد وجود میں آیا ہے، تاریخ میں اس کے حوالے سے ہزاروں مضامین اور کتابیں موجود ہیں لیکن آج بات چیت کا موضوع وہ نہیں ہے۔

جب ایک معاشرہ عورت کی عقل و دانش کی نفی کرتا ہے تو اسے فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا، اسے اختیارات حاصل نہیں۔ایسے معاشرے میں عورت کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی مانند ہوتی ہے جن کو انسان کچھ فائدے اٹھانے کے لیے پالتا ضرور ہے لیکن انہیں وہ اپنا جیسا نہ تو اپنے جیسا سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی ان سے برابری کا سلوک کر سکتا ہے۔

حقوق نسواں(عورتوں کے حقوق) اور فیمنزم بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے،
جس پر ہمارے معاشرے میں بغیر کسی سمجھ بوجھ کے، اسکی تاریخ، اغراض و مقاصد، اور کردارکو جانے بغیر رائے دی جاتی ہے اور بعد میں یہی اختلاف رائے یا اتفاق رائے بعض اوقات بہت پیچیدہ مسائل کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
فیمنزم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں مردکت نقطہ نظر کو ترجیح دی جاتی ہے اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی، امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں فیمنزم ایک ایسی جدوجہد مسلسل کا نام ہے جس میں خواتین کیلئے مردوں کے برابرتعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کی جدوجہد کرنا شامل ہے۔
خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل ایک تحریک فیمنسٹ موومنٹ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، اس مہم میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدے پر فائز ہونا، جائداد کی ملکیت کا حق حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، پسند کی شادی کرنے کا حق خواتین اور لڑکیوں کو عصمت دری، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا، من پسند لباس زیب تن کرنا اور مناسب اور قابل قبول جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق شامل ہیں۔

عورت ’’انسان ‘‘ کا نسوانی روپ ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس کے امکانات بھی لامحدود ہیں۔

ہم تاریخ کے تسلسل کا ایک حصہ ہیں۔برصغیر میں مسلمان معاشرے کی تاریخ ہمیں ہرگز یہ نہیں بتاتی کہ ہمارے آباؤ و اجداد عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
زیادہ تر معاشروں میں یہ رواج نہ جانے کب سے چلا آرہا ہے کہ عورتوں کو مذہبی معاملات سے دوررکھا جاتا ہے۔ دنیاوی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے دینی تعلیم کی بھی نفی کی جاتی ہے۔
برصغیر کے مسلم معاشرے میں عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم کرنے کے روشن شواہد موجود ہیں۔

آج جب میں دنیا بھر کے مسلمان معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا دیکھتی ہوں، تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔کیونکہ میں مغرب کی آزاد و خود مختار عورت کو پس پشت ڈالتے ہوئے زمانہ جاہلیت کے دور میں زندہ دفن کر دی جانے والی عورت سے لے کر موجودہ دور میں ظلم و تشدد، جبر، غربت کی چکی میں پیستی، ہراساں کی جانے والی، تیزاب پھینک کر جلا دی جانے والی اور غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی بنتِ حوا کو دیکھ کر خوف زدہ ہوں، اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہوں.

@_aqsasiddique