یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے ازقلم :غنی محمود قصوری

0
34

یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے

ازقلم غنی محمود قصوری

6 ستمبر کو ہر سال شہداء 1965 کی یاد میں یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے

اس دن ہمارے بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا صبح کا ناشتہ لاہور جا کر کرینگے
اس دن پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ جنگیں بڑی فوج،زیادہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی سے لڑی جاتی ہے

دشمن نے لاہور پہنچنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا جیسے خالہ گھر جانا ہو
دشمن نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں پُراعتماد آواز میں کہا
پاکستان کے 10 کروڑ عوام جن کے دل لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کر دی جائیں

اور پھر دنیا نے بھارت کی رسوائی کا خوب تماشہ دیکھا
محض 72 گھنٹوں میں ہی دشمن کی ایسی ٹھکائی کی گئی کہ دشمن نے اقوام عالم سے جنگ بندی کی فریاد کی

ہمارے بزدل دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر 600 ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیا مگر افواج پاکستان نے اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا

واہگہ بارڈر ،بی آر بی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے جبکہ اس کے قریب ترین محاذ
قصور میں داخل ہونے کیلئے دشمن نے کھیم کرن سے بھرپور حملہ کیا تاہم افواج پاکستان نے دشمن کو نا صرف پیچھے دھکیلا بلکہ اس کے کئی کلومیٹر علاقے پر قبضہ بھی کر لیا

پاک فضائیہ نے ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا آج بھی ایم ایم عالم رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے پر حیران ہے انہوں نے دشمن کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی

پاکستان نیوی نے دشمن کے علاقے میں جا کر چیلنج کیا پاکستانی پی این ایس مہران نے دشمن کے پانیوں میں پہنچ کر ایسی ڈھاک بٹھائی کہ بزدل دشمن کے بحری جہاز اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ نکلے

اس دن کی فتح پاکستانیوں کی جذبہ ایمانی اور حب الوطنی تھی جیسا کہ فرمان نبوی ہے

مفہوم حدیث ﷺ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں
اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے

اس حدیث کے مطابق پوری قوم نے درد محسوس کیا اور دشمن کر ڈٹ کر مقابلہ کیا
مگر کیا اب بھی اس قوم میں یہی جذبہ موجود ہے ؟

جی الحمدللہ چاہے جتنے بھی حالات آئے اس قوم کا جذبہ مانند نہیں ہوا
دشمن نے اس جذبے کو مانند کرنے کیلئے ہمارے اندر صوبائی،علاقائی،لسانی،دینی اختلافات ڈالنے کی ہزار بار کوشش کی مگر بفضل تعالی وہ ہر بار ناکام رہا اور رہے گا بھی کیونکہ یہ خطہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے اس کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے

احادیث نبویہ میں ہندوستان کے جہاد کا ذکر کثرت سے موجود ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے دور حکومت میں ہندوستان پر مہم جوئی کا آغاز ہو چکا تھا
فضیلت جہاد ہند پر ایک حدیث پیش خدمت ہے

یوم دفاع پاکستان جیسا جذبہ ابھی زندہ ہے

ازقلم غنی محمود قصوری

6 ستمبر کو ہر سال شہداء 1965 کی یاد میں یوم دفاع پاکستان منایا جاتا ہے

اس دن ہمارے بزدل دشمن نے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا صبح کا ناشتہ لاہور جا کر کرینگے
اس دن پاکستانی قوم نے ثابت کیا کہ جنگیں بڑی فوج،زیادہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ جذبہ ایمانی سے لڑی جاتی ہے

دشمن نے لاہور پہنچنا اتنا آسان سمجھ لیا تھا جیسے خالہ گھر جانا ہو
دشمن نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں پُراعتماد آواز میں کہا
پاکستان کے 10 کروڑ عوام جن کے دل لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آواز کے ساتھ دھڑک رہے ہیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارتی توپیں ہمیشہ کے لیے خاموش نہ کر دی جائیں

اور پھر دنیا نے بھارت کی رسوائی کا خوب تماشہ دیکھا
محض 72 گھنٹوں میں ہی دشمن کی ایسی ٹھکائی کی گئی کہ دشمن نے اقوام عالم سے جنگ بندی کی فریاد کی

ہمارے بزدل دشمن نے چونڈہ کے محاذ پر 600 ٹینکوں کے ساتھ حملہ کیا مگر افواج پاکستان نے اس کے ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا

واہگہ بارڈر ،بی آر بی کے محاذ پر میجر عزیز بھٹی شہید نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے جبکہ اس کے قریب ترین محاذ
قصور میں داخل ہونے کیلئے دشمن نے کھیم کرن سے بھرپور حملہ کیا تاہم افواج پاکستان نے دشمن کو نا صرف پیچھے دھکیلا بلکہ اس کے کئی کلومیٹر علاقے پر قبضہ بھی کر لیا

پاک فضائیہ نے ایسی تاریخ رقم کی کہ دنیا آج بھی ایم ایم عالم رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے پر حیران ہے انہوں نے دشمن کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے جس سے دشمن کی کمر ٹوٹ گئی

پاکستان نیوی نے دشمن کے علاقے میں جا کر چیلنج کیا پاکستانی پی این ایس مہران نے دشمن کے پانیوں میں پہنچ کر ایسی ڈھاک بٹھائی کہ بزدل دشمن کے بحری جہاز اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگ نکلے

اس دن کی فتح پاکستانیوں کے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کے بدولت تھی جیسا کہ فرمان نبوی ہے

مفہوم حدیث ﷺ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں
اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم درد محسوس کرتا ہے

اس حدیث کے مطابق پوری قوم نے درد محسوس کیا اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا
مگر کیا اب بھی اس قوم میں یہی جذبہ موجود ہے ؟جی الحمدللہ چاہے جتنے بھی برے حالات آئے اس قوم کا جذبہ مانند نہیں ہوا –

تاہم دشمن نے اس جذبے کو مانند کرنے کیلئے ہمارے اندر صوبائی،علاقائی،لسانی،دینی اختلافات ڈالنے کی ہزار بار کوشش کی مگر بفضل تعالی وہ ہر بار ناکام رہا اور رہے گا بھی کیونکہ یہ خطہ لا الہ الااللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے اس کی بنیادوں میں شہداء کا لہو شامل ہے-

Leave a reply