fbpx

ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

ذیابیطس کا مرض اس وقت وبائی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42کروڑ 22لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق چالیس سال قبل کے اعدادوشمار کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ مرض پہلے کے مقابلے میں چار گنا بڑھا ہے۔ صرف پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد اس مرض کے سبب معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کا سبب بننے والی آٹھویں بڑی وجہ ہے اور 2005ء کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

16-2017 میں ہونے والے ایک قومی سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔ اس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔

ذیابیطس ایسا متعدی مرض ہے جو کہ خون میں شکر کی مطلوبہ حد سے تجاوز کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے اور اثرات کے لحاظ سے نہ صرف مہلک ہے بلکہ کئی دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ شوگرکے مریض جلد ہی دل، گردوں اور آنکھوں کے امرض میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں جسمانی محنت کی کمی، موٹاپا اور غیر متوازن غذا شامل ہیں جن کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اس مرض کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ 25برسوں میں یہ تعداد 14ملین تک بڑھنے کا امکان ہے۔ ذیابیطس پر مؤثر کنٹرول کے لیے متوازن غذا، منصوبہ بندی، باقاعدہ ورزش اور ادویات کا استعمال ضروری ہے۔

ذیابیطس کی معروف علامات میں تھکاوٹ کا احساس،بھوک اور پیاس میں اضافہ ، پیشاب کی زیادتی، ہاتھوں یا پیروں کا سن ہونا یا جھنجھناہٹ، انفیکشن کا با ر بار ہونا، بینائی میں دھندلاپن، زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونا، خشک کھردری جلد/خارش کا ہونا اور جنسی مسائل شامل ہیں۔ لہٰذا کسی ایک یا زائد علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

چونکہ ذیابیطس کے بارے میں شوگر ٹیسٹ / سکریننگ سے ہی معلوم ہوتا ہے، اس لیے ایسے افراد جن کی عمر چالیس برس سے زائد ہو، خاندان کے دیگر افراد میں ذیابیطس موجود ہو، خواتین جن کو دوران حمل ذیابیطس ہو چکی ہو، خواتین جنہوں نے 9پونڈ سے زیادہ وزن کے بچے کو جنم دیا ہو اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو احتیاطاًسکریننگ کرواتے رہنا چاہیے تاکہ بیماری کی صورت میں بروقت علم ہو سکے۔

منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

ذیابیطس ٹائپ 1۔ بچپن یا اوائل عمری میں ہوتی ہے، اس میں انسولین قدرتی طور پر جسم میں کم پیدا ہوتی ہے ، اس کا علاج انسولین کے بغیر ممکن نہیں۔

دوسری قسم کو ذیابیطس ٹائپ 2کہا جاتا ہے۔ذیابیطس کے مریضوں میں دس میں سے کم از کم نو ٹائپ 2میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً بڑی عمر کے افراد میں ہوتی ہے۔ ذیابیطس کی اس قسم میں جسم میں بنتے والی قدرتی انسولین موثر طور پر استعمال نہیں ہو سکتی، جس کی وجہ سے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

لو بلڈ شوگر کی علامات میں کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا، جلد زرد پڑ جانا اور ٹھنڈ سمیت چپچپاہٹ محسوس ہونا، چڑچڑاہٹ، الجھن اور خراب رویے کا مظاہرہ، دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا اور مریض کا ہوش و حواس کھو دینا یا بے ہوش ہوجانا شامل ہے ۔اس کا امکان ان مریضوں میں زیادہ ہوتا ہے جن میں حال ہی میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہو۔ اگر مریض مکمل طور پر ہوش و حواس میں ہو تو اسے کوئی میٹھا مشروب یا کوئی گلوکوز ٹیبلیٹس دینی چاہیے۔

ذیابیطس کے شکار افراد اکثر اپنے ساتھ گلوکوز کی ڈوز یا کوئی میٹھی چیز رکھتے ہیں، جس کا ڈاکٹر بھی انہیں مشورہ دیتے ہیں۔ اگر مریض کچھ کھانے یا پینے کے بعد فوری طور پر حالت میں بہتری محسوس کرنے لگے تو اسے ایسی غذا دیں جو آہستگی سے کاربوہائیڈریٹ ریلیز کرتی ہو جیسے سینڈوچ، پھل کا ایک ٹکڑا، بسکٹ اور دودھ وغیرہ۔ اس کے بعد مریض کا گلوکوز لیول چیک کریں۔ اگر حالت زیادہ خراب ہونے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بلڈ شوگر بڑھنے کی علامات میں بہت زیادہ پیاس، بہت زیادہ پیشاب آنا (خاص طور پر رات کو)، وزن میں کمی، جلد پر خارش، زخموں کا دیر سے بھرنا اور مریض پر ہر وقت غنودگی طاری رہنا جو بے ہوشی کا باعث بن جائے شامل ہیں۔ اگر مریض گر جائے اور آپ کو بلڈ شوگر میں اضافے کا شبہ ہو تو فوری طور پر اس کی سانس چیک کرنی چاہیے اور ایمرجنسی طبی امداد کے لیے کال کرنی چاہیے۔ اگر مریض صحیح سانس نہیں لے رہا ہو تو اسے پہلو کے بل لٹا دیں، اس پوزیشن میں اس کی سانس کی گزرگاہ کھل جائے گی۔ اگر وہ پہلو کے بل لیٹ نہیں پا رہا تو اس کے حواس، سانس اور دھڑکن کو چیک کریں۔ طبی امداد کے آنے تک بار بار مریض کو چیک کرتے رہیں۔

ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتائے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
ذیابطیس کے مریضوں کیلئے کونسے پھل مفید ہیں؟
ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

یہاں ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتا رہے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

سبز سیب:
سبز سیب ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سُپر فوڈ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ پھل زنک، آئرن اور دیگر ٹریس میٹلز سے بھرپور ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ سبز سیب میں چینی کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ سُرخ سیب کا انتخاب نہ کریں کیونکہ ان میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

موسمبی:
سائٹرک پھل ذیابیطس پر حیرت انگیز کام کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر موسمبی میں گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ موسمبی وٹامن سی، فلیوونائڈ اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے۔

ناشپاتی:
ناشپاتی کا گلائیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، اس لیے یہ خون میں شوگر کی سطح کو جلدی نہیں بڑھا سکتا۔ یہ وٹامن اے، سی، ای، بی1، بی2، بی3 اور بی9 سے بھرپور ہے۔ ناشپاتی میں پوٹاشیم، کیلشیم اور زنک کی اعلیٰ مقدار ہوتی ہے۔ ناشپاتی کو ریشے دار ہونے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور کیروٹینائڈز ہوتے ہیں۔

جامن:
جامن شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے اس میں وٹامن اے، سی، گروپ بی اور ڈی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہائی بلڈ شوگر لیول کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

امرود:
کم گلیسیمک انڈیکس ہونے کے علاوہ امرود میں سوڈیم کی مقدار کم اور پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ذیابیطس کے مریض کی صحت کے لیے ضروری ہے امرود میں بھی موسمبی کے مقابلے چار گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے-

ذیابیطس کی روک تھام کرنے والی 9 غذائی عادات

ذیابیطس سے بچاﺅ یا لاحق ہونے پر اسے پھیلنے سے روکنا زیادہ مشکل نہیں اور طبی سائنس نے اس کے حوالے سے چند غذائی عادات پر زور دیا ہے۔

گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دینا
ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں (ہفتے میں کم از کم 11 بار) ان میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 13 فیصد کم ہوتا ہے۔ گھر میں بنے کھانے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھتے ہیں جو ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والا عنصر ہے۔

اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

اجناس کا زیادہ استعمال
جو لوگ دلیہ، گندم اور دیگر اجناس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ طبی جریدے جرنل ڈائیبٹولوجی میں شائع ایک تحقیق میں کیا گیا تھا۔

اخروٹ کا روزانہ استعمال
امریکا کی یالے یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص میں ذیابیطس کی تشکیل کا خطرہ ہو تو وہ تین ماہ تک روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کا استعمال کرے تو اس کی خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اور یہ دونوں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اخروٹ کے استعمال سے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ نہیں ہوتا اور انہیں کسی بھی وقت کھایا جاسکتا ہے۔

غذا میں ٹماٹر، آلو اور کیلوں کی شمولیت
یہ سب پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ منرل ذیابیطس کے شکار افراد کے دل اور گردوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور غذا کھانے سے گردے کے افعال میں خرابی آنا سست ہوجاتا ہے جبکہ خون کی شریانوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

غذائی تجربات سے گریز
امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی اور ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ کھانوں میں بہت زیادہ تنوع پسند کرتے ہیں ان میں میٹابولک صحت خراب ہوتی ہے اور موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ مخصوص غذاﺅں تک ہی محدود رہتے ہیں وہ عام طور پر صحت بخش کھانوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اس طرح ان میں ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

دہی کا استعمال
روزانہ دہی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ اٹھارہ فیصد تک کم کردیتا ہے اور یہ بات ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تھقیق میں سامنے آئی۔ محققین کے مطابق دہی میں ایسے بیکٹریا ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت بہتر کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم اس حوالے سے محققین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاہم پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ دہی کے استعمال سے نقصان کوئی نہیں ہوتا ذیابیطس کے شکار افراد کو اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ دن بھر میں 6 بار کم مقدار میں کھانا کھائیں مگر زیادہ مقدار میں کم تعداد میں غذا زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہے۔ چیک ریپبلک کی ایک تحقیق کے مطابق کم مقدا رمیں زیادہ بار غذا کا استعمال کچھ اتنا فائدہ مند نہیں، اس کے برعکس تین بار میں پیٹ بھر کر کھالینا بلڈشوگر میں کمی لاتا ہے اور جسمانی وزن بھی متاثر نہیں ہوتا اور ہاں بھوک بھی محسوس نہیں ہوتی۔

ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

پھلوں کا بہتر انتخاب
جو لوگ جوسز کی بجائے پھل خاص طور پر بلیو بیریز، سیب اور انگور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ بھی ہفتے میں کم از کم دو بار تو ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق پھلوں کے جوس جتنے بھی صحت بخش قرار دیئے جائیں مگر وہ میٹابولزم امراض بالخصوص ذیابیطس کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔

جبکہ کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال ذیابیطس کا مریض بننے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کرنا جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے سمیت دل اور ذیابیطس جیسے امراض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!