دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت

سنڈروم صحت عامہ کی ایک ہنگامی صورتحال ہے
0
80
healtn KMC

واشنگٹن میں ماہرین طب نے دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ہر 3 میں سے ایک شخص کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔

باغی ٹی وی: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے پہلی بارکارڈیو ویسکیولر-کڈنی میٹابولک سنڈروم یا ’سی کے ایم‘ کوبیان کیا اس حوالےسے جاری کی جانے والی ایڈوائزری کے مطابق، اس بیماری کو پہچاننے کا مقصد "سی کے ایم” سے متاثر لوگوں کے لیے شروع میں ہی اس کی تشخیص اورعلاج حاصل کرنا ہے جو دل کی بیماری سے مرنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

بالٹی مور کی جان ہاپکنز یونیورسٹی میں کارڈیالوجی کے شعبے میں موٹاپے اور کارڈیو میٹابولک ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چیاڈی ای نڈومیلے نے کہا کہ دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد کو کم کرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے اگرچہ کارڈیو ویسکیولر، کڈنی، میٹابولک سنڈروم( سی کے ایم ) سنڈروم صحت عامہ کی ایک ہنگامی صورتحال ہے، آبادی میں سی کے ایم صحت کو بہتر بنانے کے بھی بہت زیادہ امکانات ہیں، علاج کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ جو میٹابولک خطرے کے عوامل، گردے کے منفی واقعات کا خطرہ، یا دونوں، جو سی وی ڈی کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں-

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

اے ایچ اےصدارتی مشاورتی اور اس کے ساتھ سائنسی بیان، جو سی کے ایم کے سائنس اور طبی انتظام کے ثبوت کا خلاصہ فراہم کرتا ہے، 9 اکتوبر کو جرنل سرکولیشن میں آن لائن شائع ہوا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دل کے امراض پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کارڈیو ویسکیولر، کڈنی، میٹابولک سنڈروم (سی کے ایم) ذیابیطس کے ٹائپ 2، گردے اور موٹاپے جیسے امراض اور دل کے امراض کے درمیان ایک تعلق ہوتا ہے بظاہر اسے کوئی نیا مرض نہیں کہہ سکتے لیکن اسے ایک نئے انداز سے دیکھنا چاہیے کہ یہ کس طرح ایک دوسرے کومتاثر کرتے ہیں۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہر3 میں سے ایک شخص میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس خطرے کے عوامل پائے جاتے ہیں جو ان کی اس کیفیت میں مبتلا ہونے کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں سی کے ایم کے متعلق بتانے کا مقصد دل کے امراض سے موت واقع ہونے کے خطرے سے دوچار افراد میں بیماری کی جلد تشخیص ہے تاکہ وہ اس کا بروقت علاج کر سکیں۔

ورلڈکپ: جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیج 1 میں وہ افراد آتے ہیں جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے بالخصوص پیٹ کی چکنائی کا زیادہ ہونا یا پری ڈائبیٹیز کے مرحلے میں ہونا، اسٹیج 2 میں لوگوں کو بلند فشار خون اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی بیماریاں شروع ہوجاتی ہیں اس وقت ممکنہ طور پر گردے کا مرض بھی ہوسکتا ہے،اسٹیج 3 میں میٹابولک خطرے کے عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشراورابتدائی دل کی بیماری یا گردے کی بیماری والے افراد شامل ہیں جن میں ابھی تک علامات نہیں ہیں.

بڑھتے ہوئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ میٹابولک خطرے کے عوامل جیسے پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ شوگر جسم کے دیگر اعضاء کو کس طرح منفی طور پر متاثر کرسکتے ہیں90 فیصد سے زیادہ بالغ افراد ’سی کے ایم‘ کی رینج میں آتے ہیں، ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بالغوں اور بچوں میں موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کی ریکارڈ سطح ہے۔

نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

Leave a reply