دوستی ایک نازک رشتہ تحریر:امتیاز احمد سومرو

0
183

لفظ دوستی ایک ایسی مشعل ہے جو اجنبی ، انجان ، نا آشنا لوگوں کے دلوں میں بھی جلنے لگتی ہے اور یہ مشعل دوستی جیسے اعلی رشتے کو باہم روشن کرتی ہے۔جانتے ہیں اس مشعل کو جلانے کے لیے کس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ؟ اعتماد ، جی ہاں اعتماد ہی وہ ہوتا ہے جو اس مشعل کو جلائے رکھتا ہے۔ اگر اعتماد ختم ہو جائے تو عرصہ دراز کی دوستی لڑ کھڑا جاتی ہے اور دم توڑنے لگتی ہے۔ اگر اعتماد بحال نا ہو تو یہ عظیم رشتہ دم توڑ جاتا ہے۔ لیکن ٹھہرئیے یہاں ایک اور بات غور طلب بات یہ ہے کہ دوبارہ اعتماد بحال کیونکر ہو؟ فرض کریں اعتماد بحال ہو بھی جائے تو کیا یہ پہلے جیسا مظبوط اعتماد ہو گا؟ کیا یہ ایسا اعتماد ہو گا جو دوستوں کی آپس کی ناچاکیاں اپنے اندر سمیٹ لے۔ ایسا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اب ایسا کیوں جناب!
۔
ایسا اس لیے کہ اعتماد ایک نازک آئنیہ کی طرح ہوتا ہے جب تک آئینہ ٹوٹے نہ یہ مکمل اور پورا شفاف عکس دکھاتا ہے لیکن جب ٹوٹ جاتا ہے تو جڑنے کے بعد بھی یہ مکمل اور پورا عکس نہیں دکھاتا بلکہ دو عکس دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح دوستی میں بھی ہوتا۔ دوستی میں جب تک باہمی اعتماد برقرار رہتا ہے تب تک دوستوں کا عکسواضح اور ایک ہی دکھائی دیتا ہے لیکن جب باہمی اعتماد ٹوٹ جائے اور کم و بیش بحال بھی ہو جائے تو عکس دو ہی دکھائی دیتے پھر۔ دوستوں کی آرا میں یکجیہتی ختم ہو جاتی۔ ایسی دوستیاں پھر دیر پا نہیں چلتی بلکہ غلط فہمیوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔
برائے کرم چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو در گزر کریں تاکہ اعتماد کا آئینہ ٹوٹنے نا پائے۔

@Imtiazahmad_pti

Leave a reply