کسانوں کی وجہ سے مودی دنیا بھرمیں اپنا چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہا،مزید رسوائی ہوگی :مبشرلقمان

0
29

لاہور:کسانوں کی وجہ سے مودی دنیا بھرمیں اپنا چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہا،مزید رسوائی ہوگی :مبشرلقمان نے مودی کی دہلائی کردی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سینیئر صحافی تجزہ نگارمبشرلقمان کہتے ہیں کہ مودی کی پالیسیان بھارت کو لے ڈوبیں گی اورہردن مودی کےلیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے ،

 

مبشرلقما کہتے ہیں‌کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ دہلی میں کسانوں کی وجہ سے بھارت کی دنیا بھرمیں توہین ہوئی۔ مظاہرین نے لال قلعے پر دھاوا بول کر ترنگے کو رسوا کیا ۔ جس پر میں اور قوم غمزدہ ہیں۔ مودی نے تو جو کہنا تھا کہہ دیا ۔ مگر ہوا کچھ یوں کہ دہلی کے باہرہندو انتہا پسند تنظیم آرایس ایس کے غنڈوں نے کسان مظاہرین پر تلواروں سے حملہ کردیا۔ جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ اس پر کسان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی کسانوں کے احتجاج کو بدنام کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو رہی ہے ۔ مودی سکھوں کے قتل عام کا منصوبہ بنارہے ہیں۔

سنیئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ادھرہریانہ اوریوپی سے آنیوالے کسانوں کی وجہ سے مظاہرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے ۔ دوسری جانب مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے کسانوں کی حمایت میں کل آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی ہے ۔ جس میں کسانوں کے مطالبات کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ صرف مذہبی نفرت اور تشدد پر مبنی نہیں۔ بلکہ اب تو مودی کی اُگائی ہوئی نفرتوں کی فصل بھارت کی ہندوتوا جمہوریت کے سر سے بھی اونچی ہو رہی ہے۔ کاش ہمارے ہاں میڈیا کا کچھ وقت بھارت کی ان اندرونی دراڑوں کی نشان دہی کرنے اور نسلی تضادات دکھانے کے لیے وقف ہوجائے۔ جو کام ارنب گوسوامی یا اس قماش کے لوگ کرتے ہیں وہ نہ کریں کیونکہ ان کی من گھڑت اور paid پراپیگنڈا والی خبروں سے ہزار گنا زیادہ سنسنی خیز خبریں مودی کے بھارت میں ہر وقت سچے واقعات کی صورت میں دیوار پر لکھی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

مبشرلقمان دعوی کرتے ہیں کہ ایسی ہی تہلکہ خیز خبروں میں سے ایک تازہ ترین خبر ہے کہ کچھ بھارتی صحافیوں پر کسانوں کی احتجاج کی اطلاعات کے لئے بغاوت کا الزام لگا دیا گیا ہے کسانوں کے احتجاج کے بارے میں ان کی رپورٹنگ اور آن لائن پوسٹوں پر کم از کم پانچ ریاستوں میں پولیس نے مقدمات درج کر لیے ہیں ۔ جن میں india today tvکے ممتاز اینکرrajdeep sardesi اور انگریزی زبان کےcarvan میگزین کے ایگزیکٹو ایڈیٹرvinod joseبھی شامل ہیں۔

 

۔وہ کہتے ہیں کہ میرے حساب سے یہ آزاد اور آزادانہ رپورٹنگ پر حملہ ہے۔ بھارتی حکومت چاہتی ہے کہ صرف اس کا سرکاری موقف ہی شائع کیا جائے۔carvan
کے لئے کام کرنے والے صحافیmandeep ponia کو بھں حراست میں لے لیا گیا ہے ۔اینکر rajdeep sardesi کو ان کے ٹویٹ پر انڈیا ٹوڈے گروپ نے دو ہفتوں کے لئے آف ایئر کردیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مظاہرین پر فائرنگ سے مبینہ طور پر ایک شخص ہلاک کیا گیا ہے۔

یہ تو حقیقت ہے کہ مودی کے اقتدار میں پریس کی آزادی سکڑ گئی ہے ۔ سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کے شوقین بھارت کے قومی پرچم کے درمیان نیلے رنگ کا اشوک چکر ہے۔ یہ ہندو نیشنل ازم کی نشانی ہے۔ یہاں تک کہ ترنگا بھی ہندی زبان کا لفظ ہے۔ تو وہ جو کہتے ہیں کہ بھارت کی بنیاد ایک سیکولر ملک کی ہے تو وہ سراسر بے بنیاد اور ڈکھوسلا کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ سب جھوٹ ہے سب فریب ہے ۔ بھارت ایک ہندوتوا ریاست ہے ۔ جہاں اور کسی اقلیت یا مخالفت نظریات کو پنپنے نہیں دیا جاتا ۔

مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ اگر آپ کو یاد ہو تو چند روز قبل دلی میں ریڈ زون کے علاقے میں اسرائیلی سفارتخانے کے نزدیک ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم موقع پر موجود چند گاڑیوں کے شیشے وغیرہ ضرور ٹوٹ گئے ۔ دھماکے کے مقام سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر بھارتی صدر اور وزیر اعظم بھی ایک تقریب میں موجود تھے یہی وجہ ہے اس واقعہ کو لیکر دنیا بھر میں تبصرے و تجزیے جاری ہیں کیونکہ اس واقعہ کی ٹائمنگ بہت زیادہ اہم تھی یہ حقیقت بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس جگہ یہ دھماکہ ہوا ہے وہ انتہائی محفوظ ترین علاقہ ہے جہاں مختلف ممالک کے سفارتخانوں کے علاوہ اہم سرکاری دفاتر اور فائیو اسٹارز ہوٹلز بھی موجود ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں پرندے بھی پر نہیں ما ر سکتے پھر بھی اس واقعہ کا رونما ہوجانا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے ۔ سمجھ دار لوگ تو اس دھماکے کو بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی قرار دے رہے ہیں جس کے ذریعے کئی مقاصد حاصل کرنا مقصود ہیں ۔

 

ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارتی سکھ کسانوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ اگر دلی کے ریڈ زون میں بم دھماکہ ہو سکتا ہے تو ان کے دھرنوں میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اگر خدانخواستہ سکھوں کے اجتماعات میں ایسا کچھ ہو اجس کے امکانات کافی زیادہ ہیں تو پھر مودی حکومت آسانی سے اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال سکتی ہے تاکہ ایک طرف پاکستان کو بدنام کیا جاسکے جبکہ دوسری طرف بھارتی سکھوں کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بوئے جا سکیں جو کرتار پور راہداری کی تعمیر کی وجہ سے پاکستان سے بہت زیادہ خوش اور مطمئن ہیں ۔

یہ کوئی نا ممکنات میں سے نہیں ہے کیونکہ گزشتہ انتخابات میں اگر نریندر مودی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنے چالیس فوجی مروا سکتے ہیں جس کی تصدیق ارنب گوسوامی کی واٹس ایپ چیٹ سے بھی ہو چکی ہے تو وہ سکھوں کے احتجاج کو ختم کرنے کے لیے انہیں بھی کسی جعلی اور جھوٹے دھماکے کے ذریعے مروا سکتا ہے تا کہ اس احتجاج سے بھی جان چھڑا سکے اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر قوم پرستی کے جذبات کو بھی مزید ابھارا جاسکے۔
کیونکہ اپنے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان دشمنی کا چورن بیچنا بھارت میں سب سے آسان نسخہ سمجھا جاتا ہے۔

سینیئرصحافی کہتے ہیں کہ جس آمرانہ طریقے سے زرعی قوانین کو بھارتی پارلیمان سے منظور کروایا گیا۔ وہ بھی بھارتی جمہوریت کے چہرے کا ایک بدنما داغ ہے۔ اب کسانوں کی تحریک سے خوفزدہ بھارت کو ہر احتجاج میں ۔۔ خالصتان ۔۔ہی دکھائی دیتا ہے۔

۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ آگے آئیں اور بھارت کے کسانوں کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے برہمن کے شکنجہ سے انہیں نجات دلائیں۔ اندرا گاندھی کا قتل، راجیو گاندھی پر خود کش حملہ بہت بڑی مثالیں ہیں۔ مودی کو ان واقعات سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ المیہ یہ ہے کہ بھارتی ستم گری پر پوری دنیا میں سکوت طاری ہے۔

Leave a reply