fbpx

بابائے خدمت عبدالستار ایدھی کا مختصر تعارف . تحریر :عمر خان

عبدالستار ایدھی 29 فروری 1928 کو بھارت کی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے ، 1947 میں بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان کے شہر کراچی میں آباد ہوئے ، عبد الستار ایدھی نے 1966 میں اپنے نرسنگ ہوم کی ایک نرس بلقیس ایدھی سے شادی کی۔
ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز

عبد الستار ایدھی نے 1951 میں کراچی کے علاقے میٹھا در میں قلیل سرمایے سے میمن ویلنٹئر کور نام سے ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کھولی، بعد ازاں اس کا نام تبدیل کرکے مدینہ ویلنٹئر رکھا گیا۔

عبدالستار ایدھی نے خدمت خلق کا آغاز اسی ڈسپنسری سے کیا وہ سارا دن مجبور غریب لوگوں کی دیکھ بھال کرتے تھے اور رات کو اسی ڈسپنسری کے باہر ایک بنچ پر سو جاتے ۔

فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے عبدالستار ایدھی نے کئی ممالک کے دورے کئے جن میں ایران، ترکی ،فرانس ،یونان، بلغاریہ، یوگوسلاویہ،شامل ہیں۔

پاکستان واپس آ کر انہوں نے 1952 میں ایک زچگی سینٹر اور 1954 میں نرسوں کی تربیت کے لئے ایک انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا۔

عبدالستار ایدھی نے 1957 میں ایشین فلو کے وقت کراچی میں مختلف مقامات پر امدادی خیمے لگائے اور بیماروں میں مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔

عبدالستار ایدھی کی ان گرانقدر خدمات اور خدمت خلق کی لگن کو دیکھتے ہوئے مخیر حضرات نے دل کھول کر مدد کرنا شروع کردی ۔

ان فنڈز کی رقم سے عبدالستار ایدھی نے ایک وین خریدی اور اسے ایمبولینس میں تبدیل کیا ، یہ وین 24 گھنٹے مریضوں کو لانے لے جانے کیلئے مفت دستیاب رہتی، اسی دوران عبدالستار ایدھی نے مدینہ ویلنٹئر ڈسپنسری کا نام تبدیل کر کے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ رکھ لیا۔

سیاست

1970 میں خدمت خلق کے جذبے سے سر شار عبدالستار ایدھی نے باقاعدہ ملکی سیاست میں آ کر عوامی خدمت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کیلئے آذاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا ، تاہم کامیاب نہ ہوسکے، 1975 میں ایک مرتبہ پھر عبدالستار ایدھی نے انتخابات میں حصہ لیا مگر دوسری بار بھی ناکام ہوئے، اس کے بعد عبدالستار ایدھی نے ہمیشہ کیلئے سیاست سے کنارہ کرلیا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات پر ایک نظر

گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایدھی ایمبولینس سروس دنیا کی سب سے بڑی فری ایمبولینس سروس ہے، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس اس وقت اٹھارہ سو سے زائد ایمبولینسز موجود ہیں جو ملک بھر میں آج بھی مفت سروس مہیا کرتی ہیں، ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس دو ائیر کرافٹ ، ایک ہیلی کاپٹر ایمبولینس، 28 لائف بوٹ (بحری ایمبولینس) بھی موجود ہیں، اس کے علاؤہ موبائل میت سرد خانہ اور مختلف مقامات پر 180 سرد خانے بھی بنائے گئے ہیں ، ایک سرد خانہ میں تیس میتوں کو رکھنے کی گنجائش ہے، سرد خانوں میں رکھی میت کو اگر تین دن تک کوئی شناخت نہ کرے تو اسے مواچھ گوٹھ کراچی میں بنے ایدھی قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے، اس قبرستان میں لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد میتوں کو دفن کیا جاچکا ہے، ایدھی فاؤنڈیشن نے ملک بھر میں تقریباً 180 میت خانے ، میرج بیورو سینٹرز ، پاگل خانے، اینیمل شلٹرز ، اسکولز ، پناہ گاہیں ، زچگی سینٹرز ، معذور افراد کیلئے سینٹرز ، ایدھی لنگر خانے اور بےشمار مہاجرین کیمپ بنائے ہیں۔۔

بین الاقوامی خدمات

دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ایدھی سینٹرز اپنی خدمات دے رہے ہیں جن میں افغانستان، ایران ، سوڈان ، ایتھوپیا شامل ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ، امریکہ ، انگلینڈ ، آسٹریلیا میں بھی ایدھی سینٹرز بنائے گئے ہیں ۔

عبدالستار ایدھی کو ان کے خدمات بدولت بےشمار قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نواز گیا ہے۔

وفات

عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو 88 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔