fbpx

فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

علی خان جدون کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا اجلاس پوا ،وزارت آئی ٹی حکام نے ملک میں سائبر کرائمز ایکٹ کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی

ڈائریکٹرسائبرکرائم نے بریفنگ میں بتایا کہ سائبر کرائمزڈیپارٹمنٹ کے پاس 16 ہزار شکایات زیرالتوا ہیں ،ادارے کے پاس صرف15 تفتیشی افسر ہیں، سائبرکرائمزایکٹ آنے کے بعد سے اب تک42 ہزار477 شکایات درج کرائی گئیں،ہم نے 16 ہزار689 شکایات کا ازالہ کردیا ہے، 16ہزار 163 شکایات زیر التوا ہیں، سائبرکرائم ایکٹ کے تحت 936 ایف آئی آرز درج کی گئیں،904 ملزمان گرفتارہوئے،

بریفنگ میں بتایا گیا کہ جب تک ہم معاہدے پر دستخط نہیں کرتے تو فیس بک ٹویٹر ہمیں رسپانس نہیں دیتے ،ہم فیس بک ٹویٹر سے شکایات کرتے ہیں مگر وہ جواب نہیں دیتے،چائلڈ پورنوگرافی سمیت حساس نوعیت کے کیسزمیں وہ ہمیں جواب دے دیتے ہیں ،

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب تک وہ جواب نہیں دیں گے توہم اس معاملے پرآگے کیسے بڑھیں گے، ایف آئی اے حکام نے کہا کہ یہ ان کا دائرہ اختیار ہے کہ وہ جواب دیں یانہ دیں ،حکام وزارت آئی ٹی نے کہا کہ اگرکمیٹی ہدایات دے تومعاہدے سے متعلق معاملات آگے بڑھا سکتے ہیں،معاہدے پردستخط کرنے سے ہم بہت سی شقوں کے پابند ہوجائیں گے،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ معاہدہ کرنے کے بعد کیا ہمارے مسائل حل ہوں گے،معاہدے پر دستخط کے بعد کیا فیس بک ٹویٹرہمیں جواب دیں گے؟

رکن کمیٹی علی گوہر نے کہا کہ میرے نام پر6آئی ڈیز چل رہی ہیں، شکایت کنندہ کو جلد کارروائی کرکے بتایا جانا چاہیے ،سوشل میڈیا کرائمز کی شکایات کی باری آنے میں 9 ماہ لگ جاتے ہیں،ایک خاتون نے شکایت کی کہ فیس بک پر اس کی بچی کی تصاویر لگائی گئیں،ایک ایک گھرمیں 20،20 بچے ہوتے ہیں، سب سوشل میڈیا پرلگے رہتے ہیں،ہم نے اپنے معاشرے کے مطابق سوشل میڈیا کو دیکھنا ہوگا،بچے فیس بک کے استعمال سے خراب ہو رہے ہیں، جو بچے اسکول نہیں جاتے وہ بھی فیس بک استعمال کررہے ہیں،