fbpx

فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معروف تجزیہ کار یاسمین آفتاب علی نے باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر اپنے پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ فاٹا میں عورتوں کے حقوق پر کوئی بات نہیں، خواتین کو کوئی سہولیات نہیں دی جاتیں، کوئی ایسا کمرہ یا جگہ نہیں جہاں عورتوں کو خاتون ڈاکٹر الگ سے دیکھے، اس وجہ سے خواتین کو ڈاکٹروں کے پاس لے کر جایا ہی نہیں جاتا، بعض دفعہ زچگی کا معاملہ ہو تو ڈیلیوی نارمل نہیں ہوتی کئی مسائل ہوتے ہیں لیکن خواتین کو فاٹا میں اذیت دی جاتی ہے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر جایا جاتا،

عفیفہ راؤ کا کہنا تھا کہ ہم نے عورتوں کی حالت زار پر گفتگو کی، صوبوں کے بارے میں بات کی لیکن فاٹا کی عورتوں کی مشکلات کیا ہیں،اس بارے بات کرنی چاہئے، یاسمین آفتاب علی کا کہنا تھا کہ فاٹا اب فاٹا نہیں ہے لیکن ہم اسکو فاٹا ہی بلاتے ہیں، کے پی کے کے ساتھ اسکا الحاق ہو چکا ہے، پاکستان کے تمام قوانین، سپریم کورٹ ، ہائیکورٹ کے بینچ ہونے چاہئے، جو فیملی لاز ہیں وہاں سارا کچھ ہونا چاہئے،وہاں پر ہر ایجنسی کو ایک پولیٹکل ایجنٹ دیکھتا ہے ،

یاسمین آفتاب علی کا کہنا تھا کہ پولیٹکل ایجنٹ کو لامحدود اختیار دیئے گئے ہیں، وہ پولیس آفیسر بھی ہے، جج بھی ہے، سارا کچھ وہی کرتا ہے، فاٹا میں جرگے ہوتے ہیں اور وہ فیصلے کرتے ہیں ،ایڈمنسٹریشن چھ آٹھ گھنٹے دور بیٹھی ہوئی ہے، ایک چیز جو میں بات کرنا چاہوں گی کہ اس قسم کے جب حالات ہوتے ہیں تو فاٹا میں خواتین اور انکے مسائل کے بارے میں ماحول بالکل بھی نہیں بدلا، برسوں سے وہی چیز چلی آ رہی ہے، صرف کاغذ پر لکھا جاتا ہے، جو حکومت پہلے تھی یا اب بھی ہے، اس حکومت نے خواتین کے لئے کیا کیا؟ فاٹا میں عورتوں کے کوئی حقوق نہیں، علاج نہیں،

لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

یاسمین آفتاب علی نے پروگرام میں کیا کیا انکشافات کئے ، سنئے باغی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر