توہین الیکشن کمیشن کیس، فواد چودھری نے تحریری معافی نامہ جمع کروا دیا

فواد چودھری کیخلاف کیس کی سماعت 15اگست تک ملتوی کر دی
0
62
pti

سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی ،فواد چودھری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے ،فواد چودھری نے الیکشن کمیشن میں تحریری معافی نامہ جمع کرا دیا ،فواد چودھری کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ،فواد چودھری کیخلاف کیس کی سماعت 15اگست تک ملتوی کر دی

واضح رہے کہ عدالتی حکم پر فواد چودھری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تھے،فواد چودھری نے کہا کہ میں اپنی جماعت کا سفیر تھا، میں ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میری معذرت قبول کریں ، شو کاز نوٹس واپس لے لیں، پارٹی ایک ادارہ ہے، میں انکا ترجمان تھا، ذاتی حیثیت میں معذرت کر سکتا ہوں، میں قانونی کیسز میں نہیں پڑنا چاہتا،آپ کے لیے احترام ہے، اس وقت پارٹی کی پوزیشن تھی جو میں بیان کی، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے فواد چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین آپ سے قتل کروائیں تو آپ کریں گے، فواد چودھری نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پارٹی چئیرمین کو ئی غلط بات کرے تو مان لیں گے،آپ کی جماعت نے کمیشن اور میری ذات کے حوالے سے کیا کیا نہیں کہا، آپ نے الیکشن کمیشن کی توہین کی ،آپ کے چیئرمین نے میری اہلیہ کے بارے مین غلط الفاظ استعمال کیے،میری بیوی کے بارے میں اوپن جلسے میں کہا گیا، پھر میڈیا کے سامنے مکر بھی گئے ،فواد چودھری نےکہاکہ سپریم کورٹ کے ججز کے بارے میں کیا کیا کہا جا رہا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ماحول ہم نے ہی ٹھیک کرنا ہے، فواد چودھری نے کہا کہ میری معذرت قبول کریں اور کیس ڈراپ کریں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ تحریری معافی دے دیں، اگر آپ معافی لینا چاہتے ہیں، فواد نے کہا کہ میں نے زبانی معافی مانگ لی ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ معافی تحریری ہوتی ہے، آپ معافی جمع کرا دیں کمیشن اس پر غور کر لے گا،

فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

Leave a reply