لانگ مارچ،ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، فواد چودھری سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمہ درج

0
55

پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

تحریک انصاف کے رہنماؤں جمشید اقبال چیمہ، مسرت چیمہ، حسان نیازی، زبیر نیازی کیخلاف مقدمات درج کئے گئے، مقدمات تھانہ گلبرگ، بھاٹی گیٹ، شاہدرہ، اسلام پورہ میں درج کیے گئے ،درج مقدمات میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر دفعات شامل ہیں، ‏پولیس اہلکاروں پر تشدد، اغوا، اینٹی رائٹ سامان چھیننے کے مقدمات درج کئے گئے ہیں،

دوسری جانب فواد چوہدری فراز چوہدری سمیت 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،گزشتہ روز پی ٹی ائی ریلی پولیس پارٹی پر پتھراؤ کار سرکار مداخلت سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے پر فواد چودھری فراز چوہدری و دیگر 200 افراد کے خلاف تھانہ منگلا جہلم میں درج کیا گیا ہے ، مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ فواد چودھری میرپور سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے جہلم آنا چاہتے تھے ، ریلی کے شرکاء کے پتھراؤ سے پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ پولیس وین سمیت دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ۔

قبل ازیں گزشتہ روز صوبائی دارلحکومت لاہور سے نکلنے والا تحریک انصاف کا لانگ مارچ پولیس نے ناکام بنا دیا ، تحریک انصاف کی لاہور قیادت ورکرز کو باہر نکالنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ،لاہور میدان جنگ بنا رہا، متعدد پی ٹی آئی کارکن اور رہنما گرفتاراور بعد ازاں عدالت کے حکم پر رہا ہوئے ، تحریک انصاف لاہور کی قیادت میں تین قافلوں نے لاہور سے نکلنے کی کوشش کی مرکزی قافلہ صدر تحریک انصاف پنجاب شفقت محمود کی قیادت میں روانہ ہوا قافلہ میں چھ اے سی بسیں اور درجن بھر چھوٹی بڑی گاڑیاں شامل تھیں جبکہ عمران خان کے بھانجے ایڈوکیٹ احسان نیازی کی سربراہی میں دو درجن وکلا کا ایگ گروپ بھی شفقت محمود کے قافلے میں شامل تھا ، اس قافلہ کا ایوان عدل کے سامنے پولیس سے سامنا ہوا ایس پی صفدر کاظمی کی سربراہی میں پولیس کا ایک دستہ ایوان عدل کے ساتھ چوک میں بیرئیر لگا کر روڈ بلاک کرکے موجود تھا پولیس اور کارکنوں کے درمیان پہلی جھڑپ ہوئی زبیر نیازی نے اپنے دو درجن کارکنوں کے ساتھ راستہ کھلوانے کی کوشش کی تو پولیس کے ساتھ تصادم زبیر نیازی گرفتار ہوگئے پولیس نے زبیر نیازی سمیت پی ٹی آئی کارکنوں پر بھرپور لاٹھی چارج کیا پی ٹی آئی کارکنوں نے اکٹھے ہو کر پولیس پر دھاوابولا اور زبیر نیازی کو فرار کروانے میں کامیاب ہوگئے ، اسی دوران تحریک انصاف کے حامی وکلا نے پولیس کے ساتھ مذاکرات کرکے راستہ کھلوانے میں کامیاب ہوگئے پولیس نے وکلا کے ساتھ تصادم سے گریز کیا اور قافلہ روانہ ہو گیا

پولیس نے شفقت محمود کے قافلہ کو داتا صاھب کے نزدیک بھاٹی چوک میں راکاوٹیں کھڑی کرکے روک لیا ہولیس نے شیلنگ کی اور ڈاکٹر یاسمین راشد اور ایک قافلے میں شامل بلیک ڈبل کیبن گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے ، جبکہ بلیک کلر کے ویگیو ڈالے سے پولیس نے ایک پسٹل اور گولیاں برآمد کرکے ڈرائیو کو گرفتار کر لیا ، پولیس دستہ نے بھاٹی چوک سے پسپائی اختیار کی اور آزادی چوک جمع ہوگئے جبکہ تحریک انصاف کے ورکرز نے وکلا کے ساتھ ملکر بھاٹی چوک میں کھڑی ایس پی کی گاڑی توڑ دی اور رکاوٹیں ہٹا کر قافلہ آزادی چوک کی جانب گامزن ہوگیا پولیس کی بھاری نفری کا آزادی چوک اور بھاٹی چوک کے درمیان تیسری بار سامنا ہوا پولیس نے قافلے کو روکا اور شیلنگ شروع کردی پولیس نے کارکنوں کو گرفتار کرنے کے لیے قیدی وین منگوا کر گرفتاریاں شروع کردیں ،اسی اثنا میں تحریک انصاف کے شفقت محمود ،یاسمین راشد ، زبیر نیازی واپس بھاٹی چوک سے پولیس کو لقمہ دیکر پچھلے گلی سے نکل گئے جبکہ پولیس نے اے سی بسوں میں سوار پچاس کے لگ بھگ وکلا اور کارکنوں کو گرفتار کرلیا جبکہ دو درجن کے لگ بھگ ورکر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ،

پولیس نے لانگ مارچ قافلے مٰں کل چار خواتین موجود تھیں جس میں ایک مسرت چیمہ جبکہ تین خواتین وکلا ءکو گرفتار نہ کیا جو بعدازاں رکشہ میں بیٹھ کر وہاں سے چلی گئیں ، زبیر نیازی ، یاسمین راشد ، عندلیب عباس سمیت درجن بھر کارکن بھاٹی چوک سے اندر والی گلی سے لکڑ منڈی راوی پل اور آزادی چوک کے درمیان پہنچ گئے وہاں پولیس کے ساتھ سامنا ہوا پولیس نے شیلنگ کی اور دو درجن کے لھ بھگ کارکن گلیوں میں چھپ گئے ، یاسمین راشد اور عندلیب عباس نے ایک کمرہ میں چھپ کر بیٹھ گئیں پولیس نے انکو ڈھونڈ کر گرفتار کیا گاڑی میں لیکر نکلے تو عدالتی حکم پر رہا کر دیا گیا یوں یاسمین کا قافلے کا بھیہ اختتام ہو گیا ،

تیسرا قافلہ حماد اظہر کی سربراہی میں درجن بھر کارکنوں کا قافلہ نکلا جو تو پولیس کی جانب سے راوی پل کے قریب حماد اظہر کے قافلے کو روکا گیا اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم کارکنوں کی جانب سے مزاحمت کی گئی جس پر پولیس انہیں حراست میں لینے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اور چند گاڑیوں کا قافلہ اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گیا ، تحریک انصاف لاہور شہر سے پندرہ سو کے لگ بھگ ورکز ہی نکال سکی اور لاہور سے نکلنے والا مارچ بری طرح ناکام ہو گیا

پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

Leave a reply