گوادر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ
گوادر میں دھرنے کے شریک مظاہرین کو منشتر کرنے کے بعد میرین ڈرائیو پورٹ روڈ کو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے، دوسری طرف بلوچستان حکومت نے امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر ضلع گوادر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی۔ ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق گوادر میں دیرپا امن کا قیام اور عوام کی جان مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،کاشتی چوک گوادر میں دھرنے میں شریک احتجاجی مظاہرین منشتر ہوگئے، میرین ڈرائیو پورٹ روڈ کو دوبارہ کھول دیا گیا جبکہ سید ظہور شاہ روڈ پر دھرنا ختم کردیا گیا ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ ایکسپریس وے سربندر کراس پر 5 سو اہلکار تعینات کئے گئے ہیں، پسنی میں احتجاجی دھرنے کے ختم ہونے پر معمولات زندگی بحال ہو گئی ہے۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گوادر میں ’حق دو تحریک‘ کے دھرنے اور مظاہرین کی اشتعال انگیزی سے پرامن ماحول کو سبوتاڑ کرنے کوشش کی جارہی ہے جو ناقابل برداشت عمل ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.
دوسری طرف امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر ضلع گوادر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق ایک ماہ تک گوادر میں ریلی ، دھرنا اور پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پاپندی عائد کردی گئی ہے ، اس کے علاوہ اسلحہ کی نمائش پر بھی پاپندی ہوگی ۔