fbpx

گرفتار افراد کو رہا نہ کرنے پرمحکمہ داخلہ سے ایک گھنٹے میں رپورٹ طلب

گرفتار افراد کو رہا نہ کرنے پرمحکمہ داخلہ سے ایک گھنٹے میں رپورٹ طلب

لاہور ہائیکورٹ میں لانگ مارچ کے دوران کارکنوں کی نظر بندی اور گرفتاری کیس کی سماعت ہوئی

عدالت نے گرفتار افراد کو رہا نہ کرنے پرمحکمہ داخلہ سے ایک گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی ، جسٹس چودھری عبدالعزیز نے استفسار کیا کہ ابھی تک گرفتار افراد کو رہا کیوں نہیں کیا گیا ؟ عدالت نے حکم دیا کہ املاک کو کتنا نقصان پہنچا، کتنے افراد زخمی اور جاں بحق ہوئے تفصیلات پیش کی جائیں

عدالتی حکم کے باوجود لانگ مارچ کے کارکنوں کو رہا نہ کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ لاہورمیں 145 لوگوں کو نظر بند کیا گیا ہے۔ابھی تمام لوگوں کو رہا کر رہے ہیں ۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا اور لوگ ابھی تک نہیں چھوڑے گئے ۔ لگتا ہے چیف سیکرٹری پنجاب کو عدالت کا آرڈر پسند نہیں آیا ۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ آپ کے آرڈر پر عملدرآمد کیا ہے ڈپٹی کمشنر کو فوری عدالتی حکم بتایا تھا ۔آپ کا حکم براہ راست ڈپٹی کمشنر کو تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے مطابق چیف سیکرٹری کی ہدایت پر بندے چھوڑے جانے تھے ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپکی ہمت کیسے ہوئی آپ نے رجسٹرار کو کیا میسج کیا ہے ۔ چیف سیکرٹری نے رجسٹرار کو افینس میسج کیا ، ڈی سی لاہورنے کہا کہ آج صبح سے لوگ رہا ہو رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ آج صبح سے کیوں ؟ آرڈر تو کل کا ہے ۔کل کے آرڈر پر عملدرآمد نہیں کیا گیا ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا اور حکم دیا کہ 30 منٹ میں ڈپٹی کمشنر لاہور جواب دیں کیوں نہ انکے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کریں؟

چیف سیکریٹری نے تحریری جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادیا ،عدالت نے کہا کہ چیف سیکریٹری نے کہاکہ میرا کوئی عمل دخل نہیں، جواد یعقوب نے کہا کہ عدالت میں ڈی سی لاہور کی زبان لڑکھڑا گئی جس سے ابہام پیدا ہوا، جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہاں طوفان آیا ہوا تھا ،عدالت نے تو انہیں صرف پوچھا تھا،زبان نہیں لڑکھڑاتی تھی بلکہ ان کےمنہ سے سچ نکلا،بہت افسوس ہے،آپ سے یہ توقع نہیں تھی لگتا ہے آپ اور آپ کے پیچھے کھڑے ہونے والوں کو مداخلت پسند نہیں آئی،اگر انہیں مداخلت پسند نہیں تو یہ کام چھوڑ کرکوئی اور کام ڈھونڈ لیں، عدالتیں مداخلت بھی کریں گی اور فیصلے بھی آئیں گے، یہ کیسا عمل ہوا عدالت میں یقین دہانی کےباوجود رہائی نہیں ہوئی میں نے خود عدالتی احکامات پرعمل درآمد کا بھی پیغام بھیجا،

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران گرفتاریوں اور نظربندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران پنجاب بھر میں نظر بند افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران گرفتاریوں اور نظربندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی تھی، سماعت کے دوران سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی نے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنر 3 ایم پی او کے تحت نظر بندی کے تمام احکامات واپس لیں

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران پولیس نے کئی شہروں سے پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے گزشتہ روز کئی شہروں میں مقدمے بھی درج کئے گئے ہیں،عمران خان پر بھی اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں پر بھی مقدمے درج کئے گئے ہیں، تحریک انصاف کے لاہور سمیت کئی شہروں میں کارکنان ابھی تک گرفتار ہیں

دوسری جانب حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹانے اور ٹرانسفر پوسٹنگ سے روکنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو آئی جی پنجاب کو فریق بنانے کی اجازت دے دی لاہور ہائیکورٹ نے ترمیمی درخواست پر فریقین کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی عدالت نے آئی جی پنجاب کو فریق بنانے کی درخواستگزار کی استدعا منظور کر لی لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی

پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج