fbpx

شہریوں کو آئندہ ہفتے سیاحتی مقامات کی طرف جانے سے گریز کرنے کی ہدایت

اسلام آباد:مری اور پختونخوا میں برفباری کا امکان، متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت:سانحہ مری کے متعلق مزید انکشافات آگئے،اطلاعات کے مطابق محکمہ موسمیات نے اگلے ہفتے سے مری اور خیبر پختونخوا کے چند اضلاع میں بارشوں اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ظاہر کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مری، شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر میں آئندہ ہفتے منگل سے جمعرات تک برفباری کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اےخیبرپختونخوا کی جانب سے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے مراسلہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کی ہدایات کی ہے اور لنک روڈزکی بحالی کے لیے مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کا کہا ہے۔

محکمہ سیاحت پنجاب نے سیاحوں کو خبردار کر دیا،پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے آئندہ ہفتے برف باری اور بارشوں کی پیش گوئی کر دی،منگل کی شام کو مری میں برف باری کی توقع ہے برف باری کا سلسلہ جمعرات تک برقرار رہے گا،راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم سمیت شمالی پنجاب کے کئی شہروں میں بارشوں کا اعلان بھی کیا گیا،صوبے بھر میں شدید دھندوں کا سلسلہ برقرار رہے گا،محکمہ سیاحت پنجاب نے شہریوں کو آئندہ ہفتے سیاحتی مقامات کی طرف جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ موسمی شدت کے پیش نظر لوگوں کو احتیاط سے کام لینا ہو گا،

اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو دوران سفر احتیاطی تدابیراختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ بالائی اضلاع میں بارش اور برفباری کے باعث لینڈ سلاڈینگ کا خدشہ ہے۔

چترال،دیر، سوات، مالاکنڈ، کوہستان، شانگلہ اور بونیر میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے جبکہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان اور نوشہرہ میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دیر، مالاکنڈ، ہزارہ، سوات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے جس کے بعد ان علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور، چارسدہ، کوہاٹ، باجوڑ اور کرم میں بھی بارش کا امکان ہے جبکہ گلیات، ناران، کاغان، چترال اور دیر کے پہاڑوں پربرفباری کا امکان ہے۔ادھر راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین میں بھی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ادھر سانحہ مری کے حوالے سے مزید انکشافات آگئے ہیں طوفان کے دوران برف ہٹانے والی 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر کھڑی تھیں، ڈرائیور موجود تھے نہ ہی دیگر عملہ جبکہ محکمہ جنگلات کے حکام کمیٹی کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔

سانحہ مری کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں ، تحقیقاتی کمیٹی نے پنجاب ہاؤس مری میں آپریشنل عملے اور برفانی طوفان کے دوران مدد کیلئے موصول ہونے والی کالز کے بارے میں ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے ۔

برف ہٹانے والی گاڑیوں سے متعلق ہائی وے مکینیکل ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ 29 گاڑیوں میں سے 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پر ایک نجی بینک میں کھڑی رہیں جبکہ ڈرائیوز اور عملہ ڈیوٹی پر موجود نہ تھا۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کا راولپنڈی ڈسٹرکٹ میں دفتر موجود نہ ہونے کا بھی انکشاف ہوا۔

محکمہ جنگلات کے حکام یومیہ اجرت اور سڑکوں پر گرے درخت ہٹانے والے مزدوروں کے بارے میں سوالا ت کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس پر کمیٹی نے عملے کی تفصیلات اور ذمہ داریوں سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی کو بتایاگیا کہ مری میں شدید برفباری کی وارننگ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے جاری کی گئی جبکہ ضلعی انتظامیہ نے مری کے داخلی راستوں سے تقریباً 50 ہزار گاڑیاں واپس بھیجیں۔