ہمیں بھی عمران خان والی سہولیات دی جائیں، قیدیوں کا مطالبہ

0
187
imran khan

جیل میں قید قیدیوں نے عمران خان کو ملنے والی سہولیات کا مطالبہ کر دیا ،کہا جو سہولیات عمران خان کو جیل میں دی گئی ہیں وہ ہمیں بھی دی جائیں، قیدیوں نے آئی جی جیل کو خط لکھ دیا ہے

پنجاب کی جیلوں میں قید قیدیوں کی جانب سے آئی جی جیل خانہ جات کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو سہولیات عمران خان کو دی گئی ہیں،ہمیں بھی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل مراعات جیسی سہولیات فراہم کی جائیں،جیل قوانین کے مطابق اعلیٰ درجے کےقیدیوں کو ایک ہفتے میں 2ملاقاتوں کی اجازت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ملاقات کی سہولت دی،عمران خان کو ایک دن میں 6سے زائد ملاقاتیں کرنے کی اجازت دی گئی ہے،عمران خان کو جیل میں ایکسائز کرنے کیلئے مخصوص سائیکل بھی فراہم کی گئی ہے،عمران خان کو جیل میں مراعات کی فراہمی قیدیوں کیساتھ امتیازی سلوک کی واضح مثال ہے،عمران خان کو آن لائن میٹنگ کی بھی سہولت حاصل ہے جو کہ جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے،جو سہولیات عمران خان کو دی گئی ہیں وہ دوسرے قیدیوں‌کو کیوں نہیں فراہم کی جا رہیں، ہمیں بھی دی جائیں اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے.

عمران خان سے ملاقات،جیل حکام ،وکلا کو میکنزم بنانے کی ہدایت

 بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

 اڈیالہ جیل راولپنڈی، میانوالی،اٹک اور ڈی آئی خان کی جیلوں میں حفاظتی انتظامات مزید مؤثر 

سکیورٹی اہلکار اب عمران خان کی ملاقاتوں کے دوران ہونے والی گفتگونہیں سن سکیں گے

سیاسی معاملات اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات سے متعلق سپرنٹنڈنٹ جیل آرڈر پاس کرے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ

واضح رہے کہ عمران خان گرفتار ہیں اور اڈیالہ جیل میں قید ہیں،عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد زمان پارک سے گرفتار کیا گیا تھا، عمران خان کو پہلے اٹک جیل پھر اڈیالہ منتقل کیا گیا تھا، توشہ خانہ کیس کی سزا عدالت نے معطل کر دی ہے تا ہم سائفر کیس اور دوران عدت نکاح کیس میں بھی عدالت نے عمران خان کو سزا سنا رکھی ہے جس کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں.

سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو 7 سیلز پر مشتمل سیکیورٹی وارڈ میں رکھا گیا ہے، جس میں سے 2 سیل سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے زیر استعمال ہیں، باقی کے 5 سیل سیکورٹی کی وجوہات کی بنا پر بند رکھے گئے ہیں، ان سیلز کے صحن کو سابق چیئرمین پی ٹی آئی چہل قدمی کے لیے استعمال کرتے ہیں، بانی تحریک انصاف کے سیل تک رسائی بہت محدود ہے، کوئی بھی شخص بغیر اجازت وہاں تک نہیں پہنچ سکتا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وارڈ کی حفاظت کے لیے پیشہ ور تربیت یافتہ افراد معمور ہیں، اڈیالہ جیل میں 10 قیدیوں پر ایک اہلکار تعینات ہے، جبکہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکورٹی کے لیے 15 اہلکار تعینات ہیں، جن میں دو سیکیورٹی افسران بھی شامل ہیں، 3 اہلکار سابق وزیراعظم عمران کی سیکیورٹی کیلئے لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں پر مامور ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکورٹی پر ماہانہ 12 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے، جبکہ کیمروں پر 5 لاکھ روپے کا خرچ آیاہے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے کھانے کے لیے اسپیشل قواعد و ضوابط تشکیل دیے گئے ہیں، صحت افزا کھانا مہیا کیا جاتا ہے جوکہ ایک اسپیشل کچن میں بنتا ہے،بانی تحریک انصاف کا کھانا اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہےانہیں کھانا فراہم کرنے سے قبل ایک میڈیکل افسر یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اس کا معائنہ کرتا ہے، جیل کے میڈیکل افسر کے علاوہ راولپنڈی کے ایک ہسپتال کے 6 میڈیکل افسران بھی سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے میڈیکل ٹریٹمنٹ کیلئے تعینات ہیں، راولپنڈی کے ایک دوسرے ہسپتال کے اسپیشلسٹ کی ٹیم جیل کا ہفتہ وار دورہ بھی کرتی ہے ، اسپیشلسٹ کی ٹیم ضرورت پڑنے پر عمران خان کا چیک اپ کرتی ہے،عمران خان کو جیل میں ورزش کے لیے مشین اوردیگر اشیا فراہم کی گئی ہیں، ملاقات کے لئے آنے والوں کے حوالے سے ب بھی اہم قوائد وضوابط بنائےگئےہیں، عمران خان کے جیل ٹرائل کے دوران، ایک جامع سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جاتا ہےاڈیالہ جیل کی حفاظت کے لیےپولیس، رینجرزسمیت مختلف محکمے فرضی مشقیں بھی کرتے ہیں اڈیالہ جیل کی جانب جانے والے روڈ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، جبکہ جیل کے ارد گرد رینجرز اور ایلیٹ فورس کے اہلکار گشت بھی کرتے ہیں۔

Leave a reply