fbpx

پرویزالہی نےعمران خان کا ساتھ نہ چھوڑا تو میری ان سے ذاتی لڑائی ہے:آصف زرداری

لاہور:ایک طرف پنجاب میں وزیراعلیٰ کا کل انتخاب ہونے جارہا ہے اور دوسری طرف اس وقت میدان سیاست کے کھلاڑی آصف علی زرداری اپنے سیاسی کارڈ کھیلنے کی بھرپورکوشش کررہے ہیں ، اس حوالے سے کیا صورت حال اس وقت چل رہی ہے ،اس کی حساسیت کا اندازہ سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے بیان سے بآسانی کیا جاسکتا ہے جن کا کہنا ہے کہ پرویزالہی نےعمران خان ساتھ نہ چھوڑا تو اس کا مطلب ہے یہ میری اور ان کی ذاتی لڑائی ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری نے اس سلسلے میں چوہدری شجاعت حسین کو بھی اپروچ کیا لیکن چوہدری شجاعت حسین نے حامی بھرنے سے معذرت کرلی ، بعض تو کہتےہیں کہ اس ملاقات میں آصف زرداری نے چوہدری شجاعت کے توسط سے چوہدری پرویز الہی کو جارحانہ تنبیہ بھی کر ڈالی ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہےکہ آصف علی زرداری کا کہنا ہےکہ انہوں نے چوہدری پرویزالہی کو وزیراعلی پنجاب بنانے کے لئے نوازشریف کو راضی کیا، اور پرویزالہی کو وزیراعلی پنجاب بننے کی مبارکباد بھی دی اور انہوں نے شکریہ بھی ادا کیا۔

آصف زرداری نے کہا کہ صبح خبر ملی کہ پرویزالہی ہمارا امیدوار بننے کے بجائےعمران خان کے امیدوار بن گئے، میں چاہتا ہوں کے پرویزالہی عمران خان کے امیدوار کے طور پر سامنے نہ آئیں۔

آصف زرداری میری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ پرویزالہی کاراستہ روکوں، پرویزالہی نےعمران خان ساتھ نہ چھوڑا تو اس کا مطلب ہے یہ میری اور ان کی ذاتی لڑائی ہے۔

دوسری طرف تمام سیاسی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے اپنے بیان میں واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار نہیں دو تین بار پہلے بھی یہی بات کہہ چکا ہوں، جن کو مینڈیٹ ملا حکومت کرنا اس کا حق ہے۔

صدر ق لیگ کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی ہی وزارت اعلیٰ کے لئے پارٹی کے امیدوار ہیں، مجھے صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

رانا ثناء توہین عدالت کیس: اگر توہین عدالت ہوئی تو ٹھوس ثبوت پیش کریں. سپریم کورٹ

چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ ملکی مسائل کا حل اسی میں ہے کہ گنتی کے چکروں سے باہر نکلا جائے، غریب آدمی کے مسائل کی طرف توجہ دی جائے، جو غریبوں کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو گا حقیقی معنوں میں اسی کی گنتی پوری ہو جائے گی۔

(ق) لیگ کے صدر نے مزید کہا کہ جو منتخب ہوئے ہیں وہ عوام کی خدمت کریں، اس فکر میں نا پڑیں کہ ایک دوسرے کو کیسے نیچے دکھانا ہے۔ ملکی مسائل کا حل اسی میں ہے کہ سال ڈیڑھ سال حکومت کا موقع ملنا چاہیے یا فوری انتخابات کی طرف جا یا جائے، فوری انتخاب سے مراد فوری ہیں مہینے نہیں۔

پی پی 7 راولپنڈی، دوبارہ گنتی سے متعلق کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوئے تھے جس میں تحریک انصاف نے بھرپور کامیابی حاصل کی اور صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔

دو روز قبل آصف زرداری نے پنجاب اسمبلی میں حمایت کے لیے چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات بھی کی تھی لیکن چوہدری شجاعت حسین نے کسی قسم کا واضح جواب نہیں دیا تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب:صوبائی اسمبلی کیلئےضابطہ اخلاق جاری:دفعہ 144نافذ