fbpx

بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟

بزدار کی کرپشن پر عمران خان "چپ” کیوں تھے؟
صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو عمران خآن نے عثمان بزدار کو اپنا وسیم اکرام پلس کہا اور صوبہ پنجاب کو ایک ایسے انسان کے حوالے کر دیا جس کو صرف فائلیں پڑھنے پڑھانے کے لیے بھی ملازم چاہیے تھا، انتہائی کمزور انتظامییہ اور کمزور ریاستی رٹ نے صوبہ بھر کی عوام کو ہر وقت اضطراب میں رکھا حتی کہ عمران ریاض خان جیسے پرو پی ٹی آئی صحافیوں نے بھی مختلف موقعوں پرعثمان بزدار کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے لائے جس میں مانیکا خآندان کے کرتوت شامل تھے لیکن عمران خان اپنی ضد پر قائم رہے اور یوں آہستہ آہستہ عمران خان کے اتحادی ساتھ چھوڑنے لگے جس کے نتیجے میں پنجاب بھی نون لیگ عمران خان سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

پنجاب میں ضمنی الیکشن کی آمد آمد ہے اور پی ٹی آئی کے خلاف تمام سیاسی پارٹیاں متحد ہیں تو دوسری طرف تحریک لبیک اچھا خآصآ ووٹ بینک لینے والی ہے ان حالات میں پی ٹی آئی کا ضمنی انتخابات میں سیٹیں نکالنا مشکل ہو چکا ہے تو اب کھل کر آئی ایس آئی کے آفیسرز پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے اگر واقعی کوئی ثبوت ہیں تو عدالت جائیں اور کیس کریں لیکن اس طرح اپنے اداروں پر الزامات لگانا وہ بھی ثبوتوں کے بغیر سمجھ سے باہر ہے۔

عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

پنجاب کی ناراض عوام کے غصے کو چھپانے کے لیے پی ٹی آئی لیڈران اداروں کے خلاف مہم چلا کراپنی نااہلی کو چھپانا چاہتے ہیں لیکن عوام سمجھ چکی ہے کہ کھوکھلے نعروں کے پیچھے چھپ کر اداروں پر حملے کرنے والوں کے پاس ادنی سا بھی ثبوت ہوتا تو عدالت پہنچ چکے ہوتے۔ کب تک پاکستان میں ایسے چلتا رہے گا کہ جب تک حکومت نہ ملے دھاندلی اور مل جائے تو ادارے اچھے، عمران خان جو یوٹرن خان بھی ہیں ،اپنے مفادات کے لئے ملکی سلامتی کو بھی داؤ پر لگانا چاہتے ہیں، عمران خان صاحب ملک ہے تو آپ ہین، خدارا ہوش کریں، ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید سے قبل اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی پارٹی کے اندر جھاڑو پھیریں، لوٹوں کو ملا کر حکومت بنائی تھی وہ لوٹے چلے گئے تو اس میں اداروں کا کیا قصورہے، اسوقت لوٹے نہ لیتے اپنی پارٹی میں اور سادہ اکثریت نہیں تھی تو حکومت نہ بناتے