fbpx

عمران خان کے الزامات:وزیراعظم کا فل کورٹ کمیشن کا مطالبہ

لاہور:وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ عمران خان فوج پر کسی دشمن کی طرح حملہ آورہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں، عمران خان سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مارچ میں ہونے والے واقعےکی ہم سب نےمذمت کی، اس واقعے کے بعد میں نے اپنی پریس کانفرنس بھی ملتوی کر دی، میں نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو ہر ممکن مدد دینے کی ہدایت کی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کیلئے دعاگو ہوں لیکن سازشوں پر خاموش نہیں رہ سکتا، مجھ سمیت سب کا فرض ہے پاکستان کو بچانے کیلئے مثبت کردار ادا کرے، کل اور پرسوں بدترین قسم کی الزام تراشی کی گئی، ایک بار پھر جھوٹ اور گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا گیا، کہا گیا کہ واقعے کے پیچھے سازش ہوئی، میرا، رانا ثنا اللہ اور ایک ادارے کے افسر پرالزام لگایا گیا جو افسوسناک ہے۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ شخص سر سے پاؤں تک جھوٹ کا مجسمہ ہے، وہ قوم کو پٹری سے ہٹانے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ عمران خان فوج پرکسی دشمن کی طرح حملہ آور ہے، عمران خان کے بیانات تضاد بھری داستان ہے، عمران خان کہتا تھا کہ جنرل باجوہ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر پاناما کیس میں 10 ارب روپے کا الزام لگایا گیا، پانچ سال سے کیس چل رہا ہے، ان کے وکیل پیش ہی نہیں ہوتے، ملتان میٹرو کا کیس کہاں گیا؟ چین کو بدنام کیا گیا، جاوید صادق نامی شخص کو میرا فرنٹ مین بتایا گیا۔ہمیں سزا دلوانے کیلئے ریٹائرڈ جج لگوائے گئے، اس کو ایسے ریٹائرڈ ججز چاہییں جنہیں یہ جاوید اقبال کی طرح بلیک میل کرے، طیبہ گل کےذریعےجاویداقبال کوبلیک میل کیا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان قوم کو بتائیں انہیں کتنی گولیاں لگیں، پنجاب حکومت میری تو نہیں ہے، پنجاب حکومت تمہاری ہے، پولیس بھی تمہاری، تحقیقات کرواؤ، بتائیں ابھی تک ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی؟ وفاقی حکومت نے 28اکتوبر کو خط لکھ کر لانگ مارچ میں دہشتگردی سے متعلق بتایا، پنجاب حکومت کو بتایا کہ جلسے جلوسوں میں دہشت گردی کا خطرہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کے پاس ثبوت ہے کہ ان ہی 3 لوگوں نے سازش کی تو ثبوت لے آئیں، عمران خان کے پاس سازش کے ثبوت ہیں تو مجھے ایک لمحہ بھی عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ثبوت خود پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص جھوٹا ہے، قانون کے مطابق زخمی ہونے والا میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ کے لیے سرکاری اسپتال پہنچتا ہے، یہ سیدھے اپنے اسپتال پہنچ گئے، انہیں گولیاں جتنی بھی لگیں، 3 گھنٹے کا سفر یوں ہی کیا کسی اسپتال نہیں گئے، یہ سیدھے اپنے اسپتال پہنچ گئے۔