fbpx

بھارت پاکستان کے خلاف تحریکوں کومعاونت دینے میں سرگرم:باقاعدہ فندزقائم،بھارتی سفارتخانے متحرک

اسلام آباد: بھارت پاکستان کے خلاف تحریکوں کومعاونت دینے میں سرگرم:ماسکوسے اہم بلوچ رہنما کی باغی سے گفتگو،اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت دنیا بھرمیں پاکستان کے خلاف پھرتحریکوں کوہوا دینے میں معاونت کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق بھارت ایک طرف پاکستان سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے تودوسری طرف دنیا بھرمیں پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے،

دوسری طرف ماسکومیں مقیم بلوچ رہنما جمعہ مری نے پاکستان کی ترقی ، خوشحالی اورکامیابی کے لیے تہہ دل سے کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا ہے

اس سے پہلے کہ جمعہ مری سے ہونے والی کچھ عرصہ پہلے گفتگو کوشامل کیا جائے پہلے پچھلے دودن سے دنیا بھرمیں پاکستان کے خلاف ناراض بلوچوں کی پشت پناہی کرنے والے بھارتی کی کرتوتوں پرسے پردہ اٹھانا ضروری ہے

معتبرذرائع کے مطابق بھارت ، امریکہ اورکچھ اتحادی ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کی باہمی مشاورت کے بعد دنیا بھرمیں ان مفرور پاکستانیوں کوپاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کے لیے ان مفرورپاکستانیوں کوتیارکیا اوران کواس سلسلے میں مالی معاونت بھی کی

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے میڈیا پرکوریج کی ذمہ داری بھی بھارت اورامریکہ کی حامی قوتوں نے لی

اس حوالے سے بھارت کی ایما پر بلوچ قومی تحریک کے حامیوں نے 27 مارچ کو یوم سیاہ منانے کے لئے جرمنی ، نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے کیے۔

یوم سیاہ منانے کے لئے جرمنی کے شہر ہنور میں بی این ایم کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں بلوچ مردوں ، خواتین اور بچوںنے حصہ لیا اسی طرح برطانیہ کے ایمسٹرڈیم میں بھی بلوچ مظاہرین نے احتجاج کیا۔

دوسری طرف فیس بک اورٹویٹرکوبھی یہ ہدایت کی گئی کہ پاکستان کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو بھرپورکوریج دی جائے ، اس سلسلے میں ٹویٹرانتظامیہ نےفری بلوچستان موومنٹ آرگنائزیشن کے لوگوں نے بھی ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف مہم چلائی۔

دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے خلاف اس مہم کوبھارتی میڈیا نے بھی بھرپورکوریج دی اوریہ تاثردینے کی کوشش کی کہ پاکستان میں‌بلوچوں کوحقوق بنیادی حقوق حاصل نہیں

ادھر پاکستان اوربلوچستان سے بلوچوں نے ان مفرور بلوچوں کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ بلوچ خوش اورخوشی سے اپنی زندگیاں گزاررہے ہیں

کوئٹہ سے ملنے والی اطلاعات میں‌بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ اوردیگرحصوں میں ان مفرور بلوچوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہارکیا اوران کوبھارت نوازقراردے کرپاکستان دشمن قراردیا

ادھر ذمہ دارذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بھارت ، امریکہ ،اسرائیل ، برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے ایک خفیہ فنڈ بھی قائم کررکھا ہے ،اس فنڈنگ میں بھارت 50 فیصد،امریکہ 30 فیصد ، برطانیہ 10 فیصد اوراسرائیل سمیت دیگرملک باقی 10 فیصد اپنا حصہ ڈالتے ہیں اوریہ ساری رقم پھریہاں سے ان مفرور بلوچوں کے اکاونٹس میں منتقل ہوتی ہے

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسی فنڈ سے ان مفرور بلوچوں کوماہانہ تنخواہوں کے ساتھ ساتھ کرایہ مکان اورٹی اے ڈی الاونس بھی دیا جاتا ہے

اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کے علاوہ پاکستان کے خلاف پروگراموں اورمظاہروں سمیت تمام سرگرمیوں‌کے لیے فنڈز بھارتی سفارتخانے کی طرف سے الگ طورپردیا جاتا ہے

ادھر معتبرذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی طرف سے ان مفرور بلوچوں کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی طرف سے فوکل پرسنز بھی تعینات کیے گئے ہیں جوپاکستان کے خلاف ایسی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے بھارتی خواہش کے مطابق اسائنمنٹ دیتے ہیں اورپھرساتھ معاونت بھی کرتے ہیں‌

اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر، واٹس ایپ ، فیس بک اورایسے گوگل کے دیگرایپس پربھی بھارتیوں کا مکمل کنٹرول ہے ،

اس کنٹرول کا اندازہ ان حقائق اوراس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر، خالصتان اورایسے ہی بھارت میں جاری دیگرعلیحدگی کی تحریکوں کی سرگرمیوں کوان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پراپ لوڈن ہونے سے پہلے ہی بلاک کردیا جاتا ہے اوران کی بھارت سے آزادی کی کوششوں کودبانے کے لیے یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھارتی خواہش پرمرکزی کردار ادا کرتے ہیں

یہ وجہ ہے کہ نہ صرف بھارت کے اندربلکہ بھارت کے باہرجوافراد، ادارے بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پرآوازاٹھاتے ہیں ہیں ان کی آوازدبا دی جاتی ہے

ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پربھارتی اثرورسوخ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیرکے ساتھ اظہاریکجہتی کرنے والے کشمیریوں ، پاکستانیوں اوردیگرملکوں سے تعلق رکھنے والوں کے ٹویٹراکاونٹس ، فیس بک پیجز بندکردیئے جاتے ہیں‌

لیکن دوسری طرف پاکستان مخالف قوتوں کی طرف سے ناراض بلوچوں کواکسا کرپاکستان سے بھگانے کے بعد یورپ اوردیگرملکوں‌میں ان مفرور بلوچوں کی پاکستان سرگرمیوں کوان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پربھرپورکوریج دینے کے لیے ہرقسم کی سہولت میسرہے

اس سلسے میں اکثربلوچ رہنماوں کویہ احساس بھی ہوا ہے کہ ان کوپاکستان کے خلاف اس قسم کی تحریکوں اورسرگرمیوں سے دوررہنا چاہیے تھااوربھارت اوردیگرہمنوا قوتوں کا آلہ کارنہیں بننا چاہیے تھا ، یہی وجہ ہےکہ اب ان میں سے اکثراب پاکستان سے نفرت نہیں بلکہ محبت کرتے ہیں اوراپنے آبائی وطن کی خوشحالی اورترقی کے لیے دعا گوہیں

باغی ٹی وی نے روس میں‌ بلوچ رہنما سے کچھ عرصہ پہلے اس حوالے سے بات کی توان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ان کی کوئی ناراضگی نہیں ، پاکستان ہمارے اباواجدادکی سرزمین ہے اورہمیں اپنی جان سے پیاری ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اب ہروقت پاکستان کو بڑھتا ہوا اورپھولتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں

 

 

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں‌پاکستان کی سلامتی کے اداروں‌کی کوششیں بہت کامیاب رہی ہیں اوران کی ان کوششوں کے نتیجے میں‌ آج بلوچستان پھرامن کا گہوارہ بننے کی طرف جارہا ہے اوربہت جلد اسی بلوچستان کی بنیاد پرپاکستان دنیا کا ایک مضبوط معاشی مرکز کے طورپردنیا کے سامنے آئے گا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.