ورلڈ ہیڈر ایڈ

سرکریک پر پاکستان حملہ کرنا چاہتا ہے، بھارتی فوج کی دہائی،بھارت کا ایک اور پروپیگنڈہ ہوا بے نقاب

بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے سے باز نہیں آ رہا، ایک بار پھر بھارتی جھوٹ بے نقاب ہو گیا، بھارت نے سرکریک پر ممکنہ پاکستانی حملے کا جھوٹ گھڑا مگر بے نقاب ہو گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آج 37 واں دن ہے مقبوضہ کشمیر میں مکمل کرفیو نافذ ہے ،تمام تعلیمی ادارے بند ہیں، کاروباری مراکز کو تالے لگے ہوئے ہیں، انٹرنیٹ و موبائل سروس بھی بند ہے،کشمیریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں. کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد مودی سرکار نے حریت رہنماؤں سمیت کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو بھی گرفتار و نظر بند کر رکھا ہے. اس کے باوجود کشمیری بھارت سرکار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں،لال چوک اور سری نگر کے ملحقہ علاقوں کے تجارتی مرکز کو عوامی نقل و حرکت کوروکنے کے لئے ، تمام داخلی مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ایمبولینسوں اور طبی عملے کو بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بھارتی فوج نے لاوڈ اسپیکر کے ذریعہ اعلان کیا ہے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

کشمیریوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سری نگر میں ابیگوزر مقام سمیت کئی مقامات پر جلوسوں میں شرکت کی۔ کم از کم چھ جلوس نکالے گئے ، پولیس نے جلوس کے تمام شرکا کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے سوگواروں کو لاٹھیوں سے بھی مارا اور چھرے بھی مارے

ان حالات میں پاکستان نے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، پاکستان کے وزیر خارجہ متحرک ہیں ،انہوں نے چین کا دورہ کیا، مختلف ممالک کے ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا، ایران کی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حق میں قرارداد پیش کی گئی، پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، کور کمانڈر کانفرنس ہوئی اور پاکستان نے کشمیریوں کا آخری حد تک ساتھ دینے کا اعلان کیا.

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا، چودہ اگست کو یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا گیا، پندرہ اگست کو پاکستان بھر میں یوم سیاہ منایا گیا، چیئرمین سینیٹ نے مختلف وفود تشکیل دییے ہیں جو مختلف ممالک کا دورہ کرکے کشمیریوں پر بھارتی مظالم سے دنیا کو آگاہ کریں گے، وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر مسلسل دو جمعہ کو یوم کشمیر منایا گیا جس میں پاکستانی قوم نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی

بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے، مسلسل کرفیو سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کوئی ایسا اقدام کرنا چاہتا ہے جس سے دنیا کی توجہ پاکستان سے ہٹے، اس کے لیے بھارت سرکار دو ماہ سے جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہی ہے، کبھی ایل و سی پر طالبا ن کے آںے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کبھی مسعود اظہر کی رہائی اور کبھی ایل او سی پر جعلی چیک پوسٹیں بنائی جاتی ہیں کبھی گھاس کاٹنے والوں کو گرفتار کر کے تعلق مجاہدین کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے.

آج جو بھارت سرکار کا جھوٹ بے نقاب ہوا ہے ،بھارت نے واویلا مچا دیا کہ پاکستان سرکریک ریجن پر حملہ کرنا چاہتا ہے، بھارتی سدرن کمان کے جنرل نے ٹوٹی پھوٹی کشتیاں دکھا کر الزام لگا دیا کہ پاکستان حملہ کرنا چاہتا تھا،ہم سیکورٹی اقدامات اٹھا رہے ہیں.

بھارت نے یہ واویلا ایسے وقت میں کیا جب جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کا اجلاس جاری ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کا شاندار مقدمہ عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے.

بھارت کی ایک اور جھوٹی کہانی بے نقاب، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی باغی ٹی وی کی خبر کی تصدیق

 

گھاس کاٹنے والوں کوبھارت نے عسکریت پسند بتایا، بھارت کا ایک اور جھوٹ بے نقاب

پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

بلٹ پروف جیکٹ پہنے بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں نے کیسے مارا؟ مودی سرکار حیران

بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

 

اس سے قبل مودی سرکار نے 24 اگست کو ایک الرٹ جاری کیا تھا بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے راستے سے بھارتی ریاست تامل ناڈو میں حملے کا خطرہ ہے، بھارتی اداروں کی جانب سے حملے کا الرٹ جاری ہونے کے بعد سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے، تامل ناڈو میں بھارت کے دفاعی ترجمان نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر بھارت کے سمندروں کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے.

بھارت ایک اور ڈرامہ رچانے میں مصروف، 26/11 طرز کے حملے کا الرٹ جاری

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے تامل ناڈو سے چھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے ور وہ مبینہ حملہ آوروں سے رابطے میں ہیں جو تامل ناڈو میں حملہ کرنا چاہتے ہیں، گرفتار شدگان کو نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جن سے بھارتی تحقیقاتی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں.

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.