جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی برقرار،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

0
111
indian supreme

بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا ہے

بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ” جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 کا نفاذ عبوری تھا اور اس کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا” سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جموں کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کروانے کی الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت کی،بھارتی سپریم کورٹ نے جموں کشمیر کو جلدہی ریاست کا درج بحال کرنے کی ہدایت بھی کی، عدالت لداخ کو یوٹی بنانے کے فیصلہ کو بھی برقراررکھا

بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کے اگست 2019کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل بینچ نے دلائل سننے کے بعد 5ستمبر 2023کو فیصلہ محفوظ کیا تھا،

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ بھارت کو تسلیم کرنے کے بعد جموں کشمیر کوئی اندرونی خود مختاری نہیں رکھتا، آرٹیکل 370 کا اطلاق عارضی تھا، آئین کے آرٹیکل ایک اور 370 کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا اہم حصہ ہیں، جموں و کشمیر اسمبلی کا مقصد باڈی بنانا نہیں تھا، آرٹیکل 370 جموں کشمیر کی شمولیت کو منجمد نہیں کرتا،صدر کے پاس کسی بھی آئین کی منسوخی کا اختیار موجود ہے،

بھارتی سپریم کورٹ کے متعصبانہ فیصلہ سے تحریک آزادی کشمیر مزید مضبوط ہوگی،شہباز شریف
سابق وزیراعظم،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہنا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نےاقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی فیصلہ دیکر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے لاکھوں کشمیریوں کی قربانی سے غداری کی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے اس متعصبانہ فیصلہ سے تحریک آزادی کشمیر مزید مضبوط ہوگی ۔ کشمیری جدو جہد میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ یہ فیصلہ بھارتی سپریم کورٹ کے ماتھے پر انصاف کے خون کی پہچان کے طور پر دیکھا جائے گا۔ میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن ہر سطح پر کشمیریوں کے حق کی آواز اٹھائے گی۔ ہم اس جد وجہد میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما مزمل ہاشمی کا کہنا ہے کہ کشمیر پر انڈین سپریم کورٹ کا متعصبانہ فیصلہ اس خاص بھارتی توسیع پسندانہ ذہن کا عکاس ہے جس کی وجہ سے خطہ کا امن ہمیشہ ہی خطرہ سے دوچار ہے ریاست پاکستان کو اس پر بھرپور آواز اٹھاتے ہوئے دنیا کو باور کروانا چاہئے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے آگے کوئی حل بھی قابل قبول نہیں ہے وگرنہ اس مسئلہ کی وجہ سے ہونے والی کوئی بھی تباہی اس کی ذمہ داری پوری دنیا پر عائد ہوگی

سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت سے انکار کر کے ناانصافی کی تاریخ رقم کی،فردوس عاشق اعوان
سابق وفاقی وزیر، استحکام پاکستا ن پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ برقرار رکھنے سے نام نہاد سیکولر بھارت کی تنگ نظری اور ہٹ دھرمی کھل کر سامنے آئی ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار سپریم کورٹ کی فیصلہ سازی میں کمزوری اور اخلاقی پستی کا ثبوت ہے۔ انتہا پسند اور دہشت گرد بھارت کا بھیانک چہرہ پہلے بھی کئی بار بے نقاب ہو چکا مگر وہ پھر بھی کشمیریوں کی حق تلفی اور انسانیت سوزی سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔ استحکام پاکستان پارٹی بھارتی سپریم کورٹ اور ایسے یکطرفہ فیصلہ سازی کے پورے نظام کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔ مودی سرکار اور سپریم کورٹ نے متنازعہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت سے انکار کر کے نانصافی کی تاریخ رقم کی ہے جو انسانی حقوق کے خود ساختہ چیمپیئن بھارت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں و بھارتی سپریم کورٹ کے آج کےمعتصبانہ فیصلہ کے خلاف کل جماعتی حریت کانفرنس نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ مبصرین آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا،

بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی انتہا پسند سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔شیری رحمان
سابق وفاقی وزیر، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ مودی راج کے مذموم مقاصد کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مقبوضہ کشمیر کے لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ ہم اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ مودی سرکار نے 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے قانون سازی کی تھی۔ 2019 میں ہی اس قانون سازی کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں جسے 5 سال تک التواء کے نظر کیا گیا۔ 2024 بھارت میں انتخابات کا سال ہے، انتخابات سے پہلے سپریم کورٹ کی جانب سے ایک متنازع قانون سازی کے خلاف درخواستیں مسترد کرنے کا مقصد مودی کی انتخابی مہم چلانا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ بی جے پی کی انتہا پسند سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ اس فیصلے سے مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مقبوضہ کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ مودی سرکار یا بھارتی سپریم کورٹ نہیں بلکہ کشمیر کے لوگ حق خودارادیت سے کریں گے

بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے،خواجہ سعد رفیق
ن لیگی رہنما، سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر بارے فیصلہ کر کے انصاف کا خُون کیا ہے،مقبوضہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارتی فوج نے دھائیوں سے قبضہ غاصبانہ کیا ہوا،بھارتی سپریم کورٹ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کا تعین کرنیکی مجاز ھی نہیں ،بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی توہین ہے،کشمیریوں کی بھارت سے نفرت اور پاکستان سےمحبت تاریخی ھے،مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کا تعین کشمیری استصواب راۓ کے ذریعے ھی کریں گے

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا ہے کہ آج کا فیصلہ صرف قانونی نہیں، امید کی کرن اور روشن مستقبل کا وعدہ ہے. آج کا فیصلہ مضبوط، زیادہ متحد بھارت کی تعمیر کا ہمارے اجتماعی عزم کا عہد ہے،

بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی جرم کیا، بھارتی فریب کو مسترد کرتے ہیں،مریم نواز
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے جموں کشمیر کے حوالہ سے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے تاریخی جرم کیا، کشمیری عوام، پاکستان اور دنیا بھارتی فریب کو مسترد کرتے ہیں، بھارت سوناٹک کرے، کشمیر کشمیریوں کا ہے، کشمیریوں کا ہی رہے گا، بھارت کے کشمیریوں کو غلام بنانے کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہو چکے،تنازع جموں و کشمیر پر سلامتی کی قرار دادوں، عالمی قانون کا اطلاق ہوتا ہے،کشمیر کے عوام کا آزادی اور استصواب رائے کا حق نہیں چھینا جا سکتا،جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے،

Leave a reply