fbpx

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اختیارات کم کر دیئے

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اختیارات کم کر دیے
قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین لگانے کا اختیارچیف جسٹس سپریم کورٹ سے لے کروفاقی حکومت کو دے دیا گیا،
ترمیم کے بعد چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات اور ممبران کو کنٹرول رکھنے کیلئے وفاقی حکومت انہیں بغیر بتائے ایک ماہ کا نوٹس دے کر ہٹاسکے گی

وزارت سمندر پار پاکستانیز نے قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے رولزمیں خاموشی کے ساتھ ترمیم کر دی، ذرائع کے مطابق قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین لگانے کا اختیار چیف جسٹس سپریم کورٹ سے واپس لینا سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی خلاف ورزی ہے جو کہ سپریم کورٹ نے ریاض الحق بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس میں دیا تھا۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین لگانے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان سے لیکر وفاقی حکومت کو منتقل کردیا ترمیم کے بعد چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات اور ممبران کو کنٹرول رکھنے کے لئے وفاقی حکومت انہیں بغیر بتائے ایک ماہ کا نوٹس دے کر ہٹاسکے گی ۔ دستاویزات کے مطابق سپریم کورٹ نے ریاض الحق بنام فیڈریشن آف پاکستان کیس میں13جنوری 2013 فیصلہ دیا تھا کہ اس طرح کے ٹربیونلزو کمیشنز کے چیئرمین کی تعیناتی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت سے جائے گی، اس کے ساتھ معاشی اور انتظامی طورپر خود مختار ہونے چاہیں تاکہ قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات اور اس طرح کے ٹربیونلزآزادنہ طور پر فیصلے کرسکیں تاہم قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات نئے رولز میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے برعکس چیف جسٹس کی مشاورت ختم کر دی گئی ہے اور،قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین و ممبران کو عہدے سے ہٹانے کے لیے بغیر وجہ بناتے 30دن میں ہٹانے کی شق بھی رولز میں شامل کردی گئی۔

اس سے پہلے پرانے رولز کے مطابق چیئرمین لگانے کے لیے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری تھی اور کسی بھی چیئرمین یا ممبر کو بغیروجہ بتائے ہٹایا نہیں جا سکتا تھا۔نئی ترمیم کے مطابق وفاقی حکومت خود چیئرمین قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے تعیناتی کرے گی، نئی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے چیئرمین کمیشن سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا سابق وموجودہ جج لگایا جاسکے گا، نئے رولز کے تحت چیئرمین و ممبران کو تین سال کے لیے تعینات کیا جائے گاجس میں توسیع نہیں ہوگی،کمیشن ممبران کی تعیناتی تین سال کے لیے ہوگی۔وزارت اوورسیز پاکستانی اور وفاقی وزیر کے ساتھ باربار رابطہ کرنے کے باوجودکسی قسم کا موقف نہیں دیا،واضح رہے کہ پرانے رولز کے مطابق قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات کے چیئرمین کی تعیناتی پہلے صرف سپریم کورٹ کا جج چیف جسٹس کی مشاورت سے ہی کی جا سکتی تھی، سابقہ رولز کے مطابق کمیشن ممبران کی تعیناتی دو سال کے لیے ہوتی تھی۔

رپورٹ ،محمداویس

تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت

ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا