fbpx

اسلامی فلاحی ریاست اور جمہوریت تحریر: زبیر احمد

‏اسلامی فلاحی ریاست اور جمہوریت

ایک ایسا نظام جس میں عوام براہ راست اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کے معاملات میں شرکت کرسکتی ہے، اس نظام حکومت کو ہم جمہوریت کہتے ہیں۔جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتی ہے یعنی عوام کے پاس وہ طاقت ہے جس سے وہ جب چاہے اپنی منتخب حکومت کو گرا بھی سکتی ہے اور اس سے بنا بھی سکتی ہے یعنی پوری پوری طاقت عوام کی ہی ہے۔ جمہوریت کو سادہ الفاظ میں عوامی حکومت سے کہا جاتا ہے اور جمہوری نظام میں اس بات کا دعوٰی کیا جاتا ہے کہ اقتدار کی اصل مالک عوام ہے۔ آج کل ہر انسان کی زبان پر یہ لفظ گردش کرتا نظر آتا ہے کہ اگر ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے، اگر ملک کو ترقی کے زینے پہ استوار کرنا ہے تو پھر جمہوریت کو فروغ دینا ہوگا، ملک میں جمہوریت کے نظام کو قائم کرنا ہوگا۔ جمہوریت دراصل ایک آزاد سوچ کی بنیاد ہے جہاں ہر شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ رازداری کے ساتھ اپنی مرضی سے  جس کو چاہے ووٹ کے ذریعے کرسکے۔
جمہوریت کے نظام کی ابتداء اسلام کے دور حکومت سے ہوئی تھی۔ آج بھی برطانیہ کی پارلیمنٹ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ٹیکس اور عدل و انصاف کے نظام کی پیروی کی جاتی ہے۔ جمہوریت اس ملک میں عائد ہوسکتی ہے جہاں حق اور سچ کی بات کی جاسکے۔ جس ملک میں جمہوریت ہو اس میں وقفے وقفے سے انتخابات ہوتے ہیں۔ یہ جمہوریت کی پہلی نشانی ہوتی ہے، اور جمہوریت کی دوسری نشانی یہ ہے کہ اس میں حکومت صرف پانچ سال کی ہوتی ہے اور پانچ سال گزرنے کے بعد حکومت کا بدلنا لازمی ہوتا ہے۔ حکومت کا بدلنا یعنی پھر سے نئی حکومت کا آنا ہوتا ہے۔ جمہوریت کی تیسری نشانی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں یعنی جس ملک میں جمہوریت ہوتی ہے اس ملک میں سیاسی جماعتیں کثیر تعداد میں ہوتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار جمہوریت پر ہوتا ہے کیونکہ جب ایک حکمران بذات خود غریب کا بیٹا ہو تو اس سے احساس ہوگا کہ ہمارے ملک میں غریب کی ضروریات کیا ہیں، سڑکوں کیبجائے صحت، روزگار، تعلیم کی ذیادہ ضرورت ہے اور اگر بادشاہ کے بیٹے کو حکمرانی کا تاج پہنا دیا جائے تو وہ غریب کی غریبی مٹانے کیبجائے اپنی عیاشی کے سازوسامان پر توجہ دے گا۔ہمارے ملک کے نظام میں 74 سال سے یہی روش نظر آرہی ہے۔ ہمارے ملک میں غریب کا پارٹی بنانا تو دور کی بات ہے وہ ایک ممبر کی سیٹ بھی حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ جمہوریت دولت کی محتاج ہے۔ ہماری سوچ بھی ایسی ہے کہ پیسوں والے حکمرانوں کی تو قدر کرتے ہیں لیکن تعمیری سوچ اور تعمیری کام کرنے والے لوگوں کو ہم موقع نہیں دیتے۔ ہمارے ملک کی جمہوریت پیسہ، غنڈہ گردی، جھوٹ اور دھونس پر مبنی ہے کیونکہ جب ہمیں کسی تھانے کچہری یا کوئی غیر قانونی کام کی ضرورت پیش آئے تو یہی جمہوری حکمران ہمارے کام کو انجام دینے میں مدد کرتے ہیں اس لئے ہم ان کی چاپلوسی بھی کرتے ہیں۔ ہماری جمہوریت سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے گھر کی لونڈی ہے۔ یہ جمہوریت اور آئین کا ماڈل ہمیں مغرب نے دیا ہے جبکہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی اسلام طرز کی جمہوریت استوار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی اور نہ ہی کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ آمریت اور بادشاہت کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں کیونکہ اس میں ہی ان کو فائدہ ہے
اصل میں مسلمانوں کو جمہوریت سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی اور اس سازش میں سب سے نمایاں کردار مسلمان حکمرانوں نے ادا کیا جو عوام کی آزادی کو اپنے لیے شدید خطرہ سمجھتے ہیں، ورنہ حقیقت میں اسلام نے جمہوری نظام حکومت کا بہترین ماڈل پیش کیا ہے جس کی بنیادیں انسانی آزادی، مساوات، جان و مال کا تحفظ اور فلاحی ریاست مقرر کی گئی ہیں۔ مسلمان اسلام کی بنیاد پر جمہوریت کا اپنا ماڈل بنا سکتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہمارے حکمران عوام کو جمہوری نظام دے کر انہیں سوچنے اور سمجھنے کی آزادی دینا چاہتے ہیں۔ اسلام نے انفرادیت کے مقابلے میں اجتماعیت پر زور دیا ہے تاکہ متفقہ رائے سے معاشرے کی نمائندگی اور مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔ قرآن میں بار بار اس کا ذکر ہے کہ اللہ کو انصاف سے لگاؤ ہے اور انصاف کرنے والوں پر اس کی عنایت ہے جس کی بدولت انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل پر زور دیا گیا ہے۔
اگر ہم پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں بدلنا ہوگا خود کی سوچ کو بدلنا ہوگا تب جاکر اس ملک کا حکمران بدلے گا اور صحیح حکمران آئے گا اور تب جاکر ہمارا ملک ترقی کرے گا۔

Tweets ‎@KharnalZ