fbpx

یر وشلم :سیکیورٹی فورسزاور فلسطینیوں میں تصادم اسرئیل نے فلسطینیوں کے لئے دمشق گیٹ کھول دیا

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں رمضان کے روایتی اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں

باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق اسرائیلی پولیس نے یروشلم میں فلسطینیوں کو دمشق گیٹ کے باہر جمع ہونے اور رمضان میں عبادت کرنے پر پابندی لگا دی تھی مشرقی یروشلم میں دمشق گیٹ کے باہر واقع پلازہ وہی حصہ ہے جس پر اسرائیل نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے میں ضم کر لیا ہے۔ تاہم فلسطینی بہت پہلے سے رمضان کے مقدس مہینے میں روایتی طور پر یہاں افطار اور عبادت کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں۔

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے اس بار فلسطینیوں کے اس علاقے میں اجتماعات پر پابندی عائد کرتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں اسی لیے رمضان کے شروع ہوتے ہی رات کے دوران سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ دمشق گیٹ کے باہر پلازہ کے پاس لوگوں کے اجتماع پر پابندی سے زبردست کشیدگی پائی گئی تھی۔

اس کی وجہ سے مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں میں زبردست غصہ تھا۔ اس کے خلاف پہلے احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جس میں بڑی تعداد میں فلسطینی اور بعض پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد میں غزہ کے علاقے سے اسرائیل پر راکٹ داغے گئے جس کے خلاف اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کی۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ تشدد جمعرات کے روز ہوا جب تقریباً 100 فلسطینی نوجوان زخمی ہو گئے جبکہ اسرائیلی پولیس نے 50 سے زیادہ افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔ کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب اس مقبوضہ علاقے میں آباد سینکڑوں سخت گیر قوم پرست یہودی مرکزی یروشلم سے مارچ کرتے ہوئے ”عربوں کی موت ہو” کے نعرے کے ساتھ گیٹ کی جانب نکل پڑے۔

اس دوران شرکا نے فلسطینیوں کو ہراساں کیا اور "عربوں کی موت” کے نعرے لگائے اور کچھ بینرز پر یہ نعرہ لگایا: "دہشت گردوں کی ہلاکت”ان جھڑپوں کی وجہ سے اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے مابین برسوں بعد بدترین قسم کا تشدد دیکھنے کو ملا تاہم سنیچر کے روز جب کچھ مظاہرین نے ایک امن ریلی نکالی۔ اس کے بعد اتوار کو حکام نے رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ رکاوٹیں ہٹائے جانے کا حکم، مذہبی حکام، مقامی لیڈروں اور دکانداروں سے مشاورت کے بعد دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یروشلیم میں سب کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔

کشیدگی کم کرنے کیلئے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی اپیلوں کے بعد یہ اقدامات اٹھائے گئے۔ یروشلم، اسرائیلی اور فلسطینی تنازعے کا مرکز ہے، اس لئے عالمی سطح پر یہ خدشات موجود تھے کہ یہ تصادم کہیں قابو سے باہر نہ ہو جائے۔

اس حالیہ تنازعے کی وجہ اسرائیلی پولیس کا دمشق گیٹ کے باہر فلسطینیوں کے ہجوم کو اکٹھا ہونے سے روکنے کا فیصلہ تھا، جس سے فلسطینیوں میں اشتعال پھیل گیا۔ دمشق گیٹ ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی دوران، اسرائیلیوں کے اشتعال کی وجہ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وہ ویڈیوز تھیں جن میں فلسطینی نوجوانوں کو شہر میں موجود انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو مارتے پیٹتے دکھایا گیا ہے، جس پر دائیں بازو کے شدت پسند خیالات رکھنے والے سیاستدانوں نے پولیس کی جانب سے سخت اقدامات اٹھائے جانے کے مطالبات کئے۔

یاد رہے کہ اسرائیل فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرکے اور ان کی جگہ یہودی آباد کاروں کو تبدیل کرکے مشرقی یروشلم میں یہودی کی موجودگی کو بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے مشرقی یروشلم پر سن 1967 سے قبضہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بے دخلیاں اور مکانات انہدام غیر قانونی ہیں۔

فلسطین میں صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ اسرائیل کی شدید ناکہ بندی کے ذریعے غزہ پہلے ہی باقی دنیا سے الگ تھلگ ہے نتیجہ کے طور پر: اب غزنوں کا 80٪ انسانی امداد پر انحصار کرتا ہے اور پانی کا صرف 4٪ حصہ انسانی استعمال کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اسلامی ریلیف برطانیہ کے ساتھ مل کر غزہ میں پانی کے بحران سے لڑ رہے ہیں اور غزہ کے غریب ترین خاندانوں کے لئے پانی کی ٹینکیں لگائے جا رہے ہیں۔ عطیہ کرنے کے لئے لنک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.